! کی جے ہو (Spartacus) اسپارٹکس ●

SPRTACUS.jpg

کی جے ہو۔ Spartacus اسپارٹکس 

۔۔۔

پرویز مشرف کو پھانسی کا فیصلہ ایک آئینی ضرورت تھی۔ مگر بعد از مرگ پرویز مشرف کو سڑک پر گھسیٹنا اور چوک پر لٹکانے والا اعلی عدلیہ کا حالیہ فیصلہ پاکستانی معاشرہ کی قبائیلی اور طالبانی سوچ کو کھل کر ننگا کر رہا ہے۔

آج کا تفصیلی طالبانی فیصلہ ببانگ دہل یہ ثابت کرتا ہے کہ طالبان جاہل اور اجڈ نہیں، نہ وہ غاروں اور پہاڑوں میں رہتے ہیں، نہ ہی وہ کلاشنکوف اور بم کا استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی داعش کی طرح گلا کاٹتے ہیں۔ وہ تو کالے کوٹ بھی پہنتے ہیں، اس پر ٹائی لگاتے ہیں، سر کو عدل والی ٹوپی سے ڈھانکتے ہیں، ترازو پکڑ کر اندھے بھی بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرہ کے اعلی عہدوں پر براجمان بھی رہتے ہیں۔ ہمارے درمیان رہ کر اپنی اونچی کرسی پر بیٹھ کر اپنے نیچ فیصلوں سے وار بھی کرتے ہیں۔ جتھوں کی شکل میں شفا خانے تاراج کرتے ہیں۔ مریضوں کو ہلاک اور املاک کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

اس قوم کی خمیر میں قدیم معاشرہ کی تاتاری امنگ اور ہلاکو خان والی فکر و نظر بخوبی دیکھی جاسکتی ہے جب ہزاروں سال قبل فیصلہ سڑکوں پر گھسیٹ کر، اور نیزوں اور درختوں پر سر ٹانگنے پر منتج ہوتا تھا۔ اور سینکروں سال بعد آج کا عدالتی فیصلہ اسی قدیم معاشرہ کی جدید شکل ہے۔

اکیسویں صدی میں ملک پاکستان کی اعلی عدالت کیطرف سے دیا جانے والا فیصلہ یہ ثابت کرنے کیلیئے کافی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی بھی 70 قبل مسیح کے رومن ایرینا کی طرح انتہا پسندانہ ہے جب قتل و غارت گری کو عزت و افتخار سمجھا جاتا  تھا۔ ہم سب، من حیث القوم اس رومن ایرینا کے گرد کھڑے، گلیڈی ایٹر کی طرف سے کیئے جانے والے ہر وار، ہر قتل عام پر تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ اگر ہمیں رہنا اسی قدیم معاشرہ میں ہے تو کیوں نہ ہم سب ملکر آج کے گلیڈی ایٹر کیلئے نعرہ “انویکٹا” بلند کریں۔

اسپارٹکس کی جے ہو۔

۔۔۔

جاوید اختر ○ 

!نیا سال مبارک ●

2020
سال 2019 کے خاتمہ کی قربت کیساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک ہیجانی کیفیت طاری ہوچکی تھی۔ نئے سال کی مبارکباد، تقریبات، لوازمات، غنائیات ___ غرض کہ طرح طرح سے اور نت نئے طریقوں سے سال نو کی متوقع پیدائش پر ہدیہ تبریک کی تقسیم بلا تخصیص جنس و رنگ و نسل کی جانے لگی تھی۔

لیکن کیا ہم واقعی سال نو کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں؟

یہ ایک بھیڑ چال ہے ہم جیسے تابہ مذہبی اور عسکری قوم کے لیئے جو 72 سال کی عمر میں بھی اپنے پنگھوڑے سے باہر نہیں نکلی، گھٹنوں کے بل پر آج بھی کھسکتی ہے، سال نو کی نوید ایک تازیانہ لگتی ہے، زخم پر نمک محسوس ہوتا ہے۔

نئے سال کی مبارکباد انکو زیب دیتی ہے جو نئے سال میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ بحیثیت قوم، نیا سال انکے لیئے سال امید اور آفرین بن کر آتا ہے جن میں کچھ کرنے اور پانے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ نیا سال ان کے لیئے نیا ہوتا ہے جنہوں نے پچھلے سالوں میں کچھ حاصل کیا ہوتا ہے۔ سال نو کی مبارکباد ان اقوام پر جچتی ہے جو آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم جو اب تک اپنے آباء کے کارناموں، صحیفوں اور بے نام و ثمر عبادتوں کو اپنے ماتھے پر سجا کر اپنے دامن میں ‘دامت برکاتہم’ کی دان سمیٹنے کی چاہ کرتے ہیں، وقت موجود کے بجائے اندیکھی دنیا کیلیئے اپنا آج تیاگنے کو تیار ہیں، کیا واقعی ہم نئے سال کو خوش آمدید کہنا چاہ رہے ہیں یا خوشی کے خوش نما لبادے میں منافقت چھپا رہے ہیں۔

