سفر

سفر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
زندگی ریل گاڑی کے سفر کی مانند ہوتی ہے۔ ایک لمبا سفر….! اس سفر میں اسٹیشن جیسے کئی مقامات آتے ہیں۔ روٹ اور سمت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ حادثات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ کچھ حادثات کاری ہوتے ہیں تو کچھ کا اثروقتی۔ رابرٹ لوئیس اسٹیونسن کی مشہور نظم «فرام اے ریلوے کیریج» ایسے ہی ایک سفر کی نشاندہی کرتی ہے۔

روٹ اور سمت کی تبدیلی، حادثات کا رونماء ہونا، اسٹیشن پر کہیں طویل قیام تو کہیں لمحوں کا ٹھیراؤ؛ بھانت بھانت کے لوگوں کا شریک سفر ہونا ـــــ کچھ کادور تک کاساتھ تو کچھ کا چند ساعتوں کا۔ ایک طویل فاصلوں اور فصیلوں تک چلنا، اور پھر بچھڑ جانا۔ غور کریں تو یہ سارے واقعات ایک ایسے سفر کی ترجمانی کرتے ہیں جن کو زندگی کے معاملات پر بخوبی منطبق کیا جاسکتا ہے۔

پیدائش کے ساتھ ہی ہم ٹرین پر سوار ہوجاتے ہیں جہاں شروع سے ہی والدین ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ کم علمی، کج فہمی اور کوتاہ بینی کی وجہ سےاسوقت ہمارا یہ خیال ہوتا ہے کہ والدین کا ساتھ ہمیشہ کا ہوگا۔ وقت کے ساتھ ہماری خام خیالی نہ صرف ثابت ہوتی ہے بلکہ ‘تغیر کو ثبات ہے زمانے میں’ کی تفسیر بیان ہوتی ہے۔ دوران سفر جب ہمارے والدین ہم سے کسی اسٹیشن پر بچھڑ جاتے ہیں تو زندگی کی ریل سفر میں اکیلا پن ہمارا ہمسفر بن جاتا ہے۔

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

تبھی کچھ اور لوگ ہمارے نئے ہمسفر کے روپ میں سامنے آتے ہیں مثلا ہمارے بہن بھائی، دوست و احباب، شریک حیات اور ہمارے اپنی اولاد۔ سفر تو جاری رہتا ہے لیکن مسافروں کے چہرے، اطوار اور رشتوں کی تعمیر و ترتیب بدلتی رہتی ہے۔

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

استاد حیدر علی آتش کےاس شعر کے پہلے مصرعہ کے برخلاف، زندگی سفر سے مشروط نہیں؛ زندگی خود ایک سفر ہے۔ ہاں، شجر سایہ دار ضرور ملتے ہیں۔ کبھی بے سایہ اور بے ثمر بھی۔ زمین بنجر بھی ملتی ہے؛ ہرے بھرے لہلہاتے کھیت و کھلیان بھی؛ ریگستان اور دریا کا منظر بھی ملتا ہے تو پہاڑ اور کھائی بھی۔ اس سفر کے منظرنامے میں برف پوش چوٹیاں بھی دکھتی ہیں تو بہتےدریا اور گرتے گنگناتے جھرنے بھی۔ دوڑتے بھاگتے شور مچاتے بچے ،فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں، درختوں پر پرند ، گھاس چرتے چرن؛ بدلیوں اور دھوپ کی آنکھ مچولی، برستی بارش کی جھلمل بوندیں اور بند کھڑکی کے دوسری طرف بہتی بوندوں میں لپٹی یادیں۔ یاديں ــــ اپنوں کی، بلکہ اپنوں میں سے بہت ذیادہ قریبی اپنوں کی ـــ خاص الخاص کی!

آئیے، ریل کے اس سفر کو اپنی زندگیوں کی مماثلت سے ناپتے تولتے ہیں۔ ہماری زندگی بھی اسی طرح کے واقعات اور حادثات سے ممیز ہوتی ہے۔ کچھ لوگ جب جدا ہوتے ہیں تو ایک مکمل خلاء چھوڑ جاتے ہیں، جیسے ہمارے والدین اور اولاد، جسے کوئی بھی آنے والا پر نہیں کر سکتا۔ لیکن بعض اوقات نئے آنے والے حیرت انگیز طور پر اس خلا کو پر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور بلا مبالغہ ہمارے خاندان اور معاشرہ کا ایک اٹوٹ انگ بن جاتے ہیں۔ یہ سفر خوشی، غم، مسرت، خواہشات، شادمانی، بے سروسامانی جیسے احساسات و آگہی سے بھرپور مزین ہے۔ زندگی ممکنات اور ناممکنات کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ بہت کچھ ہماری سوچ اور اندازے سے ہٹ کر وقوع پذیر ہوتا ہے۔ نا جانے کس اسٹیشن پر کون ہم سے جدا ہو جائے۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ زندگی کو اس سے مطلب نہیں کہ کون ہمیں عزیز اور رگ جاں سے کتنا قریب ہے، بس ریل کے پہیوں کی طرح چلتی رہتی ہے۔ کبھی ہماری دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ تو کبھی انہی دھڑکنوں کو بے ترتیب کردیتی ہے۔لہذا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی چال کو سمجھیں اور محبت اور خوشیاں بانٹیں اور ہمسفروں کو وہی عزت دیں جس کے ہم خود متقاضی ہوتے ہیں۔

ذہن نشین رہے کہ اس ریل کے سفر میں نہ جانے ہماری اپنی نشست کب خالی ہوجائے؛ کب ہمارا اسٹیشن آجائے۔ ہمارا اسٹیشن تو آئے گا، ضرور آئیگا، تو کیوں نہ اپنے ہمسفروں کے لیئے ایسی اطوار چھوڑ جائیں کہ اس ریل میں دوسرے مسافر ہمیں اور ہماری یادوں کو اپنے سفر کا حصہ بنانے میں خوشی محسوس کریں۔

رشتوں کے درمیان پائی جانیوالی کیفیتوں کو شعوری ادراک دینا ہی دراصل زندگی کا حسن اور حاصل ہے۔ اور زندگی کی خوبصورتی حاصل ہوتی ہے رشتوں کی تعظیم سے۔ زندگی کے اس سفر میں تکریم و عزت اور محبت و اخوت اسٹیشن پر جدا ہونے والے، ڈبے میں نو واردمسافروں سے الفت ہی ہم سب کی اس دنیا میں آنے کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ ریل کے اس سفر میں اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔ آپ سب کا دلی شکریہ زندگی کے اس سفر میں میرے ہمسفر بننے کا۔ خوش رہیئے۔ کون جانے کب میرا اسٹیشن آجائے۔

○ جاوید اختر

Advertisements

Published by

akhterjawaid

Freelancer and blogger

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s