!نیا سال مبارک ●

2020
سال 2019 کے خاتمہ کی قربت کیساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک ہیجانی کیفیت طاری ہوچکی تھی۔ نئے سال کی مبارکباد، تقریبات، لوازمات، غنائیات ___ غرض کہ طرح طرح سے اور نت نئے طریقوں سے سال نو کی متوقع پیدائش پر ہدیہ تبریک کی تقسیم بلا تخصیص جنس و رنگ و نسل کی جانے لگی تھی۔

لیکن کیا ہم واقعی سال نو کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں؟

یہ ایک بھیڑ چال ہے ہم جیسے تابہ مذہبی اور عسکری قوم کے لیئے جو 72 سال کی عمر میں بھی اپنے پنگھوڑے سے باہر نہیں نکلی، گھٹنوں کے بل پر آج بھی کھسکتی ہے، سال نو کی نوید ایک تازیانہ لگتی ہے، زخم پر نمک محسوس ہوتا ہے۔

نئے سال کی مبارکباد انکو زیب دیتی ہے جو نئے سال میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ بحیثیت قوم، نیا سال انکے لیئے سال امید اور آفرین بن کر آتا ہے جن میں کچھ کرنے اور پانے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ نیا سال ان کے لیئے نیا ہوتا ہے جنہوں نے پچھلے سالوں میں کچھ حاصل کیا ہوتا ہے۔ سال نو کی مبارکباد ان اقوام پر جچتی ہے جو آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم جو اب تک اپنے آباء کے کارناموں، صحیفوں اور بے نام و ثمر عبادتوں کو اپنے ماتھے پر سجا کر اپنے دامن میں ‘دامت برکاتہم’ کی دان سمیٹنے کی چاہ کرتے ہیں، وقت موجود کے بجائے اندیکھی دنیا کیلیئے اپنا آج تیاگنے کو تیار ہیں، کیا واقعی ہم نئے سال کو خوش آمدید کہنا چاہ رہے ہیں یا خوشی کے خوش نما لبادے میں منافقت چھپا رہے ہیں۔

2019 ہی نہیں، پچھلے 72 سالوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیئے، ایک جمود ہے کہ ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ تار عنکبوت ہے جو آنکھوں پر نہیں ذہن پر چھایا ہوا ہے۔ ایک تساہل مسلسل ہے جو ہم سب پر طاری ہے۔ گویا سامری جادوگر کی قید میں ہوں۔

زندگی کا شائد ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جسے ہم فخریہ دنیا کے سامنے رکھ سکیں، کہہ سکیں کہ یہ ہمارا قومی فخر ہے۔ ترقی کے سارے اشاریئے اور اس سے متعلقہ گرافس منفی سمت کو جارہے ہیں۔ گویا ترقی ہمارے قومی مزاج سے قطعا میل نہیں کھاتی۔ ریل کی پٹریوں کی طرح منھ کھولے ایک دوسرے کو تکتے رہتے ہیں، مگر باہم مل نہیں سکتے۔ ترقی کا زینہ مذہب کی بلندیوں میں گم ہوجاتا ہے یا پھر سپاہیانہ بیاض سے رنگین تر۔

اگر ایک آدھ سرپھرا کوشش بھی کرے تو اسے کافر کہا یا غداری کا میڈل دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے سرخیلوں کے سینوں پر آویزاں میڈل کسی طور بھی زیب جامہ بننے کے لائق نہیں۔ نہ ہی کسی مولوی کا دستار اور باریش حسن اسکی فراست اور انسانیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ آئے دن ان دستار کے رکھوالوں کی کھولی سے بچوں کی چینختی آواز، سسکتی کراہ، آنکھوں سے ٹپکتا لہو، ان باریش جبہ فروزاں بھیڑیوں کی کہانی زبان ذد عام ہوتی رہتی ہیں۔ ہزار میل دور لڑنے والے فوجی چونکہ جہلم نہیں جاسکتے تو اپنے ہی ہم وطن کی عورتوں کی عزت لوٹنے کیلیئے تاویل ڈھونڈ لاتے ہیں اور اسکا برملا اقرار بھی کرتے ہیں۔

