قدرتی آفات | مذہبی عقیدہ اور سائنس ●

 

:مذہبی نکتہ نگاہ سے زلزلہ آنے کے اسباب

عورتوں کا غیر محرم کیلیئے خوشبو لگانا، غیر محرم کے سامنے عورتوں کا ننگا ہونا، اور زنا، شراب اور موسیقی کا عام ہوجانا۔
۔۔۔

:سائنسی پیمانہ سے زلزلہ آنے کے ثابت شدہ اسباب

ماہر ارضیات اور سائنسی نظریہ کے مطابق ہماری زمین سطح سے گہرائی کی جانب اوپر کی جن تہوں پر مشتمل ہے اسے Lithosphere اور Asthenosphere کہتے ہیں۔ بیرونی پرت یعنی لیتھو اسفیئر انتہائی سخت اور ٹھنڈا پرت ہے جبکہ استھینو اسفیئر مقابلتا بہت گرم تہہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے لیتھو اسفیئر کو پہچان کیلیئے سات عدد عظیم الشان تہوں یا پرتوں میں بانٹا ہے، جسے ارضیات کی زبان میں ٹیکٹونیک پلیٹس (Tectonic plates) کہتے ہیں۔ ٹیکٹونیک پلیٹس کی چہار دیواری یا حصار کو فالٹ لائن کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں فالٹ یا cracks پائے جاتے ہیں۔ ایک فالٹ لائن اپنے پڑوس کی دوسری فالٹ لائن سے ملی ہوتی ہے یا اس کے اوپر واقع ہوتی ہے۔

زیر زمین ارضیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تحت جب بڑے پیمانے پر انرجی یا توانائی استھینو اسفیئر سے نکلتی ہے تو انتقال حرارت کے اصولوں، کنویکشن اور کنڈکشن، کے تحت یہ توانائی ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے ہوتی ہوئی اسکے اطراف میں سرایت کر جاتی ہے۔ توانائی کی یہ مقدار بہت ذیادہ اور شدید نوعیت کی ہوتی ہے جو ان پلیٹس کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ توانائی کے اخراج کے ان طریقوں کی بدولت توانائی یا تو عمودی حرکت کرتی ہے یا افقی۔

ان دو حرکتوں کی وجہ سے ٹیکٹونیک پلیٹس میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ارتعاش کی یہ قوت توانائی کی قوت اور حجم پر موقوف ہوتی ہے۔ یعنی توانائی کا اخراج کم ہوگا تو پلیٹس میں ارتعاش بھی کم ہوگا اور ذیادہ ارتعاش کے نتیجہ میں زلزلہ کی شدت بھی اتنی ہی ذیادہ ہوگی۔ نتیجہ میں ہونیوالی تباہی کا زمین کے اوپر فالٹ لائن اور اسکے اطراف پر قائم مکانیت کی تعداد اور زلزلہ کی روک تھام کے معیار سے بالواسطہ تعلق ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں شدت کے زلزلہ کے باوجود کم ہلاکتیں اور نقصانات ہوئے برعکس ان جغرافیائی علاقوں کے جہاں روک تھام کا بندوبست کماحقہ نہیں کیا جاسکا تھا ۔۔۔ مثلا ناقص زلزلہ پروف تعمیرات، بعد از زلزلہ فوری امدادی کام اور طبی امداد بہم نہ پہنچانا وغیرہ۔

وہ علاقے جہاں زلزلے آتے رہتے ہیں وہ انہی ٹیکٹونک پلیٹس پر یا اسکے اریب قریب واقع ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین پر مختلف جغرافیائی ٹکرے ایسے ہیں جو ان ٹیکٹونیک پلیٹس اور انکے فالٹس سے یا تو پرے ہیں یا درمیان میں واقع ہیں۔ جہاں یا تو زلزلہ کی شدت نہیں پہنچتی یا بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان علاقوں میں روس کا علاقہ، مشرقی یورپ مثلا ایسٹونیا، دیگر یورپی ممالک؛ مشرق وسطی، مشرق بعید میں سنگاپور اور انتہائی شمالی ایشیا کے ممالک؛ بحرالکاہل کا ایک بہت بڑا حصہ، جنوبی اور شمالی امریکہ کا وسطی اور شرقی علاقہ اور اسکے علاوہ افریقہ اور آسٹریلیا وہ زمینی خطے ہیں جہاں زلزلہ کا خطرہ یا تو نہیں ہے یا بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا اور فلوریڈا بھی زلزلہ کی اثر انگیزی سے دور ہیں۔ اسکی وجہ ان جغرافیائی خطوں کا ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے پرے واقع ہونا ہے۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ علاقے جہاں زلزلے کے اثرات نہیں پہنچتے یا بہت کم پہنچتے ہیں، کیا وہاں مذہبی نکتہ نگاہ والے گناہ سرزد نہیں ہوتے؟ کیا امریکی و افریقی سرزمین، آسٹریلیا، اور یورپی ممالک میں ننگا پن، زنا، شراب اور موسیقی کا اختتام ہوچکا؟ کیا وہاں سارے لوگ کفر سے تائب ہوکر مومنین اور مصلحین کے درجہ پر فائز ہوچکے؟ یا وہ جغرافیائی خطے مذہبی عقیدہ پروف ہیں؟

افسوس کا مقام یہ ہے کہ سائنس کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب جب اس قسم کی باتوں کو وجہ تسمیہ کہتے ہیں اور اسکا پرزور پروپیگنڈہ کرتے ہیں تو ہم جہادی اور طالبانی کلچر کو کس منھ سے غلط کہیں گے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں، یونیورسٹی اور اعلی تعلیمی اداروں سے جہادی بن کر نکلنے والے ایسے ہی اساتذہ کی زیر نگرانی تیار ہوئے ہوتے ہیں۔

مذہب کو سائنسی توجیہات کیساتھ غلط ملط کرنے سے مطالعہ پاکستان والی نسل ہی پیدا ہوگی، جو پھل، سبزی، پہناوے، پرندے، موسیقی اور رنگ کو اسلامی لباس پہنائینگے۔ اسی لیئے ہمارے ملک میں سائنس، طبیعات اور کیمیاء جیسے مضامین کو اسلامی شہد سے غسل دے کر رنگ برنگی پگڑی پہنادی جاتی ہے، جن کی معلومات مطالعہ پاکستان کی حدود میں قید رہتی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب برصغیر کی ایک بہت بڑی آبادی اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگ پر اٹھا رکھا ہے۔ جب بیل تھک کر سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ واقع ہوتا ہے۔ آج کے دور میں بھی بے شمار لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ زمین گول نہیں چپٹی ہے۔ اور آج بھی ایسے مذہبی عقیدے والے موجود ہیں جو زمین کے چپٹے پن کو درست سمجھتے ہیں۔ حتی کہ مذہبی کتابوں تک میں یہ چپٹا پن چینخ چینخ کر اپنے بونے ہونے کا ثبوت پیش کررہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو انسانی قدم کے چاند پر پہنچنے کو فاسد مانتے ہیں لیکن اگلی ہی سانس میں نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر اذان سننے پر ایمان لے آتے ہیں۔ بادلوں، روٹی اور بیگن میں لفظ اللہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

“!اور تم کن کن نعمتوں کو ٹھکراوگے”
سائنس بھی ایک نعمت ہے، اگر سمجھیں تو! مذہبی عقیدہ اپنی جگہ مگر عقائد کو ثابت شدہ سائنس توجیہہ سے ملانا فکری جہالت کا بلند ترین درجہ ہے۔


