غالب کا خط عالم بالا سے ●

وقت کے عظیم ترین فلاسفر، شاعر، نثر نگار اور اردو زبان کے پیغمبر جناب مرزا اسداللہ خان غالب کا آج یوم پیدائش ہے۔نوشہ میاں کی شان کو تو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اور نہ ہی اس جیسی ہستی کا کوئی ہمسر ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے اس عظیم مدبر کو آئیے خراج عقیدت پیش کریں کہ جو اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک پوری تاریخ ہے۔ اردو زبان پر رہتی دنیا تک اس کا فسوں چھایا رہےگا۔ اردو زبان مرزا اسد اللہ خان غالب کے ایک ایک لفظ کی امانت دار ہے اور جب تب دنیا باقی ہے، اردو بولنے والے غالب کا یہ احسان کبھی نہیں اتارسکتے۔

!!!اشاعت مکر کے طور پر میری ایک تحریر پچھلے سال کی لوح سے پیش خدمت ہے۔ لطف اٹھائیے


غالب کا خط عالم بالا سے ●

اچھی صلاح دی میاں کہ ستائیسویں دسمبر کو یوم غالب عام کیا جاوے، پر لڑکنوں بالوں کو کون سمجھائے۔ یہ سسرے نہ تو غالب سے آشنائی رکھیں ہیں نہ شبستانوں کے درماں۔ ہاں، نئے زمانے کے گویّوں کے خوب رسیا ٹہرے۔ بارا ربیع الاول کو بھی اسی ڈھول تاشے سے مناتے ہیں جیسے اپنی ماں کے خصم کی بارات۔ اب اگر اس موقع پر بھی باجے تماشے ہوں تو پھر شکایت مت کرنا۔

حکومت وقت کو ابھی اپنے وزیر اعظم کی پناما چھید سی لینے دو۔ بزاز اور خیاط کا انصرام ہونے کو ہے۔ پھر رفو گر کی ہشیاری دیکھنا۔ جرنیل با تدبیر کی وداعی سے فارغ ہو کر نئے نویلے بانکے چھبیلے کی سلامی لینے دو، تجویز رکھتے ہیں۔ چٹھی تو تیار ہے بس قاصد کا انتظار؛ کوئی پل آتا ہی ہوگا۔ پھر بادشاہ سلامت جانیں یا تم۔ ہمیں کیا لینا دینا۔ حکومت وقت تو ہم سے خوش نہیں۔ بار بار ہرکارے آتے ہیں، لیکن طبیعت سلامی پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ابھی پچھلے چہار شنبہ ہی نیوتا بھیجا تھا۔ ساتھ میں دو عدد ولایتی مع ظروف و متاع بھی۔ ہرکارے کو دالان سے ہی واپس لوٹا بھیجا۔ طبیعت ملنا گوارا نہ تھی۔ سوچ کی چاندنی تو اجلی تھی مگر مے ارغوانی۔ شربتی مے کا سامان البتہ اس سوچ کے ما حاصل رکھ لیا کہ اس کا کیا قصور۔ پیالہ ہم اپنا ہی چلاتے ہیں؛ گر ٹوٹ بھی جاوے تو غم نہیں۔ بازار سے سستا منگوا لینگے۔

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

لیکن اس سے مطلب و مراد نہیں کہ ہم مے کے رسیا ہیں۔ بس پنش کی امیدی اور نا امیدی بیچ ٹنگے رہتے ہیں۔ اب آوے کہ تب۔ ملنے پر قرض خواہوں کےپچھلے حساب میں غرق۔ مے کی طلب دیکھ کر اپنے حکیم مومن خان مومن نے مجھے اپنا شعر بخش دیا تھا۔ اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔ کیا آزاد مرد تھا۔
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

بادشاہ سلامت آجکل اپنی صاحبزادی نیک خصال وجمال کی دختر نیک اختر کی رخصتی میں مگن ہیں۔ سنا ہے پڑوس کے بادشاہ بمعہ اہل ثروت مہمان ہوئے ہیں۔ عوم الناس کو دیکھا سنا، خوب بھپتی کستی رہی ہے۔ لباس شاہی کا اب تو انداز و طریقہ بھی بدل گیا۔ کج کلاہ کی جگہ دربانوں کا حلیہ بنا لیا۔ روایت شکنی کا ارادہ ہے شائد۔ مصاحبین سے مشورہ ہی کیا ہوگا، حالانکہ یہ حلیہ شاہ معظم کے جلال کو رونق نہیں دیتا۔ اس ہنگام میں حکومتی امور ٹھپ ہیں۔ درباری گوئیے شان میں قصیدے لکھ اور سنا رہے ہیں۔ مال وزر کا یہی سستا رستہ ہے۔برادر شیخ ابراہیم ذوق کی یاد تازہ ہوگئی۔

سپہ گری زورں پر ہے۔ کچھ تم ہی بتاؤ۔ بادشاہ سلامت اور سپہ سالار کے مابین ان بن کی شنید ہے دیکھیں ہیں، پردہ غیب سے کیا ظہور پھوٹتا ہے۔ کوئی خبر ملے تو قاصد روانہ کرنا۔ ہو سکے تو دو صد سکوں کی پوٹلی بھی۔ پنشن ملتے ہی لوٹا دونگا۔

سننے میں ہے کہ نادر روزگار مخلوق دارلخلافہ میں ہے۔ عجیب عجیب اور بے سروپا باتیں کرتا ہے۔ ولے کبھی سپہ سالار کے گن گاتا ہے، تو کبھی اوٹ پٹانگ دعوے۔ قحبہ گری اور کتوں کا شوق ہے۔ زنانیوں کی صحبت لیکن زوجیت کے مسائل۔ نازنینوں کا شوق ہم بھی رکھتے تھے۔ لیکن چولی اور دامن کو جدا ہی رکھا۔ نازکیوں اور سبک خرام کی کوٹھوں والی کہانیاں بھی عالم زوفشاں ہیں۔ کبھی اعضاء کی شاعری ماہ جبینوں کے بالا خانوں پر سجتی تھیں، اب نوید ہے پختہ راستوں اور چوراہوں پر بازار سجتے ہیں۔ مراثیوں اور ٹھٹھے باز سر راہ سراہے جاتے ہیں۔ کیا نادر روزگار لوگ ہیں۔بادشاہ سلامت کی ڈھیل نہ جانے کیا شگوفہ افروزی کرے۔ کاش ہم بھی شاہ کے طرفدار ہوتے۔
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

طبیعت کو پوچھا نہیں، لیکن بتا دیتے ہیں کہ بس اب جانے کو ہے؛ دوگام کا سفر ہنوز باقی ہے۔ زندگی سے نسبت اب نام کو ہے۔ اجل کا بلاوہ آنے کو ہے۔
قید حیات و بند غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

عمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکنمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکن ہے آدم کی پسلی سے پھوٹنے والی رعنائیوں کی الفت کے طفیل بخشش ہوجائے۔
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
۔۔۔

والسلام
جاوید اختر

Published by

akhterjawaid

Freelancer and blogger

2 thoughts on “غالب کا خط عالم بالا سے ●”

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s