72 سال قبل ترکے میں ملا ریلوے سسٹم ہو، نظام زندگی کے قوانین ہوں، جدید نظام تعلیم یا صحت کا نظام ہو یا مالی وسائل کی فراہمی کا نظام و انصرام، ہم تنوع کے قائل نہیں۔ جدیدیت ہمارے لیئے سم قاتل ہے۔ ہم ‘جہاں ہے اور جیسے ہے’ کی بنیاد پر جینا چاہتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اگر عوام آج بھی چنگچی پر سفر کرتے ہیں تو حیرانگی کیسی؟ اگر تھر میں آج بھی انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ پر پانی پیتے ہیں تو یہ عین مساوات ہے۔ شکوہ کیسا اگر کسی نے روڈ نیٹ ورکس میں انقلاب لانا چاہا تو پابند سلاسل کردیا گیا۔ کسی نے 98 فیصد کے حقوق کی بات کی تو اسے غدار وطن کا لیبل لگا کر ایک مخصوص طریقے سے سیاست سے دور دھکیل دیا گیا۔ نوبل انعام یافتہ کے قبر سے اسکا نام کھرچ دیا گیا۔ ایدھی جیسے فرشتہ کو بھی نہ بخشا گیا۔ بوٹوں کی دھمک اور سکوں کی چمک کو اس قوم کا نجات بتایا گیا۔ تعلیم کو مشرف بہ اسلام کردیا گیا۔ حتی کہ سبزی ترکاری تک کو کلمہ پڑھادیا گیا۔ سائنسی کتب کے ختنے کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ ہم واحد قوم ہیں جو مذہب کا رنگین زیر جامہ لباس کے اوپر پہنتے ہیں اور ڈھول پیٹ پیٹ کر سب کو دکھاتے بھی ہیں۔ مطالعہ پاکستان کے اسباق کو پڑھنے کیلیئے اب حقیقت کی آنکھ نہیں بلکہ زومبی کا دماغ چاہیئے۔ آنکھوں کے گرد جانوروں والی مخصوص سمت دیکھنے والی پٹیاں بندھی ہوں تو، مطالعہ پاکستان سے آگے کی تاریخ نہ سجھائی دیتی ہے، نہ ہی سمجھ آتی ہے۔

ہزاروں سالہ فرسودہ نظام زندگی کو حاصل زندگی قرار دینا ہماری قومی حمیت کا اصول زریں ہے۔ پل کے نیچے بہنے والے پانیوں کا کون حساب کرے، مشکل کام ہے۔ ٹوپی اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔ اور اس پر لوہے کا خود پہن لینا ہی نجات کا زریعہ ہے۔ بسنت، کرسمس سب کافروں کے تہوار ہیں۔ ہم نہیں جاننا چاہتے ہیں کہ ان تہواروں سے معیشت کا پہیہ زور سے چلتا ہے۔ بھوکوں ننگوں کیلیئے روٹی اور روزگار کا انتظام ہوتا ہے۔ مفت کے دسترخوان سجانے سے بہتر روزگار کا درست انتظام کرنا بہترین قدم ہے، جو آج کے بونوں کو سمجھ نہیں آتی! کہاں تک سنوگے؟ ہماری قومی کہانی تو الف لیلوی داستان سے بھی ذیادہ طرحدار اور رنگین ہے۔ جی ہاں خون کیطرح سرخ۔

خیر، نئے سال کی شروعات ہے تو 2020 اور آنے والے تمام سال آپ سب کو بھی مبارک ہوں۔ امید ہے کہ آنیوالے دن اچھے ہونگے۔ امن ہوگا، سکون ہوگا جہاں مذہبی اور عسکری مافیاء اپنی اپنی ارام گاہ میں ہونگے۔ اور ملک میں حقیقی جمہوری راج ہوگا۔ مجھے معلوم یے یہ ایک خواب ہے اور خواب حقیقت نہیں بنتے!!!۔
۔۔۔
جاوید اختر ○

Published by

akhterjawaid

Freelancer and blogger

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s