جاوید اختر ○

سنہ 2035 کا آئینہ

سنہ 2035 کا آئینہ

:ماضی قریب کے حکومتی اقدامات اور روپہلے فیصلوں کا نتیجہ

“ملک میں سیاسی فہم کا دور دورہ تھا”
“معاشی اشاریئے ترقی کی نوید سنا رہے تھے”
“سفارتی محاذ پر کامیابیاں حکومت کے قدم چوم رہی تھیں”
“عوامی بہبود کے پروگرام سے فلاحی مملکت کے قیام کی راہ ہموار ہورہی تھی”
“مملکت کے تمام ستونوں میں ہم آہنگی تھی”
“وسائل کی بہتات تھی”
“بین الاقوامی محاذ پر تعلقات کی برابری کے سنہرے دور کا آغاز ہوا تھا”
“انصاف سستا اور حصول آسان تھا”
“ہر قسم کی اشرافیہ، منتخب جمہوری حکومت کے ماتحت تھی”
“ادارے توانا اور خود مختار تھے”
“میرٹ کا دور دورہ تھا”
“سیاسی اور حکومتی سطح پر کرپشن نہ ہونے کے برابر تھا”
“عوامی روز مرہ استعمال کی اشیاء وافر اور ارزاں قیمت پر دستیاب تھیں”
“اشیاء کی درآمد و برامد کا حجم ملکی مفاد میں تھا”
“معاشی پالیسیوں کے مثبت اور تسلسل کے طرز عمل سے زر مبادلہ وافر مقدار میں دستیاب تھا”
“ڈالر کے مقابل روپیہ کی قدر مستحکم ترین حالت میں تھی؛ 1 ڈالر تقریبا 50 روپے کے برابر آچکا تھا”
“مسلم امہ میں پاکستان کا مقام دو طرفہ بنیاد پر عزت اور رکھ کھاو کا تھا”
“معاشی ترقی میں پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان سے آگے نکل چکا تھا”
“طبقاتی، نظریاتی اور مذہبی ہم آہنگی عروج پر تھی”
“سیاسی انتقام کا شائبہ تک نہ تھا”
“نفرت اور تعصب کی بنیاد پر کیئے گئے فیصلے واپس کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو کھلے عام کام کرنے کی آزادی دی گئی تھی”
“صوبوں کو وفاقی دولت میں اسکا جائز حصہ دیا گیا تھا”
“ملک کے تمام انتطامی ڈویژن کو صوبوں کا درجہ دے دیا گیا تھا”
“انتظامی اصلاح کے ذریعہ تمام صوبے اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوگئے تھے”
“نہ تو جبری بندش تھی؛ نہ ضمیر کے قیدی اور نہ ہی سوشل ایکٹیوسٹ کسی انتقام کا شکار تھے”
“لوگو کی حب الوطنی پر شبہ گناہ اور جرم شمار کیا جاتا تھا”
“سرکاری سطح پو مذہب کی تبلیغ شجر ممنوعہ قرار دے دی گئی تھی”
“مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیا گیا تھا”
“اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں ریاست نے ایک ماں کا کردار ادا کیا تھا”
“عسکری اشرافیہ سمیت کسی بھی ذیلی ادارے کو ملکی اور حکومتی کارہائے پر ازخود بیان دینے یا ٹوئیٹ کرنے پر پابندی تھی”
“ٹوئیٹ پالیسی کو ناپسندیدہ طریقہ کمیونیکیشن سمجھا جاتا تھا۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کے ذیلی اداروں کے ٹوئیت اکاونٹ ختم کر دیئے گئے تھے”
“حکومتی عہدیداروں کے یو ٹرن والے بیانات کو قانونی گرفت میں لاکر منافقت والا بیانیہ قرار دیا گیا تھا، جس کی سزا مقرر کی گئی تھی”
“مدنی ریاست کا آلاپ کرنے کی ممانعت تھی”
“مسئلہ کشمیر پر ، ٹوئیٹ کرنے، آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے اور وزیر خارجہ کی دوہائی کے بجائے فیصلہ کن کردار ادا کیا گیا تھا، جسکے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف امن ہی امن قائم ہوگیا تھا”
“چونکہ عسکری قوتوں کو جمہوری حکومت کے تابع کردیا گیا تھا اسطرح نا صرف ڈی ایچ اے کے تمام پراجیکٹس حکومتی تحویل میں آچکے تھے بلکہ عسکری اداروں کے من جملہ تمام تجارتی منصوبوں کی اونرشپ جمہوری اداروں کے ماتحت کردیئے گئے تھے”
“پڑوسیوں سے بہترین تعلقات کے نتیجہ میں پائیدار امن قائم ہوچکا تھا اسلیئے فوجی بجٹ میں 50 فیصد سے زائد کٹوتی کر کے بچنے والی رقم تعلیم کے فروغ اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیئے جانے لگے تھے”
“عسکری اور عدالتی عدم ایکٹیویزم کے نتیجہ میں عوام کے ذہنوں سے سرخیل اور عادل وقت کا نام مٹ چکا تھا”
اور __
حکوتی بیانیہ کے مطابق اکتوبر 2016 میں شروع ہونیوالا پشاوربی آر ٹی کا منصوبہ سنہ 2038 میں پایہ تکمیل کو پہنچنے کی قوی امید تھی۔
۔۔۔

مسقبل کے مورخ کو وقت کی دستیاب سیاہی ڈھونڈنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا کہ شغلیہ حکومت کے کسی ایک کام کی بھی مدح سرائی کی جاسکے۔

جاوید اختر ○

!جھولا

!جھولا ●
۔۔۔
جھولوں سے کون نہیں واقف؟ ہم میں سے ایسا کون ہوگا جس نے اپنی عمر کے کسی حصہ میں جھولوں کا لطف نہ لیا ہوگا۔ بچے تو خیر جھولوں کے دیوانے ہوتے ہی ہیں لیکن بڑے بھی جھولوں سے پینگیں بڑھانے سے باز نہیں آتے، بس نظر آنے کی دیر ہے۔ اگر بچوں کو اس شوق سے علیحدہ بھی کردیں تو خواتین کو کیسے نکالیں گے؟ باغوں میں خواتین ہوں اور جھولے خالی نظر آجائیں، یہ ہو نہیں سکتا۔ اور اگر بارش کی رم جھم ہو تو جھولوں کی پینگیں، گلگلوں کے تھال اور ہماری خواتین، یہ تین عناصر سرکشی پر اتر اتے ہیں۔

جہاں پینگیں بڑھاتے تھے شجر وہ یاد کرتے ہیں
وہ جھولے پوچھتے ہیں اب تمہیں ساون بلاتا ہے
(دویش دکشت)

جھولے کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر سبھی ہوا باز ہوتے ہیں، ہواوں سے باتیں کرتے ہیں۔ گھر کے صحن میں لگے ہوں یا پارک کے کونوں میں، دالان میں ایستادہ ہوں یا دادی جی کیلیئے مکان کے برآمدے میں چھت سے لوہے کے کنڈوں سے لٹکے ہوئے، دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، بلاتے ہیں، اپنی گود وا کردیتے ہیں۔ اپنے بازو پھیلا کر اس میں سمانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر جھولا لینے والوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ آگے کی طرف کتنا جاتا ہے اور اسی طرح پیچھے کتنا!

زمانہ جدید میں جھولوں کی کئی اقسام ہیں جن میں خاص طور پر الیکٹریکل طویل قامت جھولے جس میں بیٹھنے کے بعد افسوس ہوتا ہے کہ کیوں بیٹھے۔ چیخیں تو چیخیں، جان تک نکل جاتی ہے۔ اور تو اور بعض اوقات پیشاب تک خطا ہوجاتا ہے۔

سچ پوچھیئے تو جھولوں میں کیا رکھا ہے، اسکے ہچکولوں میں ہی تو لطف ہوتا ہے۔ مذید یہ کہ جھولا کوئی بھی ہو، اسکا انداز، برتاو، اور اسکی ہیئت، اسکا استعمال ہم انسانوں کو ایک سبق بھی دیتا ہے۔ غور کریں تو جھولا ہماری زندگی کے معاملات پر اسطرح منطبق ہوتا ہے کہ اس کا ہر ہچکولا (oscillation) یہ کہتا ہے کہ زندگی کبھی اوپر جانے کا نام ہے تو اسی زندگی میں نیچے بھی آنا ہوتا ہے۔ ہمیشہ اونچائی کا ساتھ نہیں رہنا۔ جس طرح جھولے میں دھکے کی قوت کے ساتھ جو اسراع (acceleration) پیدا ہوتا ہے، اسی اسراع کے تحت زندگی کا جھولا پھر نیچے کی طرف بھی آتا ہے۔ جھولے پر بیٹھنے والے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اونچائی پر جانے سے پیدا شدہ اسراع کےجن کو کیسے قابو کرتا ہے۔ اس کا مثبت استعمال زندگی کے جھولے میں نیچے کیطرف آتے ہوئے متانت، سنجیدگی، فہم و فراست سے بھرپور عمل اور سوچ کے زاویئے اسے اونچائی سے گرنے نہیں دیتے۔

