“کچھ لڑکیاں اسقدر چاہت اور پیار سے بھائی کہتی ہیں کہ ان کے جہیز کی فکر لگ جاتی ہے”


انمول رشتہ

انتہائی فکاہیہ جملہ۔ لیکن  ایک بہت ہی خوبصورت بندھن اور اور رشتہ کی نشاندہی بھی ہوتی ہے اسمیں۔ بہن بھائی کا رشتہ ایک بہت ہی انمول ، خوبصورت، زماں ومکاں کے اثرات سے بہت پرے ۔جیسے خوبصورت دریا  کے کنارے بیٹھے پرندوں اور بہتے پانی کا ساتھ۔ بہتا پانی  بہنوں جیسا ۔ پرندے بھائیوں جیسے۔  بہنں  پانی کے دھارے جیسی؛ دھارے کے ساتھ دور چلی جانے والیاں اور بھائی یہ جاننے کے باوجود کہ انکو جانا ہی ہے ، پھر بھی اس دریا  کے کنارے بہنوں کو جاتا دیکھتے ہیں۔ کبھی کبھی اس بہاؤ کے ساتھ کچھ دور اڑتے ہیں لیکن واپس لوٹ آتے ہیں پھر اسی دریا  کے کنارے جہاں انہوں نے اس کا ساتھ چھوڑا تھا۔ یہی ہمارے معاشرہ کا اصول ہے۔

اصول کچھ بھی ہو، ہم تمام بھائی اسی معاشرتی قواعد سے بندھے ہیں۔ بہنوں کی وداعی ایک بڑے دل گردہ کا کام ہے۔ جدائی کا زخم لاکھ کاری سہی، لیکن سب ہی کسی نہ کسی طرح اس پر شکر بھی ادا کرتے ہیں۔ بہنوں کی لیئے اچھے اور معیاری رشتے کی تلاش میں  بھائی اپنی زندگی کے بعض اوقات بہت سے سنہرے سال گزار دیتے ہیں۔  اس تگ ودو میں اپنی عمر کے بہت  سے ماہ وسال  اسطرح گزاردیتے ہیں کہ ان کے شانے ڈھلک جاتے ہیں؛ بالوں میں چاندی آجاتی ہیں؛ اپنا سرمایہ اور خوشیوں کے خزانے تک لٹا دیتے ہیں۔ لیکن  اپنے من کی خوشی سے۔ بغیر کسی دکھاوے کے۔ بغیر کسی معاوضے  اور کسی صلہ و تمنا کے۔ بہن وبھائی کا رشتہ ہی ایسا انمول ہوتا ہے۔ اٹوٹ، بن مول اور  تمام  دنیاوی سنگینیوں اور آلائشوں سے پاک۔ وقت پڑنے پر اپنی جان تک نچھاور کرنے کو تیار۔

اور بہنیں ـــ کیا کہنے۔ بھائیوں سے دو نہیں چار قدم آگے۔ بھائیوں کو چھیڑنا،  ستانا ، تنگ کرنا ۔ان  کی ایسی شرارت جس پر بھائی جان دیتے ہیں۔  لیکن  اپنے بھائی کی  ذرا سی  تکلیف برداشت  نہیں کر سکتی؛  رو رو کردوپٹے بھگو دینا بہنوں کو ہی آتا ہے۔  گھنٹوں مصلے پر ان کی سلامتی کے لیئے دعا  کرنا ان ہی کا شیوہ ہے۔اپنی چادر  کی حرمت کو بھائیوں اور خاندان کی عزت  سے سے تعبیر کرتی ہیں۔ اس پر دھبہ نہیں لگنے دیتیں  ہیں، بھلے جان چلی جائے۔ پوری زندگی  ایک کھونٹے سے ٹک کرگزار دیتی ہیں۔ چاہے یہ ان کا من چاہا فیصلہ ہو یا مسلط کردہ۔ اپنے ماں باپ ،  بھائیوں اور اپنے خاندان کی عزت کیلیئے اپنا جیون کولہو کے گائے کی طرح بس ایک کھونٹے سے لگی بسر کردیتی ہیں۔  جس دروازے سے ان کی ڈولی  جاتی ہے، میت ہی واپس آتی ہے۔ شکایت کا لفظ ان کی لغت میں نہیں ہوتا ہے۔بہنیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ جب ایسی بہنیں ہوں تو بھائی کا سینہ بھی فخر سے پھول جاتا ہے اور سر بلند۔  سب کچھ ہار کر ان کو جیت جاتے ہیں۔اوپر والے نے یہ کیسا خوبصورت رشتہ تخلیق کیا ہے یہ؛  اس نعمت کیلیئے لاکھوں شکرانہ بھی نا کافی۔