2019 ہی نہیں، پچھلے 72 سالوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیئے، ایک جمود ہے کہ ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ تار عنکبوت ہے جو آنکھوں پر نہیں ذہن پر چھایا ہوا ہے۔ ایک تساہل مسلسل ہے جو ہم سب پر طاری ہے۔ گویا سامری جادوگر کی قید میں ہوں۔

زندگی کا شائد ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جسے ہم فخریہ دنیا کے سامنے رکھ سکیں، کہہ سکیں کہ یہ ہمارا قومی فخر ہے۔ ترقی کے سارے اشاریئے اور اس سے متعلقہ گرافس منفی سمت کو جارہے ہیں۔ گویا ترقی ہمارے قومی مزاج سے قطعا میل نہیں کھاتی۔ ریل کی پٹریوں کی طرح منھ کھولے ایک دوسرے کو تکتے رہتے ہیں، مگر باہم مل نہیں سکتے۔ ترقی کا زینہ مذہب کی بلندیوں میں گم ہوجاتا ہے یا پھر سپاہیانہ بیاض سے رنگین تر۔

اگر ایک آدھ سرپھرا کوشش بھی کرے تو اسے کافر کہا یا غداری کا میڈل دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے سرخیلوں کے سینوں پر آویزاں میڈل کسی طور بھی زیب جامہ بننے کے لائق نہیں۔ نہ ہی کسی مولوی کا دستار اور باریش حسن اسکی فراست اور انسانیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ آئے دن ان دستار کے رکھوالوں کی کھولی سے بچوں کی چینختی آواز، سسکتی کراہ، آنکھوں سے ٹپکتا لہو، ان باریش جبہ فروزاں بھیڑیوں کی کہانی زبان ذد عام ہوتی رہتی ہیں۔ ہزار میل دور لڑنے والے فوجی چونکہ جہلم نہیں جاسکتے تو اپنے ہی ہم وطن کی عورتوں کی عزت لوٹنے کیلیئے تاویل ڈھونڈ لاتے ہیں اور اسکا برملا اقرار بھی کرتے ہیں۔

72 سال قبل ترکے میں ملا ریلوے سسٹم ہو، نظام زندگی کے قوانین ہوں، جدید نظام تعلیم یا صحت کا نظام ہو یا مالی وسائل کی فراہمی کا نظام و انصرام، ہم تنوع کے قائل نہیں۔ جدیدیت ہمارے لیئے سم قاتل ہے۔ ہم ‘جہاں ہے اور جیسے ہے’ کی بنیاد پر جینا چاہتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اگر عوام آج بھی چنگچی پر سفر کرتے ہیں تو حیرانگی کیسی؟ اگر تھر میں آج بھی انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ پر پانی پیتے ہیں تو یہ عین مساوات ہے۔ شکوہ کیسا اگر کسی نے روڈ نیٹ ورکس میں انقلاب لانا چاہا تو پابند سلاسل کردیا گیا۔ کسی نے 98 فیصد کے حقوق کی بات کی تو اسے غدار وطن کا لیبل لگا کر ایک مخصوص طریقے سے سیاست سے دور دھکیل دیا گیا۔ نوبل انعام یافتہ کے قبر سے اسکا نام کھرچ دیا گیا۔ ایدھی جیسے فرشتہ کو بھی نہ بخشا گیا۔ بوٹوں کی دھمک اور سکوں کی چمک کو اس قوم کا نجات بتایا گیا۔ تعلیم کو مشرف بہ اسلام کردیا گیا۔ حتی کہ سبزی ترکاری تک کو کلمہ پڑھادیا گیا۔ سائنسی کتب کے ختنے کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ ہم واحد قوم ہیں جو مذہب کا رنگین زیر جامہ لباس کے اوپر پہنتے ہیں اور ڈھول پیٹ پیٹ کر سب کو دکھاتے بھی ہیں۔ مطالعہ پاکستان کے اسباق کو پڑھنے کیلیئے اب حقیقت کی آنکھ نہیں بلکہ زومبی کا دماغ چاہیئے۔ آنکھوں کے گرد جانوروں والی مخصوص سمت دیکھنے والی پٹیاں بندھی ہوں تو، مطالعہ پاکستان سے آگے کی تاریخ نہ سجھائی دیتی ہے، نہ ہی سمجھ آتی ہے۔