نہیں ہے مرجع آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
انسان جب تک جھولے کے ہچکولے سے لطف اندوز ہوتا ہے، بھول جاتا ہے کہ اسے ایک دن نیچے بھی آنا ہوگا۔ اپنی اڑان، اپنی مستی میں وہ دنیا میں رہنے کے آداب اور اسکے تقاضے بھول کر خود کو ارفع و اعلی تصور کرتا ہے۔ حالانکہ زندگی کے حوادث کا ایک جھٹکا اسے عرش سے فرش پر لے اتا ہے۔ ایک دن اسکا تنا ہوا بدن، اسکا تنومند جسم، جوانی سے بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہر عمل اسے آہستہ آہستہ خاک کی جانب کھینچ رہا ہوتا ہے۔ مگر وقت اسوقت انسان کے ہاتھ سے ریت کی طرح سرک چکا ہوتا ہے۔

جھولے سے لطف اندوز ہونا ہم سب کا حق یے مگر، مرجع آدم کی منزل ہمیشہ پیش منظر ہو تو کیا ہی بہتر ہو۔

!زندگی چند روزہ ہے۔ موت برحق یے۔ مگر حسن اخلاق اور حقوق العباد پر تیقن کا تحفہ ہی احسن ہے
۔۔۔
جاوید اختر ○

ماموں •

ماموں •


دو سال پہلے خاندان میں شادی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجھے شادی کے لئے ایک خوبصورت لڑکی سے ملوایا گیا۔ ملنے کے بعد لڑکی نے میری پرائیویٹ نوکری کو لیکر نا پسند کرتے ہوئے مجھے انکار کر دیا۔ میں نے زچ ہو کر کہا تم غلطی کر رہی ہو، دیکھنا یہی نوکری محض دو سالوں میں مجھے کتنی بلندی تک پہنچائے گی۔ البتہ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی ہوگئی جو ہونی ہی تھی۔

چار سال بعد ___

اسی خوبصورت لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ برانڈ نیو آوڈی کار میں دیکھا۔ اس وقت میں اپنی بائک کو کک مار رہا تھا کیونکہ اس کی بیٹری کام نہیں کر رہی تھی۔ اس نے اپنی کار سے میری طرف دیکھا لیکن سر پر ہیلمیٹ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہ سکی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اس وقت مجھے ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس ہوا، لہذا اپنی حفاظت کے لئے ہیلمیٹ ضرور پہنیں، جو آپ کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھائے گا، کبھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیگا۔

“چناچہ براہ مہربانی موٹر سائیکل چلانے وقت ہیلمیٹ کا استعمال ضرور کریں۔”

مضمون  کا اوپری حصہ کاپی شدہ ہے۔

آخری  جملہ کو اگے بڑھاتے ہوئے میری تحریر پڑھیئے۔ یہ تحریر نہیں، بہت سے نوجوانوں کا نوحہ ہے۔

 ___ ۔۔۔اور کہانی آگے کچھ یوں ہے کہ

وہ لڑکی تو اپنے شوہر کیساتھ آگے چلی گئی۔ میں ہیلمٹ کے اندر حسرت و یاس کی تصویر بنا آوڈی ایس 8، 2018 ماڈل، سیکنڈ جنریشن کی ٹیل لائٹ کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ آوڈی کیا گئی جیسے جاتے جاتے میرے کھوکھلے دعوں کی پول پٹی کھول گئی ہو۔ ہیلمٹ کے اندر میرے چہرے سے پھسلتے عرق انفعال کے قطرے گویا میری عزت نفس کی غسل میت کا کام کر رہے تھے۔  

 ___ پھر اچانک ہی میرے اندر کا غیور انسان بیدار ہوا اور میں خود سے بڑبڑا نے لگا

یہ دولت، مال و اسباب، یہ زر و زن سب مایہ ہے، چند روزہ ہے۔ اصل دولت اور گوہر نایاب تو وہ تسکین ہے جو سی ڈی 70 چلانے والوں کو حاصل ہے۔ دولت کے بل پر ایک نہیں کئی آوڈی خریدی جاسکتی ہیں لیکن غیرت کے بل پر ایک سی ڈی 70 کی سواری سے حاصل ہونیوالی خودی کی دولت، یہ اونچی کوٹھی والے کیا جانیں۔ میرے نذدیک یہ سب دنیاوی ہے۔ ہاتھ کا میل ہے۔ دل کا سرور نہیں۔ جو اطمنان و سکون اس کھٹارا موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہیلمٹ کے اندر حاصل ہے، آوڈی میں بیٹھنے والی لڑکی کو اس کا ادراک ہی نہیں ___ جاہل کہیں کی؛ اچھا ہوا میری زندگی میں آئی ہی نہیں۔

انہی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ کسی نے میرا شانہ تھپتھپایا۔ پلٹ کر دیکھا تو کوئی موٹر سائیکل سوار تھا اور ہاتھ میں پستول۔ میں سمجھ گیا کہ اج قربانی کا دن ہے۔ اور مجھ سے بھی ذیادہ اس غریب کو ایک موبائل کی ضرورت ہے۔ چند لمحوں پہلے کی غیرت و حمیت ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی، کسی غریب کی مدد کا جذبہ ابھی غالب تھا۔ موبائل اسکے حوالے کیا۔ شائد اس کی ضرورت ذیادہ تھی۔ پرس اور ہاتھ کی گھڑی بھی اس پر وار دیا۔ شکر ہے بڑا ہی قناعت پسند بندہ تھا ورنہ اسے موٹرسائیکل کی بھی ضرورت پڑسکتی تھی۔

غمگین دل کیساتھ کک ماری اور ان انکھوں سے بچتے ہوئے موٹر سائیکل گیئر میں ڈال دی جو میرے جذبہ امداد غریباں کو ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ گویا ان انکھون کا کہنا تھا کہ بھائی آپ بھی غریبوں کے اتنے ہی ہمدرد ہیں۔ مبارک ہو ہم سب ساتھ ساتھ ہیں۔

جانا کہیں تھا لیکن راستے کے حوادث نے نجانے کہاں دھکیل دیا۔ غلط راستہ کا انتخاب شائد جان بوجھ کر کیا تھا اوڈی والا رستہ میرا نہیں۔ مجھے اپنا رستہ خود بنانا ہے۔ لیکن اندر کسی چیز کے ٹوٹنے کی اواز آرہی تھی۔ خلش تھی یا انا، پتہ نہیں لیکن کچھ تو تھی جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ ایسے میں ایک دفعہ پھر میرا ہیلمٹ میرا سہارا بنا ورنہ لوگ بے وجہ میری اداسی کا سبب پوچھتے پھرتے۔سبب پوچھتے پھرتے۔

بجھے دل کیساتھ رستہ طے کیا۔ منزل تھی اپنا گھر۔ موٹر سائیکل اسٹینڈ کے سہارے کھڑی کی اور اندر داخل ہوا۔ اندر سے شور کی آوازیں آرہی تھیں۔ بچوں کا شور۔ غالبا باجی آئی ہوئی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی با اواز بلند نعرہ سنائی دیا۔

___ !ماموں آگئے

یہ بتانا تو بھول گیا کہ میں ایک چھوٹی سی نوکری کرتا ہوں۔ چھوٹی نوکری نہ ہوتی تو موٹر سائیکل کے بجائے کار ہوتی۔ گزارا مشکل تھا اس لیئے فارغ وقت میں ٹیوشز کرتا تھا۔ جب سے روپے کی ویلیو کم ہوئی تھی، اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جارہی تھیں۔ بیگم کے نخرے پورے کرنے کے واسطے نئی ٹیوشن کی تلاش تھی۔ انٹرویو کا بلاوا آیا تھا۔ پتہ سے امیروں کا محلہ معلوم ہوتا تھا جہاں کے 2000 ہزار گز کے ایک پلاٹ میں ہمارے 60، 60 گز کے 30 سے زائد پلاٹ نکل آئیں۔ کسی تیسری کلاس کی بچی کے لیئے ٹیوشن کی تلاش تھی۔

