《تتلی دبوچ لی میں نے》

《تتلی دبوچ لی میں نے》

۔۔۔

قدرت نے بیشمار نعمتیں اس جہان فانی میں پیدا کیئے۔ انہیں گننے بیٹھیں تو عمر تمام ہو، نعمتیں ختم نہ ہوں۔ ان نعمتوں کی لامحدود فہرست میں سے صرف پھلوں اور پھولوں کے باغات کو لیں جو اپنی دلکشی، بھینی مہکار، اور ان باغات سے حاصل ہونیوالے فوائد بیشمار انسانوں کیساتھ دیگر جانداروں کیلیئے بھی انسیت اور دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ قدرت کی صناعی کو دیکھنے، محسوس کرنے، اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلیئے حضرت انسان باغ کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر چھوٹے چرند، پرندے، بھونرے، تتلیاں اور دیگر جاندار نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں۔

عمر کی حد سے سوا، کیا عورت اور مرد، کیا جوان کیا بچے، کون ہوگا جو ان نعمت بے پایاں سے لطف اندوز ہوکر شکر کا کلمہ ادا نہ کرے۔ اگر غور کیجیئے تو نعمتوں کی اس طویل فہرست میں سبزیاں، پھل پھول اور میوہ جات ہی نہیں بلکہ وہ تمام چرند پرند اور کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض بھی نعمتوں کی فہرست سے باہر نہیں۔

ان باغات میں پائی جانیوالی خوبصورت مخلوقات میں ایک تتلی بھی ہوتی ہے۔ انڈہ اور لاروا سے تتلی بننے کے مراحل دیگر کیڑوں سے مختلف نہیں۔ لیکن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جب تتلی مکمل ہوکر اپنے خول سے باہر آتی ہے اور جوانی کے مرحلہ میں داخل ہوتی ہے تو اسکی کشش، خوبصورتی، رنگوں کی قوس و قزح سے منقش پر، اس مخلوق کو دیگر سے نہ صرف ممتاز کرتی ہے بلکہ تتلی کو قدرت کی صناعی کا ایک اعلی اور عمدہ نمونہ کہنا کسی طور بیجا نہ ہوگا۔ یہ مخلوق پھولوں کی دیوانی، رنگوں کی بارات اپنے جسم پر سجائے ایک پودے سے دوسرے پودے پر اٹھکیلیاں کرتی نظر اتی ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ تتلیاں ان کیڑوں میں سے ایک اہم مخلوق ہے جو دوران سفر اپنے جسم، پروں، اپنے پیروں سے بار اور دانہ ایک پودے سے دوسرے پودے تک منتقل کرتی ہیں۔ یوں کراس ہولینیشن (cross pollination) کے ایک اہم عمل کو انجام دیگر ایک نئے بیج، پھول اور پھل کی پیدائش کا ایک قدرتی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ یوں پودوں میں افزائش نسل کے کام میں قدرت کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔

ویسے تو تتلیاں آزاد اور اڑتی ہوئی ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ باغوں کی اس دلکشی کو ہاتھوں میں قید کرنا افسوسناک اور ایک غلط عمل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی ہاتھوں میں آجائیں تو غور کیجیئے گا کہ اپنے پروں کے رنگ ہمیں دے جاتی ہیں۔ ہمارا ہاتھ اس کے لمس سے رنگین ہوجاتا ہے۔ چند لمحوں کی ہماری خوشی کیلیئے تتلی اپنی خوبصورتی ہم پر وار دیتی ہے۔

غور کیجیئے، ہماری زندگی بھی تتلی کے رنگوں سے عبارت ہے۔ ہمارے ارد گرد پھلیے لوگ، وابسطہ زندگیاں، رشتوں کی فراوانی، ان رشتوں میں پائے جانیوالے اتار چڑھاو تتلی کے پروں جیسے رنگوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں۔ اگر رشتے کچے ہوں تو ہمارے لیئے ایسے رشتوں سے ہاتھ دھولینا بہتر ہے۔ یہ کچے رنگ جیسے رشتے کبھی کبھار تو تن اور من دونوں کو آلودہ کرجاتے ہیں۔ یہ رنگ کبھی چوکھا نہیں آتا۔ یہ رشتے پائیدار نہیں ہوتے۔ ایسے رشتے دور کے ڈھول جیسے سہانے ہوتے ہیں۔ لیکن جب پھٹتے ہیں تو سارے رنگ، سارے سر بکھر جاتے ہیں۔ ایسے میں خواہش ہوتی ہے کہ کاش “ان رنگوں” کو زندگی کا حصہ نہ بنایا ہوتا۔ کاش تتلی کو ہاتھوں میں نہ پکڑا ہوتا۔ کاش اسے دور سے ہی دیکھتا۔ تاکہ رنگوں اور خوبصورتی اور کا بھرم تو قائم رہتا۔ بھرم ٹوٹتا ہے تو، حالانکہ آواز نہیں دیتا، مگر ایک چوٹ دل و دماغ کو دے جاتا ہے۔ رنگ بکھر جاتے ہیں۔ رنگوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

لیکن، دوسری جانب ___

تتلی ایسے بدنما رنگ ہی مزین نہیں ہوتی، اس کے پروں میں خوشنما رنگ بھی ہوتے ہیں۔ وہ رنگ جسے اپنی مٹھیوں میں قید کریں یا نہ کریں، پکے ہوتے ہیں۔ زندگی اگر ایسے خوبصورت رنگ دار رشتوں سے عبارت ہوجائے تو رشتوں کا دکھ سکھ، رشتوں کی نزاکت، رشتوں کی صداقت اور اسکی پاکیزگی عبادت جیسی ہوجاتی ہے۔ سکون کے لمحات ایسے رنگوں کے لمس سے کندن بن جاتے ہیں، امر ہوجاتے ہیں۔

جب رنگوں کی بات چلے تو یہ بھی پڑھتے چلیں کہ زندگی کانٹوں کیساتھ ساتھ ہار سنگھار کے چھوٹے چھوٹے پھولوں سے لدی پھندی ہے۔ صبح کے وقت ، پودوں سے گرے زمین پر پھیلے زرد رنگ یہ ننھے منے پھول زرد قالین کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یار سنگھار کے ان پھولوں کو اگر ہم اپنے دامن میں بھر لیں تو ہمارا جیون خوشیوں کے پھولوں کی بھینی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔ یہی وہ رنگ ہیں، یہی وہ اصل اور پکے رشتے ہیں جو ہماری اور آپکی زندگی کا سرمایہ ہیں، باقی سب مایہ ہیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ رنگوں اور رشتوں کا انتخاب ہمیں سکھ بھی دے سکتا ہے اور بعض اوقات دکھ اور پچھتاوا بھی۔ رشتوں کے رنگوں کو پہچانیئے۔ اپنے ارد گرد سچے اور تتلی کے عمدہ رنگوں کی رنگولی بنائیے۔ ایسے رنگ اور ایسے رشتوں کا انتخاب کیجیئے جن سے ہار سنگھار کے پھولوں جیسی خوشبو آئے!

۔۔۔

○ جاوید اختر

Published by

akhterjawaid

Freelancer and blogger

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s