● اکثریت کیلیئے نظام عسکریت

● اکثریت کیلیئے نظام عسکریت
۔۔۔
اپنے ملک پاک پیور میں فوج کے خلاف بولنے اور لکھنے والوں کو دو سال قید اور دیگر سزائیں دینے کا قانون لاگو ہونے ہی والا ہے۔

اسوقت بحث یہ چل رہی ہے کہ:
کیا موجودہ وزیر اعظم کا ماضی میں دیا گیا فوج کیخلاف پیشاب نکالنے والا بیان کے دوبارہ نشر یا شیئر کرنے پر بھی اس قانون کا اطلاق ہوگا؟ اگر ہاں تو جرم کس کے خلاف تصور ہوگا؟ عمران خان کیخلاف یا نشر مکرر کرنے والے کیخلاف؟

کیا اس قانون کا اطلاق retrospectively کیا جائیگا یا prospectively ہی عملدرآمد ہوگا؟ کیا اسطرح کی قانون سازی سے فوج کیخلاف ہمدردی پیدا ہوگی یا ہمدردی کم ہوجائیگی؟ نہیں معلوم کہ زبردستی کی ریسپیکٹ دلوالنے سے حکومتی اداروں کے کیا مقصد ہیں؟ کیونکہ ہم نے پڑھا، دیکھا اور جانا کہ پیار اور احترام لاگو کرنے سے نہیں ملتا۔ یہ سودا زبردستی سے نہیں بلکہ دلوں کے جیتنے سے حاصل ہوتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فوج اور عسکری اشرافیہ کیلیئے عوام کے دلوں میں بیحد عزت اور احترام پایا جاتا ہے۔ کچھ عناصر ضرور ایسے ہیں جو فوج اور اس سے متعلق اشرافیہ پر تنقید کرتے ہیں۔ جائز اور حدود کے اندر تنقید بری بات بھی نہیں۔ مہذب معاشرہ میں تنقید کو نہ صرف مثبت لیا جاتا ہے بلکہ تنقید سے نظام اور افراد میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک چھوٹے سے گروہ کی طاقت اتنی ہے کہ اس کیلیئے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت پڑ گئی؟ جبکہ یہ لوگ تو کھل کے بولتے بھی نہیں، معدودے سوشل میڈیا پر “چند تصویر بتاں” کی مانند۔ کیا سوشل میڈیا کا ایک گروہ اتنا اثر رکھتا ہے کہ اسکے خلاف قانون سازی کی ضرورت پڑ گئی؟ سوشل میڈیا خا قانون تو پہلے سے ہی موجود ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔

عام طور پر قوانین ملک اور عوام الناس کی حفاظت، انکی صحت، تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی گزارنے میں اعانت کے واسطے بنائے جاتے ہیں۔ عوام میں سماجی اور معاشرتی تحفظ کے احساس کیلیئے بنا گئے قوانین کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ مگر ایک مخصوص گروہ کی اعانت کیلیئے اس قانون سے عوام دشمنی کی بو آتی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ قانون اور نظام عوام الناس کیلئے بنائے جاتے ہیں نا کہ انسان نظام اور قانون کے واسطے۔

حالانکہ عسکری اداروں کے پاس ہر طرح کی آسائش اور برتری کا فخر موجود ہے۔ انکے پاس طاقت ہے، دیگر اداروں کی سپورٹ ہے، ملک کے بیشتر ادارے انکی بالادستی کو مانتے ہیں مگر اسطرح کی قانون سے گمان ہوتا ہے کہ ریت مٹھی سے سرکتی جارہی ہے۔ سرکتی ریت کو روکنے کی کوشش قانون سازی سے نہیں دلوں میں محبت جگانے سے کرنی چاہیئے۔ احترام عسکر لازم ہے سب پر مگر بزور شمشیر دائمی محبت نہیں پیدا کی جاسکتی۔

Published by

akhterjawaid

Freelancer and blogger

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s