ڈھونڈتا ڈھانتا دیئے گئے پتہ پر پہنچا۔ مکان کیا تھا، خوابوں کا محل تھا۔ باہر گارڈ تعینات تھے۔ دو گاڑیاں بھی کھڑی نظر آئیں۔ نظر سے اوجھل رکھنے کیلیئے میں نے اپنی کھٹارا دور پرے کھڑی کی۔ گارڈ کو بتایا کہ انٹرویو کیلیئے مدعو ہوں۔ گارڈ نے کہا کہ صاحب لوگ تو گھر پر نہیں ہیں۔ میرے زور دینے پر گارڈ نے اندر سے معلومات لی اور بتایا کہ صاحب نے کہا ہے کہ مجھے اندر بٹھایا جائے۔ وہ لوگ جلد آنے والے ہیں۔ برے وقت میں کام آنے والے ہیلمٹ کو گارڈ روم میں رکھ کر میں اندر ‘تشریف’ لے گیا۔ اپنے بارے میں، میں کوئی حسن ظن نہیں رکھتا، لیکن اتنے بڑے محل میں میرا اندر جانا “تشریف” لیجانے سے کم بھی نہ تھا۔

دوران انتظار چائے اور بسکٹ سے تواضح بھی کرائی گئی۔ چائے تو تعویذ والی تھی، بد مزا۔ کوئٹہ والے ٹی اسٹال سے چائے پینے والے کیلیئے زہر تھا۔ البتہ بسکٹ خاصے اچھے تھے۔ رائل برانڈ کے بسکٹ تھے۔ بسکٹ کے بجائے کوکیز کہنا بہتر ہوگا۔ آنکھ بچا کر ٹشو میں لپیٹ کر چار چھ کوکیز جیب میں بھی ڈال لیئے، زاد راہ کے طور پر۔

چند منٹوں کے بعد خدمتگار نے صاحب کے آنے کی اطلاع دی اور اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ دالان سے گزر کر ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور صاحب کو اطلاع کیلیئے اجازت مانگی۔ دو منٹ بعد ہی جو صاحب اندر داخل ہوئے، ایک جھماکا سا ہوا کہ کہیں پہلے بھی دیکھا ہے۔ کہاں! فوری طور پر یاد نا آسکا۔

ابھی اسی سوچ میں تھا کہ صاحب خانہ نے اپنا تعارف کرایا۔ عدنان نام تھا انکا اور شہر کے ایک بڑے صنعتکار تھے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ صاحب خانہ کی بیگم ایک چھوٹی بچی کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوئیں۔ انہوں نے مجھے اور میں نے انہیں دیکھا۔ مجھ پر تو گویا منوں ٹنوں پانی پڑ گیا۔ خاتون خانہ کوئی اور نہیں، وہی تھیں جنہوں نے مجھ ٹھکرا کر ایک امیر و کبیر سے شادی کر لی تھی۔ میری سوچیں ٹھہر سی گئی تھیں۔ جی وہی جو ایک سگنل پر آوڈی میں بیٹھی دکھائی دی تھی۔ عدنان اسکے شوہر نامدار تھے۔ میری انکھیں پتھرا سی گئی اور کانوں میں سیٹیاں بجنے لگیں تھیں۔ گویا کسی نے اسم اعظم پھونک کر پتھر کا بنا دیا تھا۔

حواس بحال ہوئے تو جو آواز کانوں کو پڑی وہ کچھ اسطرح تھی

” !!!بیٹا یہ انکل ہیں آپکے۔ یہ آپکو پڑھائینگے ___ چلو، شاباش، سلام کرو ‘ماموں‘ کو”


جاوید اختر ○

زیر جامہ

زیر جامہ ●


جیسا کہ صفت سے ظاہر ہے، زیر جامہ کا استعمال لباس کے نیچے ہوتا ہے۔ اسکا اوپری استعمال انسان کو مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ سوپرمین کا لباس۔ صرف تفریح کیلیئے۔ ہم عام ذندگی میں سوپرمین کیطرح زیر جامہ کو لباس کے اوپر کبھی استعمال نہیں کرتے۔ اگر ایسا کریں تو ہماری ذات دنیا کیلیئے تماشہ اور مضحکہ خیزی کا باعث ہوگا۔

زیر جامہ کا انتخاب ہمارا خالص ذاتی فعل ہوتا ہے۔ اسکا رنگ، معیار، بناوٹ، پیمائش اور تراش خراش ہمارے جسم کی ساخت اور ہماری پسند کا ہوتا ہے۔ ہر معنوں میں زیر جامہ لباس کا ایسا ایک حصہ ہے جسے پہن کر ہم خود کو مطمئین رکھ سکیں۔ اپنی آسانی کے مطابق استعمال کرسکیں۔ ذاتی اطمنان کے مطابق چاہیں پہنیں یا نا پہنیں، اپنی صوابدید پر ہوتا ہے۔ اسکو خریدتے اور استعمال کے وقت ہمیں دوسروں کی تائید اور نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

میری سوچ کے مطابق مذہب اور اس کے عقائد انڈر گامنٹس کی طرح ہوتے ہیں۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت کرنا اور عبادت کے طریقے اپنانا ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ویسے بھی مذہب ایک بہت ہی نجی اور جبلی معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں دکھاوے اور دوسروں پر اپنی پسند اور اعتقاد ٹھونسے میں ہمارا مزاج شاہانہ ہے۔ یعنی جس مذہبی معاملات کو ہم درست سمجھتے ہیں، بزور طاقت دوسروں پر تھوپنے میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔  ہر مسلک کی مذہبی رسومات (rituals) نا صرف مختلف ہوسکتی ہیں بلکہ ہوتی ہیں۔ ان رسومات اور ان سے جڑے عقائد کی وجہ سے مسلکیں وجود میں آئیں ہیں۔ مسلکی رسومات، غلط یا درست، اس سے بحث نہیں، مگر خود سے ذیادہ دوسروں کو ان رسومات کی تبلیغ والی سوچ اور عمل معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتی ہے۔

گئے وقتوں سے ادھار لیکر زمانہ جدید کے سماج اور معاشرے میں یہ قبیح فعل اس حد تک رچ بس گیا ہے کہ اگر کوئی ہمارے طریقہ عبادت پر عمل نا کرے تو اسے اپنے مذہب، دین اور مسلک سے خارج سمجھتے ہیں۔ حتی کہ اس پر معاشرتی پابندیاں تک عائد کرنے سے نہیں چوکتے۔ بات یہیں تک نہیں، ایسے لوگوں سے ہم جینے کا حق تک چھین لیتے ہیں۔ وہی حق جو ہر مذہب ہر انسان کو برابر کا دیتا ہے۔ برابری کے اس ناپ تول میں ہم اپنے مسلک اور سوچ کا باٹ استعمال کرنے کو اپنا حق جانتے ہیں۔ چاہے وہ کھوٹا ہی کیوں نا ہو۔

یہ تو رہی مذہب کو اپنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا ذاتی، افرادی اور احسن طریقہ، جس سے کسی دوسرے کو نا تو تکلیف ہوگی اور نا ہی نفرت و عداوت کی پرورش۔ اپنا عقیدہ نہ چھوڑتے ہوئے دوسروں کے عقیدہ اور فلسفہ اعتقاد کو نہ چھیڑنا ہی امن، محبت، پیار اور بھائی چارگی کا ضامن ہے۔