ہزاروں سالہ فرسودہ نظام زندگی کو حاصل زندگی قرار دینا ہماری قومی حمیت کا اصول زریں ہے۔ پل کے نیچے بہنے والے پانیوں کا کون حساب کرے، مشکل کام ہے۔ ٹوپی اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔ اور اس پر لوہے کا خود پہن لینا ہی نجات کا زریعہ ہے۔ بسنت، کرسمس سب کافروں کے تہوار ہیں۔ ہم نہیں جاننا چاہتے ہیں کہ ان تہواروں سے معیشت کا پہیہ زور سے چلتا ہے۔ بھوکوں ننگوں کیلیئے روٹی اور روزگار کا انتظام ہوتا ہے۔ مفت کے دسترخوان سجانے سے بہتر روزگار کا درست انتظام کرنا بہترین قدم ہے، جو آج کے بونوں کو سمجھ نہیں آتی! کہاں تک سنوگے؟ ہماری قومی کہانی تو الف لیلوی داستان سے بھی ذیادہ طرحدار اور رنگین ہے۔ جی ہاں خون کیطرح سرخ۔

خیر، نئے سال کی شروعات ہے تو 2020 اور آنے والے تمام سال آپ سب کو بھی مبارک ہوں۔ امید ہے کہ آنیوالے دن اچھے ہونگے۔ امن ہوگا، سکون ہوگا جہاں مذہبی اور عسکری مافیاء اپنی اپنی ارام گاہ میں ہونگے۔ اور ملک میں حقیقی جمہوری راج ہوگا۔ مجھے معلوم یے یہ ایک خواب ہے اور خواب حقیقت نہیں بنتے!!!۔
۔۔۔
جاوید اختر ○

قدرتی آفات | مذہبی عقیدہ اور سائنس ●

 

:مذہبی نکتہ نگاہ سے زلزلہ آنے کے اسباب

عورتوں کا غیر محرم کیلیئے خوشبو لگانا، غیر محرم کے سامنے عورتوں کا ننگا ہونا، اور زنا، شراب اور موسیقی کا عام ہوجانا۔
۔۔۔

:سائنسی پیمانہ سے زلزلہ آنے کے ثابت شدہ اسباب

ماہر ارضیات اور سائنسی نظریہ کے مطابق ہماری زمین سطح سے گہرائی کی جانب اوپر کی جن تہوں پر مشتمل ہے اسے Lithosphere اور Asthenosphere کہتے ہیں۔ بیرونی پرت یعنی لیتھو اسفیئر انتہائی سخت اور ٹھنڈا پرت ہے جبکہ استھینو اسفیئر مقابلتا بہت گرم تہہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے لیتھو اسفیئر کو پہچان کیلیئے سات عدد عظیم الشان تہوں یا پرتوں میں بانٹا ہے، جسے ارضیات کی زبان میں ٹیکٹونیک پلیٹس (Tectonic plates) کہتے ہیں۔ ٹیکٹونیک پلیٹس کی چہار دیواری یا حصار کو فالٹ لائن کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں فالٹ یا cracks پائے جاتے ہیں۔ ایک فالٹ لائن اپنے پڑوس کی دوسری فالٹ لائن سے ملی ہوتی ہے یا اس کے اوپر واقع ہوتی ہے۔

زیر زمین ارضیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تحت جب بڑے پیمانے پر انرجی یا توانائی استھینو اسفیئر سے نکلتی ہے تو انتقال حرارت کے اصولوں، کنویکشن اور کنڈکشن، کے تحت یہ توانائی ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے ہوتی ہوئی اسکے اطراف میں سرایت کر جاتی ہے۔ توانائی کی یہ مقدار بہت ذیادہ اور شدید نوعیت کی ہوتی ہے جو ان پلیٹس کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ توانائی کے اخراج کے ان طریقوں کی بدولت توانائی یا تو عمودی حرکت کرتی ہے یا افقی۔

ان دو حرکتوں کی وجہ سے ٹیکٹونیک پلیٹس میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ارتعاش کی یہ قوت توانائی کی قوت اور حجم پر موقوف ہوتی ہے۔ یعنی توانائی کا اخراج کم ہوگا تو پلیٹس میں ارتعاش بھی کم ہوگا اور ذیادہ ارتعاش کے نتیجہ میں زلزلہ کی شدت بھی اتنی ہی ذیادہ ہوگی۔ نتیجہ میں ہونیوالی تباہی کا زمین کے اوپر فالٹ لائن اور اسکے اطراف پر قائم مکانیت کی تعداد اور زلزلہ کی روک تھام کے معیار سے بالواسطہ تعلق ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں شدت کے زلزلہ کے باوجود کم ہلاکتیں اور نقصانات ہوئے برعکس ان جغرافیائی علاقوں کے جہاں روک تھام کا بندوبست کماحقہ نہیں کیا جاسکا تھا ۔۔۔ مثلا ناقص زلزلہ پروف تعمیرات، بعد از زلزلہ فوری امدادی کام اور طبی امداد بہم نہ پہنچانا وغیرہ۔