رشتہ کا بوجھ

فی زمانہ جب بہنوں کو گھروں سے رخصت کیا جاتا ہے،  تو سب سے بڑا مسئلہ بھائیوں اور والدین  کے سامنے ان کو رخصتی سے پہلے ان کے لیئے درکار اخراجات کاہوتا ہے۔ ذیادہ تر  مفلوک الحال ہوتے ہیں۔ متوسط طبقے سے تعلق ہونے کی وجہ سے اپنی پوری زندگی اس تگ و دو میں گزار دیتے ہیں کہ کسطرح  اپنی جگر کے ٹکڑے کو ہنسی خوشی پیا گھر سدھاریں۔  پیٹ کاٹتے ہیں؛  اور ذیادہ محنت کرتے ہیں تاکہ اپنی کوششوں کو بحسن و خوشی انجام دیں۔  اس چکر میں قرض کے بوجھ تلے بھی دب جاتے ہیں۔  گھر تک بک جاتے ہیں۔ لیکن اگر غور کریں کہ ان اخراجات میں جو سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے وہ عمدہ ترین جہیز کا انتظام کا ہوتا ہے۔ کبھی اپنی خوشی سے، کبھی دوسری طرف سے ڈیمانڈ کی صورت میں۔ وجہ کچھ بھی ہو، زیر بار  گھر والے ہی ہوتے  ہیں۔ جہیز تو اب ایک ایسی رسم بن گئی ہے جیسے  خدا نہ خواستہ رکن نماز ہو۔ارکان نماز میں بھی مخصوص حالات میں  چھوٹ کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن جہیز ایک لعنت ہونے کے باوجود، مستثنی نہیں۔ ایک ایسی لعنت جس کی وجہ سے بے شمار بہنیں شادی جیسی مقدس رشتے میں بندھنے سے رہ جاتی ہیں۔  کچھ  وداع ہونے کےباوجود گھرستی  کی خوشی سے، صرف مناسب جہیز  نہ ملنے کی وجہ سے ،  محروم رہتی ہیں۔ طعنے بھی سنتی ہیں، تشنے بھی سہتی ہیں۔ کبھی کبھار اپنے والدین کے گھر بھی واپس آجاتی ہیں؛ کبھی میت کی صورت میں تو کبھی مطلقہ کے روپ میں۔  مختصر یہ کہ اس بےہودہ ، خود ساختہ اور جہل والی رسم جس کی نہ تو قانونی حیثیت ہے، نہ مذہبی اور نہ اخلاقی۔ لیکن ہمارے مذہبی، سیاسی اور سول سوسائٹی اس عمل کے خلاف  آواز اٹھاتی ہیں نہ اس سے تباہ ہونیوالی زندگیوں کو سنوارنے کیلیئے کوئی لائحہ عمل دیتی ہیں۔