انفرادی اعمال مل کر ہی قومی اور ملی دستور میں ڈھلتے ہیں۔ یہی کچھ معاشرہ کے زعماء اور سرکردہ رہنماوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ باوجود اسکے کہ یہ رہمنا کسی نا کسی مسلک اور مذہب کے پیروکار ہونگے، لیکن اپنی ذات کی حد تک۔ جب انکی ذات گھر سے باہر نظر ائے تو اسطرح کے انکا زیر جامہ دکھائی نہ دے۔ اپنے اعتقاد کو اگر یہ رہنماء اپنی ذات کے حدود میں قید رکھیں تو معاشرے میں انکا اعتقاد اور طرز عبادت ظاہر نہیں ہوگا۔ ہاں اگر کچھ ظاہر کرنا بھی پڑے تو صرف وہ اعمال جو دوسروں کیلیئے باعث تقلید ہوں۔ جیسے انسانیت کے اعلی اصولوں پر چلنا، دامن اخلاق و تہذیب کو چہار سو پھیلانا، حق کی طرفداری کرنا، حق داروں کا حق ادا کرنا، محبت اور یگانگت فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا، بھلائی کے پیمانوں پر پورا اترنا، برائی اور جہالت کیخلاف اجتہاد کرنا، یتیموں اور مساکین کی خبر گیری کرنا وغیرہ۔ کرنے کے اچھے کام تو بیشمار ہیں پھر بھلا ان کاموں میں کیوں خود کو دھکیلیں جن سے دوسروں کو تکلیف اور اندیشہ سر پھٹول ہو۔

اچھائی کے کام انسانیت سے وابسطہ ہوتے ہیں نا کہ صرف مذہبی عقائد اور اسکے اعلانیہ تشریحات سے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مذہبی رسومات کا علی العلان اظہار کئی غلط فہمیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ جبکہ اسکی پوشیدگی سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سر فہرست معاشرتی سدھار سے حاصل ہونے والی افادیت ہے۔ اگر ہمارے سرکردہ رہنماء اسکو سمجھ لیں تو بیشمار غیر ضروری غرض و غایت سے نجات مل سکتی ہے۔

میں نے عرض کیا کہ مذہب اور اسکی پیروکاری انتہائی ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے۔ یہی اصول حاکم وقت، ایوان حکومت، سیاسی رہنماوں اور ان سے جڑے وہ تمام خانوادے جن کی عوام تقلید کرتے ہیں، پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بلکہ ان مقدم لوگوں پر اسکا اطلاق اور ذمہ داری ذیادہ ہی ہوتی ہے کہ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد انکی تقلید کرتی ہے۔ رہنماوں کی ہر حرکت ایک پیروکاری کی ایک نئی لہر کو جنم دیتی ہے۔ مثلا اگر انکی گفتگو مین عامیانہ پن ہوگا تو عوام ان سے براہ راست متاثر ہوگی۔ اگر انکے اقدامات سے ملکی خزانہ کو نقصان ہوگا تو عوام بھی انکی تقلید کرتے ہئے اپنی بساط کے مطابق چوری کیطرف راغب ہوگی۔ جس کا جتنا بس چلیگا، وہ اپنا حصہ “کار خیر” میں ڈالے گا۔

آج کا معاشرہ اچھائیوں اور برائیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مزاج ہر معاشرہ کا حصہ ہوتا ہے مگر اسکے مزاج کو سنوانے اور بگاڑنے میں حاکم وقت اور ملکی رہنماوں کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ ارد گرد کے معاشرے پر نظر دوڑائیے، ماسوائے برصغیر، وہ تمام معاشرے جہاں خوبیاں اور اچھائیں نظر اتی ییں، وہ وہاں کے حکمرانوں، انکے اداروں، اداروں کے فیصلے، اشرافیہ کیطرف سے قوانین کا احترام اور بلا تخصیص گوشمالی نے ان معاشروں کو وہ فضیلت عطا کی یے جس کی وجہ سے انکو مثالی معاشرہ کا لقب دیا گیا ہے۔ ایسے معاشرے فلاحی ریاست (welfare state) کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان معاشروں میں عوام کی جان و مال کی حفاظت اور عزت نفس کا نہ صرف خاص خیال رکھا جاتا ہے بلکہ اسے اولیت دی جاتی ہے۔ ایسے اقدامات کیئے جاتے ہیں جو معاسرتی برائیوں کی روک تھام میں ممد و معاون ہوں۔ اور اچھائیوں کی نشر و اشاعت کا بھرپور انصرام بھی ہوتا ہے۔

:ایک صدی پہلے جارج برنارڈ شا نے کہا تھا
Democracy is a device that insures we shall be governed no better than we deserve. (George Bernard Shaw)
جمہوریت وہ طریقہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہمارے حکمران، ہماری اپنے استحقاق سے بہتر نا ہوں۔

مغربی اور مشرقی دنیا کیلیئے یہ قول آج بھی تروتازہ ہے بلکہ عین منطبق ہوتا ہے۔ مغربی معاشرہ کا اخلاقی طور طریقہ عمومی طور پر بہتر ہے۔ اور ہمارا معاشرہ اس کا الٹ ہے۔ جارج برنارڈ شا کے قول کو اگر معاشرتی اشاریئے اور اس کے ارفع پیمانوں پر تولیں تو ہمارا معاشرہ آج بھی زیر تعمیر ہے۔ ایسے معاشرے کے حکمراں معاشرتی اکائیوں کا عکس ہیں۔ دونوں معاشروں کا تقابلی جائزہ فرق کو واضح کرتا ہے۔

پانی ہمیشہ اوپر سے نیچے کی سمت بہتا یے۔ صاف اور میٹھے پانی سے سیراب ہونیوالی زمین سے اناج، پھل، پھول اور شگوفے پھوٹتے ہیں۔ اگر پانی کھارا اور شور ذدہ ہو تو نا صرف فصل برباد کرتا ہے بلکہ گھاس پونس تک کو جلا دیتا ہے۔ ایسے پانی کی سیرابی سے کیکر کے کانٹے تو پیدا ہوتے ہیں، رسیلے پھل نہیں۔
:بقول اکبر الہ آبادی
“استاد ٹھیک ہوں، کہیں ‘استاد جی’ نہ ہوں”

ان تمام باتوں کو گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکمران اور رہنما اپنے چلن درست رکھیں تو امید قوی ہے کہ عوام الناس بھی ایک وقت ائیگا کہ راہ راست اختیار کرینگے۔ معاشرہ کیلیئے کارآمد شہری بنینگے۔ حکمران ٹیکس دینگے تو عوام کو بھی راغب کیا جا سکے گا۔ چوروں، ڈاکوؤں کو کماحقہ سزا، اور انصاف کی دیوی کے آنکھوں کی پٹی برقرار رہے تو معاشرتی برائیوں کا سر کچلا جا سکے گا۔ خطاوار چاہے کتنا ہی قریبی عزیز یا اثر و رسوخ والا کیوں نا ہو، سزا کا مستحق ہونا ضروری بنا دیا جائے۔ ناداروں اور حقداروں کو بلا تخصیص دہلیز پر انکا حق دیا جائے، انصاف کا حصول سستا اور جلد بنادیا جئے، تمام طبقات کیلیئے ملکی دولت اور فوائد کی تقسیم میں ڈندی نا ماری جائے۔ معاشرے کی ہر اکائی کیلیئے ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیئے جائیں۔ جنس، نسل، زبان، علاقہ، مذہب اور طبقاتی فرق کو خاطر میں لائے بغیر صرف اور صرف میرٹ کو واحد طریقہ رائج کیا جائے تو وجہ نہیں کہ معاشرے سے نفرت، کدورت اور ذیادتی میں کمی واقع نا ہو۔

اچھی فصل کیلیئے نلائی گوڈی اور بہتر کھاد کا استعمال اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ فصل بھی اچھی ہوگی۔ بہتر معاشرے کی ترتیب میں بھی یہی عنصر کارفرما ہوتا ہے۔ معاشرہ کی مثبت نشو نما کیلیئے تربیت و ذہنی بالیدگی میں زعما اور رہنماوں کی باعمل شرکت حرف اخر ہے۔


جاوید اختر ○

معاف کرو بابا ● 

معاف کرو بابا ● 


چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میں سبحان اللہ کے مصداق سوشل میڈیا پر 60 سے 70 فیصد کی جانے والی بے سروپا باتیں اپنی جگہ مگر جب بڑے میاں، یعنی مین اسٹریم میڈیا پر ایسی گفتگو سننے اور پڑھنے کو ملے تو صاحبان عقل و خرد پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مثلا
¤ کیا عمران خان کو موقع ملنا چاہیئے!
¤ دوسری پارٹیوں کو کئی مواقع دیئے گئے، ایک موقع پی ٹی ائی کو دینے میں کیا ہرج ہے!
¤ دیگر پارٹیاں تو اسٹیس کو کا شکار ہیں، ایسے میں پی ٹی ائی ہی اسٹیس کو کو توڑ سکتی ہے۔ ایک موقع تو اسکا بنتا ہے!
اس طرح کے بھانت بھانت کے رنگ رنگیلے بیانات و اعلانات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ دماغ کا فیوز اڑ جاتا ہے۔ اگر بیانیہ دینے والوں کا شجرہ نسب کھنگالا جائے تو پیچھے سے یا تو کوکینی نسل کے ہونگے یا بوٹ پالش کے قبیلے سے، یا پھر سوشل میڈیا کے دودھ کے دانت والے نابالغ چغادری۔
جب کل تاویلات کا تمت بالخیر ہوجائے،
جب منطق کی میم قاف دھنیا پی کر پلنگ توڑنے چلی جائے،
جب ایک مخصوص رنگ والی شیشے کی عینک ہی شہر کے دکانوں میں بکتی ہو،
جب بولنے والے لب پر تالے لگے ہوں،
جب سوچنے والے دماغوں پر چیری بلاسم کی تہہ چڑھا دی جائے،
جب سوال کرنے والوں پر تہمت دھری جائے اور سامری جادوگر کے اشلوک کے زور سے غائب کردیا جائے،
جب دھرنا ناکام ہوجائے،
جب ایمپائر کی شہادت والی انگلی درمیانی انگشت میں بدل جائے،
جب بابا رحمتے کو بیک ڈور سے ہدایات کے نتیجے میں پانامہ پاجامہ میں تبدیل ہوجائے،
جب ایک منتخب عوامی نمائندہ کے اقامہ کی بتی بنادی جائے، اور پھر اسی بتی کو اگربتی بناکر کوکین بابے کو صادق و امین کی دھونی لگائی جائے،
جب اداروں پر تنقید کو خدا اور رسول پر تنقید کا جامہ پہنا کر حب الوطنی کے نام پر لام بندی کیجائے۔۔۔
تو پھر ان تمام “جب” کی ناکامی کے بعد بھیک کی مالا ہی جاپی جاتی ہے۔
گویا:
ملک کی باگ ڈور کوکین پینے والے،
شادیاں کرنے میں دلچسپی رکھنے، طلاقیں دینے،
اپنی والی باپردہ رکھنے جبکہ دوسروں کی ماں بیٹی کو سر عام نچوانے والے منافق،
غیر منطقی گفتگو اور پھر یو ٹرن لینے کے عاشق،
آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، گفتگو  میں ‘اوئے’ جیسے اخلاقیات سے مرصع، پھول جھڑتے الفاظ کا استعمال کرنے والے،
اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کے باوجود کروڑوں کا اعزازیہ اور لاکھوں کی مراعات کی دھر پکڑ کرنے والے لدھر،
اے ٹی ایم کے طفیل ہزاروں کا عمرہ کروڑوں میں کرنے والے،
پیرنی کی ہدایات پر فرمانبرداری دکھاتے ہوئے ننگے پیر عمرہ کا ڈھونگ رچانے والے،
خود 65 سالہ بابا، یوتھ کے نام پر سیاست کرنے کی آڑ میں الیکٹیبلز اور رسہ گیروں کی بنیاد پر وجیر اعجم بننے کے خواب دیکھنے والے،
بی بی سی کی زینب کے ہاتھوں منھ کی کھانے والے سیاست کی ابجد سے ناوافق بزعم خود عظیم سیاستدان
فقہ کوکینیات کے تمام یو ٹرن فیل ہوجانے کے بعد ایک باری کی بھیک مانگنے والے، حکومت تمہارے پیرنی کے سسرال سے آیا نیوتا نہیں جو تمہارے حوالے کردیا جائے۔ یہ کروڑوں ووٹرز کی امانت ہے جسے تمہارے ہم جنس پرستوں کی فرمائش پر تمہارے اوپر وارا نہیں جاسکتا۔ بورژوازی طبقہ کی بنیاد پر کروڑوں کا عمرہ دراصل پرولتاری سماج کے منھ پر زناٹے دار تمانچہ ہے۔ پھر کس منھ سے “ایک باری” کی امید ہے۔ یہ وہ فصل گل ہے جس سے تمہاری گود ہری نہیں ہوسکتی۔
بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور باری کی بھیک مانگنی ہے تو عوام سے رجوع کرو، سوشل اور مین سٹریم میڈیا کے چاکر اور بوٹ پالش بریگیڈ کے کہنے پر بھیک کا روپیہ تک نہیں دے سکتے چہ جائیکہ ووٹ کی بھیک!
اور۔۔۔
ویسے بھی 25 جولائی تو ہمارا بائیکاٹ ڈے ہے۔ اس دن تو بھیک دینا کار خراب ہے!
لہذا

!!!معاف کرو بابا، چھٹا نہیں ہے


جاوید اختر ○

《تتلی دبوچ لی میں نے》

《تتلی دبوچ لی میں نے》

۔۔۔

قدرت نے بیشمار نعمتیں اس جہان فانی میں پیدا کیئے۔ انہیں گننے بیٹھیں تو عمر تمام ہو، نعمتیں ختم نہ ہوں۔ ان نعمتوں کی لامحدود فہرست میں سے صرف پھلوں اور پھولوں کے باغات کو لیں جو اپنی دلکشی، بھینی مہکار، اور ان باغات سے حاصل ہونیوالے فوائد بیشمار انسانوں کیساتھ دیگر جانداروں کیلیئے بھی انسیت اور دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ قدرت کی صناعی کو دیکھنے، محسوس کرنے، اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلیئے حضرت انسان باغ کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر چھوٹے چرند، پرندے، بھونرے، تتلیاں اور دیگر جاندار نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں۔

عمر کی حد سے سوا، کیا عورت اور مرد، کیا جوان کیا بچے، کون ہوگا جو ان نعمت بے پایاں سے لطف اندوز ہوکر شکر کا کلمہ ادا نہ کرے۔ اگر غور کیجیئے تو نعمتوں کی اس طویل فہرست میں سبزیاں، پھل پھول اور میوہ جات ہی نہیں بلکہ وہ تمام چرند پرند اور کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض بھی نعمتوں کی فہرست سے باہر نہیں۔

ان باغات میں پائی جانیوالی خوبصورت مخلوقات میں ایک تتلی بھی ہوتی ہے۔ انڈہ اور لاروا سے تتلی بننے کے مراحل دیگر کیڑوں سے مختلف نہیں۔ لیکن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جب تتلی مکمل ہوکر اپنے خول سے باہر آتی ہے اور جوانی کے مرحلہ میں داخل ہوتی ہے تو اسکی کشش، خوبصورتی، رنگوں کی قوس و قزح سے منقش پر، اس مخلوق کو دیگر سے نہ صرف ممتاز کرتی ہے بلکہ تتلی کو قدرت کی صناعی کا ایک اعلی اور عمدہ نمونہ کہنا کسی طور بیجا نہ ہوگا۔ یہ مخلوق پھولوں کی دیوانی، رنگوں کی بارات اپنے جسم پر سجائے ایک پودے سے دوسرے پودے پر اٹھکیلیاں کرتی نظر اتی ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ تتلیاں ان کیڑوں میں سے ایک اہم مخلوق ہے جو دوران سفر اپنے جسم، پروں، اپنے پیروں سے بار اور دانہ ایک پودے سے دوسرے پودے تک منتقل کرتی ہیں۔ یوں کراس ہولینیشن (cross pollination) کے ایک اہم عمل کو انجام دیگر ایک نئے بیج، پھول اور پھل کی پیدائش کا ایک قدرتی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ یوں پودوں میں افزائش نسل کے کام میں قدرت کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔

ویسے تو تتلیاں آزاد اور اڑتی ہوئی ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ باغوں کی اس دلکشی کو ہاتھوں میں قید کرنا افسوسناک اور ایک غلط عمل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی ہاتھوں میں آجائیں تو غور کیجیئے گا کہ اپنے پروں کے رنگ ہمیں دے جاتی ہیں۔ ہمارا ہاتھ اس کے لمس سے رنگین ہوجاتا ہے۔ چند لمحوں کی ہماری خوشی کیلیئے تتلی اپنی خوبصورتی ہم پر وار دیتی ہے۔

غور کیجیئے، ہماری زندگی بھی تتلی کے رنگوں سے عبارت ہے۔ ہمارے ارد گرد پھلیے لوگ، وابسطہ زندگیاں، رشتوں کی فراوانی، ان رشتوں میں پائے جانیوالے اتار چڑھاو تتلی کے پروں جیسے رنگوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں۔ اگر رشتے کچے ہوں تو ہمارے لیئے ایسے رشتوں سے ہاتھ دھولینا بہتر ہے۔ یہ کچے رنگ جیسے رشتے کبھی کبھار تو تن اور من دونوں کو آلودہ کرجاتے ہیں۔ یہ رنگ کبھی چوکھا نہیں آتا۔ یہ رشتے پائیدار نہیں ہوتے۔ ایسے رشتے دور کے ڈھول جیسے سہانے ہوتے ہیں۔ لیکن جب پھٹتے ہیں تو سارے رنگ، سارے سر بکھر جاتے ہیں۔ ایسے میں خواہش ہوتی ہے کہ کاش “ان رنگوں” کو زندگی کا حصہ نہ بنایا ہوتا۔ کاش تتلی کو ہاتھوں میں نہ پکڑا ہوتا۔ کاش اسے دور سے ہی دیکھتا۔ تاکہ رنگوں اور خوبصورتی اور کا بھرم تو قائم رہتا۔ بھرم ٹوٹتا ہے تو، حالانکہ آواز نہیں دیتا، مگر ایک چوٹ دل و دماغ کو دے جاتا ہے۔ رنگ بکھر جاتے ہیں۔ رنگوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

لیکن، دوسری جانب ___

تتلی ایسے بدنما رنگ ہی مزین نہیں ہوتی، اس کے پروں میں خوشنما رنگ بھی ہوتے ہیں۔ وہ رنگ جسے اپنی مٹھیوں میں قید کریں یا نہ کریں، پکے ہوتے ہیں۔ زندگی اگر ایسے خوبصورت رنگ دار رشتوں سے عبارت ہوجائے تو رشتوں کا دکھ سکھ، رشتوں کی نزاکت، رشتوں کی صداقت اور اسکی پاکیزگی عبادت جیسی ہوجاتی ہے۔ سکون کے لمحات ایسے رنگوں کے لمس سے کندن بن جاتے ہیں، امر ہوجاتے ہیں۔

جب رنگوں کی بات چلے تو یہ بھی پڑھتے چلیں کہ زندگی کانٹوں کیساتھ ساتھ ہار سنگھار کے چھوٹے چھوٹے پھولوں سے لدی پھندی ہے۔ صبح کے وقت ، پودوں سے گرے زمین پر پھیلے زرد رنگ یہ ننھے منے پھول زرد قالین کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یار سنگھار کے ان پھولوں کو اگر ہم اپنے دامن میں بھر لیں تو ہمارا جیون خوشیوں کے پھولوں کی بھینی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔ یہی وہ رنگ ہیں، یہی وہ اصل اور پکے رشتے ہیں جو ہماری اور آپکی زندگی کا سرمایہ ہیں، باقی سب مایہ ہیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ رنگوں اور رشتوں کا انتخاب ہمیں سکھ بھی دے سکتا ہے اور بعض اوقات دکھ اور پچھتاوا بھی۔ رشتوں کے رنگوں کو پہچانیئے۔ اپنے ارد گرد سچے اور تتلی کے عمدہ رنگوں کی رنگولی بنائیے۔ ایسے رنگ اور ایسے رشتوں کا انتخاب کیجیئے جن سے ہار سنگھار کے پھولوں جیسی خوشبو آئے!

۔۔۔

○ جاوید اختر

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

۔۔۔
کرکٹ 2019 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کرکٹ کی نرسری انگلستان میں ایک جشن کا سماں ہے۔ انگلش یوتھیئے اور یوتھنیئائیں سڑکوں پر امڈ آئے ہیں۔ کہیں آتش بازی تو کہیں قحبہ خانہ میں جمی تاش کی بازی۔ لنڈھائے گئے جام کے تام جھام اپنی جگہ اور انگریز دوشیزاوں کے ہوش ربا جلوے اپنی جگہ۔ کیا گورے، کیا کالے اور کیا مذید کالے، ہر کوئی مست گھوم رہا ہے۔ چرچل کا انگلستا اب ہوا پرانا۔ نیا انگلستان بس اب بننے کو ہے!

اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ڈی جی ایم آئی 6 نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں انگریز قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ___
“مستقبل کے وزیر اعظم نے اپنی حکمت عملی سے دشمن کیوی کی کمر توڑ دی ہے۔ اب کیوی ٹیم کے شکست خوردہ عناصر کو اپنے ملک میں بھی جائے پناہ نہیں ملیگی۔”

اس موقع خاص پر برٹش آرمی کے سربراہ نے فارمیشن میٹنگ کے بعد ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی معیشت میں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں دہشت گردی ختم کردی گئی ہے۔ انگلش ٹیم کیطرف میلی نظر سے دیکھنے والے کیویوں کی آنکھیں نکال دی جائینگی۔ نیوزی لینڈ والوں کو سرحد کے پار کامیابی سے دھکیل دیا گیا ہے۔ اب انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

ہوم سیکریٹری (وزیر داخلہ) جناب ساجد جاوید نے مخالف ٹیم کے تمام کرکٹنگ عناصر بالخصوص فاسٹ بالرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی شرپسندی والی سوئنگ بالنگ سے باز آجائیں ورنہ ان سے آہنی گیندوں سے نمٹا جائیگا۔

انگلش کپتان مورگن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا کہ وہ لوٹی گئی دولت مشترکہ واپس لائینگے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ کرپٹ لوگوں کو الٹا لٹکائینگے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ این آر او نہیں دینگے، سکاٹ لیند یارڈ کو خودمختار ادارہ بنائینگے۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ نیوزی لینڈ کا چیپٹر کلوز ہوگیا ہے۔ اب لندن سے خوف کی فضا ختم ہوچکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اقتدار میں آکر 10 ڈاوننگ اسٹریٹ کو لائبریری میں تبدیل کردینگے۔

کپتان مورگن کے دست راست، اور کمسن جوفرا آرچر نے انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ___
“حکومت میں آنے کے بعد کرپٹ ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان سے لوٹی گئی 200 ارب پاونڈ برآمد کی جائیگی۔ جسمیں سے 100 ارب پاونڈ انکا کپتان مورگن، اگلے دن مودی کے منھ پر مارے گا اور بقیہ 100 ارب پاونڈ ملکہ کی تاج پوشی پر خرچ کیا جائیگا۔”

خوشی کے اس موقع پر انگلستان کے سب سے بڑے نیوز چینل بی بی سی پر، جسے اے آر وائی نے خرید لیا ہے، ایک اینکر اپنی کانسپریسی تھیوری کے فیل ہونے پر بادامی چھوہارے کھاتے دیکھا گیا۔ اے آر وائی کے صحافی شفیع نقی کا کہنا تھا کہ اب ہمارا کپتان مورگن انگلینڈ کو ترقی کی سمت گامزن کردیگا۔ اب نیوزی لینڈ کو پتہ چل جانا چاہیئے کہ برٹش آرمی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے۔ اب دشمن انکا بال بیکا نہیں کرسکتا۔

ڈیفنس انالسٹ پینی مورڈاونٹ کا خیال ہے کہ اب پاونڈ سٹرلنگ کو دہشت گردی کا شکار نہیں ہونے دینگے۔ ہمارا ڈیفینس اب مظبوط ہاتھوں میں ہے۔ آئرلینڈ میں جلد ہی ڈی ایچ اے ہاوسنگ اسکیم شروع کی جائیگی۔ جس کے لیئے 92 والے کپتان وزیراعظم سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

آخر میں برٹش آرمی، ایم آئی سکس، سکاٹ لینڈ یارڈ اور آے آر وائی کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے کپتان مورگن سے ڈبلن میں انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں اپنی نیک خواہشات اور ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔

کپتان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوٹا ہوا مال واپس لائینگے، چاہے انہیں ہائیڈ پارک میں دھرنا ہی کیوں نا دینا پڑے!