اس صورت حال میں صرف ایک ہی حل میرے نزدیک ہے اور وہ ہیں ہمارے  آج کے نوجوان۔  مجھے کہنے دیں کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ اور بلاشبہ اس معاشرہ میں مرد اپنے کنبہ میں تمام تر فیصلوں کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے اور براہ راست ان فیصلوں کو نافذ کرنے میں کلیدی کردار کا حامل بھی۔صحیح یا غلط لیکن حقیقت یہی ہے۔ ہمارےمعاشرہ میں ذیادہ تر گھر کے مرد ہی گھر کے اخراجات کو چلانے کیلیئے محنت کرتے ہیں، کماتے ہیں۔  مردوں کو غیرت مند بھی کہا جاتا ہے اور غیرت کے معاملے میں اتنے “بے غیرت” ہوتے ہیں کہ قتل تک کرنے سے دریغ  تک نہیں کرتے۔ میرا سوال  یہ ہے کہ اگر ایسا ہے ، اور ہم مرد اتنے ہی غیرت  مند ہیں ،تو شادی کے موقع پر جہیز یعنی وہ تمام آرام و آسائش لڑکی کے گھر والوں سے کیو ں مانگتے ہیں، یا خواہشمند ہوتے ہیں۔ جہیز مانگتے یا قبول کرتے وقت ہماری غیرت کیوں کلوروفارم سونگھ لیتی ہے۔ اگر ہم سب واقعی اس مردوں کے معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں تو شادی کے موقع پر اس  ‘بے بہا غیرت ‘ کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟ کیوں اپنے زور بازو پر گزارا نہیں کرتے؟  کیسےسسرال کے بھیجے ہوئے آرام دہ گدے پر ہمیں نیند آجاتی ہے۔ ؟کس منھ سے  ہم ان ساز وسامان کو استعمال کرتے ہیں؟ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہماری بھی بہنیں ہیں۔ جو صاحب حیثیت ہیں ان کا یہ مسئلہ نہیں۔ مسئلہ ہم جیسے بے ثروت اور اٹھانوے فیصد مڈل اور لوئر مڈل کلاس  کا ہے۔

کیا ہم یہ عہد نہیں کرسکتے کہ ہم  اپنی زندگی دوسروں کے دیئے ہوئے سازو سامان پر  بسر نہیں کرینگے!  ہم جہیز کی نہ تو تمنّا کریں گے اور نہ ہی اسکو کسی صورت قبول۔ چاہے اس کیلیے سسرال کو ناراض بھی کرنا پڑے تو دریغ نہ کرینگے۔  یہ ناراضی وقتی ہوگی ، لیکن اسطرح جو عزت و وقار ہم کمائینگے وہ  نہ صرف دیرپا ہوگا  بلکہ سکون قلب کا باعث بھی۔ دین اور دنیا کی نیکی بھی، قانون کا احترام  بھی۔ ایک سماجی اچھائی بھی اور بہت ساری بہنوں کے ارمانوں کے سپنوں کے کار پرداز بھی۔ اس نیکی کو اختیار کرنے سے یقین مانیں جو قلبی سکون میسر ہوگا وہ پوری زندگی کا ما حاصل ہوگا۔ تمام عمر  آپ کے سر کو بلندی بھی نصیب ہوگی۔  میری باتیں صرف  تبلیغ نہیں،  یہ ذاتی تجربہ ہے۔ اور مجھے اس پر فخر بھی ہے۔

تو آئیے، آپ  تمام نوجوان جو اس رشتے میں بندھنے والے ہیں، یہ عہد کریں کہ اس لعنت کوختم کرنے کیلیئے اپنی سی کوشش کرینگے۔ ایک چراغ تو جلے! کئی اور روشن ہونگے!! اجالا پھیلانے کیلیئے ایک ننھا سا دیا ہی کافی ہے۔ اپنی چاند سی بہنوں کا گھر بسانے کے لیئے ، اس قربانی کی شروعات کریں۔ پڑھنے کا شکریہ تو ہے ہی، سمجھنے، عمل کرنے اور عمل کی تلقین  کی اس سے ذیادہ ضرورت  جتنی اب ہے، شائد پہلے کبھی نہ تھی۔

Published by

akhterjawaid

Freelancer and blogger

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s