○ جاوید اختر

● بہاروں پھول برساو

● بہاروں پھول برساو

ایک طرف شبنمی قدموں کی خاموشی۔
اور دوسری طرف
پائنچوں میں چھپی نقرئی گفتگو کرتی پائل کی کھنک۔

کلیوں کا چٹکنا جیسا محبوب کے مسکاتے لب۔
ہر سو پھیلی پھولوں کی خوشبو، اور ہرجائی بھنوروں کا طواف۔

مٹیالے بادل سے ٹپکتی، ٹہرتی، لپکتی بوندیں
اور مٹی سے اٹھتی سوندھی خوشبو کی لپٹیں۔

اور
ڈھلتی خوبصورتی عمر گریزاں کے قصے سناتی ہوئی
لیکن
اب بھی دلکش ہے تیرا روپ اے دلربا، اے دلنشیں۔

،صندلی بانہیں، مخملی نگاہیں اور اداسی سے لبریز لرزتے کپکپاتے ہونٹ
،چہرے پر لٹکتی بے پرواہ چاندی کے تار چھپائے زلفوں کی لٹیں
آواز وہی جیسے ہر تان ہے دیپک۔

○ جاوید اختر

سفر

سفر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی ریل گاڑی کے سفر کی مانند ہوتی ہے۔ ایک لمبا سفر….! اس سفر میں اسٹیشن جیسے کئی مقامات آتے ہیں۔ روٹ اور سمت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ حادثات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ کچھ حادثات کاری ہوتے ہیں تو کچھ کا اثروقتی۔ رابرٹ لوئیس اسٹیونسن کی مشہور نظم «فرام اے ریلوے کیریج» ایسے ہی ایک سفر کی نشاندہی کرتی ہے۔

روٹ اور سمت کی تبدیلی، حادثات کا رونماء ہونا، اسٹیشن پر کہیں طویل قیام تو کہیں لمحوں کا ٹھیراؤ؛ بھانت بھانت کے لوگوں کا شریک سفر ہونا ـــــ کچھ کادور تک کاساتھ تو کچھ کا چند ساعتوں کا۔ ایک طویل فاصلوں اور فصیلوں تک چلنا، اور پھر بچھڑ جانا۔ غور کریں تو یہ سارے واقعات ایک ایسے سفر کی ترجمانی کرتے ہیں جن کو زندگی کے معاملات پر بخوبی منطبق کیا جاسکتا ہے۔

پیدائش کے ساتھ ہی ہم ٹرین پر سوار ہوجاتے ہیں جہاں شروع سے ہی والدین ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ کم علمی، کج فہمی اور کوتاہ بینی کی وجہ سےاسوقت ہمارا یہ خیال ہوتا ہے کہ والدین کا ساتھ ہمیشہ کا ہوگا۔ وقت کے ساتھ ہماری خام خیالی نہ صرف ثابت ہوتی ہے بلکہ ‘تغیر کو ثبات ہے زمانے میں’ کی تفسیر بیان ہوتی ہے۔ دوران سفر جب ہمارے والدین ہم سے کسی اسٹیشن پر بچھڑ جاتے ہیں تو زندگی کی ریل سفر میں اکیلا پن ہمارا ہمسفر بن جاتا ہے۔

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

تبھی کچھ اور لوگ ہمارے نئے ہمسفر کے روپ میں سامنے آتے ہیں مثلا ہمارے بہن بھائی، دوست و احباب، شریک حیات اور ہمارے اپنی اولاد۔ سفر تو جاری رہتا ہے لیکن مسافروں کے چہرے، اطوار اور رشتوں کی تعمیر و ترتیب بدلتی رہتی ہے۔

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

استاد حیدر علی آتش کےاس شعر کے پہلے مصرعہ کے برخلاف، زندگی سفر سے مشروط نہیں؛ زندگی خود ایک سفر ہے۔ ہاں، شجر سایہ دار ضرور ملتے ہیں۔ کبھی بے سایہ اور بے ثمر بھی۔ زمین بنجر بھی ملتی ہے؛ ہرے بھرے لہلہاتے کھیت و کھلیان بھی؛ ریگستان اور دریا کا منظر بھی ملتا ہے تو پہاڑ اور کھائی بھی۔ اس سفر کے منظرنامے میں برف پوش چوٹیاں بھی دکھتی ہیں تو بہتےدریا اور گرتے گنگناتے جھرنے بھی۔ دوڑتے بھاگتے شور مچاتے بچے ،فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں، درختوں پر پرند ، گھاس چرتے چرن؛ بدلیوں اور دھوپ کی آنکھ مچولی، برستی بارش کی جھلمل بوندیں اور بند کھڑکی کے دوسری طرف بہتی بوندوں میں لپٹی یادیں۔ یاديں ــــ اپنوں کی، بلکہ اپنوں میں سے بہت ذیادہ قریبی اپنوں کی ـــ خاص الخاص کی!

آئیے، ریل کے اس سفر کو اپنی زندگیوں کی مماثلت سے ناپتے تولتے ہیں۔ ہماری زندگی بھی اسی طرح کے واقعات اور حادثات سے ممیز ہوتی ہے۔ کچھ لوگ جب جدا ہوتے ہیں تو ایک مکمل خلاء چھوڑ جاتے ہیں، جیسے ہمارے والدین اور اولاد، جسے کوئی بھی آنے والا پر نہیں کر سکتا۔ لیکن بعض اوقات نئے آنے والے حیرت انگیز طور پر اس خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور بلا مبالغہ ہمارے خاندان اور معاشرہ کا ایک اٹوٹ انگ بن جاتے ہیں۔ یہ سفر خوشی، غم، مسرت، خواہشات، شادمانی، بے سروسامانی جیسے احساسات و آگہی سے بھرپور مزین ہے۔ زندگی ممکنات اور ناممکنات کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ بہت کچھ ہماری سوچ اور اندازے سے ہٹ کر وقوع پذیر ہوتا ہے۔ نا جانے کس اسٹیشن پر کون ہم سے جدا ہو جائے۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ زندگی کو اس سے مطلب نہیں کہ کون ہمیں عزیز اور رگ جاں سے کتنا قریب ہے، بس ریل کے پہیوں کی طرح چلتی رہتی ہے۔ کبھی ہماری دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ تو کبھی انہی دھڑکنوں کو بے ترتیب کردیتی ہے۔لہذا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی چال کو سمجھیں اور محبت اور خوشیاں بانٹیں اور ہمسفروں کو وہی عزت دیں جس کے ہم خود متقاضی ہوتے ہیں۔

ذہن نشین رہے کہ اس ریل کے سفر میں نہ جانے ہماری اپنی نشست کب خالی ہوجائے؛ کب ہمارا اسٹیشن آجائے۔ ہمارا اسٹیشن تو آئے گا، ضرور آئیگا، تو کیوں نہ اپنے ہمسفروں کے لیئے ایسی اطوار چھوڑ جائیں کہ اس ریل میں دوسرے مسافر ہمیں اور ہماری یادوں کو اپنے سفر کا حصہ بنانے میں خوشی محسوس کریں۔

رشتوں کے درمیان پائی جانیوالی کیفیتوں کو شعوری ادراک دینا ہی دراصل زندگی کا حسن اور حاصل ہے۔ اور زندگی کی خوبصورتی حاصل ہوتی ہے رشتوں کی تعظیم سے۔ زندگی کے اس سفر میں تکریم و عزت اور محبت و اخوت اسٹیشن پر جدا ہونے والے، ڈبے میں نو واردمسافروں سے الفت ہی ہم سب کی اس دنیا میں آنے کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ ریل کے اس سفر میں اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ آپ سب کا دلی شکریہ زندگی کے اس سفر میں میرے ہمسفر بننے کا۔ خوش رہیئے۔ کون جانے کب میرا اسٹیشن آجائے۔

○ جاوید اختر