وہ علاقے جہاں زلزلے آتے رہتے ہیں وہ انہی ٹیکٹونک پلیٹس پر یا اسکے اریب قریب واقع ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین پر مختلف جغرافیائی ٹکرے ایسے ہیں جو ان ٹیکٹونیک پلیٹس اور انکے فالٹس سے یا تو پرے ہیں یا درمیان میں واقع ہیں۔ جہاں یا تو زلزلہ کی شدت نہیں پہنچتی یا بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان علاقوں میں روس کا علاقہ، مشرقی یورپ مثلا ایسٹونیا، دیگر یورپی ممالک؛ مشرق وسطی، مشرق بعید میں سنگاپور اور انتہائی شمالی ایشیا کے ممالک؛ بحرالکاہل کا ایک بہت بڑا حصہ، جنوبی اور شمالی امریکہ کا وسطی اور شرقی علاقہ اور اسکے علاوہ افریقہ اور آسٹریلیا وہ زمینی خطے ہیں جہاں زلزلہ کا خطرہ یا تو نہیں ہے یا بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا اور فلوریڈا بھی زلزلہ کی اثر انگیزی سے دور ہیں۔ اسکی وجہ ان جغرافیائی خطوں کا ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے پرے واقع ہونا ہے۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ علاقے جہاں زلزلے کے اثرات نہیں پہنچتے یا بہت کم پہنچتے ہیں، کیا وہاں مذہبی نکتہ نگاہ والے گناہ سرزد نہیں ہوتے؟ کیا امریکی و افریقی سرزمین، آسٹریلیا، اور یورپی ممالک میں ننگا پن، زنا، شراب اور موسیقی کا اختتام ہوچکا؟ کیا وہاں سارے لوگ کفر سے تائب ہوکر مومنین اور مصلحین کے درجہ پر فائز ہوچکے؟ یا وہ جغرافیائی خطے مذہبی عقیدہ پروف ہیں؟

افسوس کا مقام یہ ہے کہ سائنس کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب جب اس قسم کی باتوں کو وجہ تسمیہ کہتے ہیں اور اسکا پرزور پروپیگنڈہ کرتے ہیں تو ہم جہادی اور طالبانی کلچر کو کس منھ سے غلط کہیں گے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں، یونیورسٹی اور اعلی تعلیمی اداروں سے جہادی بن کر نکلنے والے ایسے ہی اساتذہ کی زیر نگرانی تیار ہوئے ہوتے ہیں۔

مذہب کو سائنسی توجیہات کیساتھ غلط ملط کرنے سے مطالعہ پاکستان والی نسل ہی پیدا ہوگی، جو پھل، سبزی، پہناوے، پرندے، موسیقی اور رنگ کو اسلامی لباس پہنائینگے۔ اسی لیئے ہمارے ملک میں سائنس، طبیعات اور کیمیاء جیسے مضامین کو اسلامی شہد سے غسل دے کر رنگ برنگی پگڑی پہنادی جاتی ہے، جن کی معلومات مطالعہ پاکستان کی حدود میں قید رہتی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب برصغیر کی ایک بہت بڑی آبادی اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگ پر اٹھا رکھا ہے۔ جب بیل تھک کر سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ واقع ہوتا ہے۔ آج کے دور میں بھی بے شمار لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ زمین گول نہیں چپٹی ہے۔ اور آج بھی ایسے مذہبی عقیدے والے موجود ہیں جو زمین کے چپٹے پن کو درست سمجھتے ہیں۔ حتی کہ مذہبی کتابوں تک میں یہ چپٹا پن چینخ چینخ کر اپنے بونے ہونے کا ثبوت پیش کررہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو انسانی قدم کے چاند پر پہنچنے کو فاسد مانتے ہیں لیکن اگلی ہی سانس میں نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر اذان سننے پر ایمان لے آتے ہیں۔ بادلوں، روٹی اور بیگن میں لفظ اللہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

“!اور تم کن کن نعمتوں کو ٹھکراوگے”
سائنس بھی ایک نعمت ہے، اگر سمجھیں تو! مذہبی عقیدہ اپنی جگہ مگر عقائد کو ثابت شدہ سائنس توجیہہ سے ملانا فکری جہالت کا بلند ترین درجہ ہے۔


جاوید اختر ○

سنہ 2035 کا آئینہ

سنہ 2035 کا آئینہ

:ماضی قریب کے حکومتی اقدامات اور روپہلے فیصلوں کا نتیجہ

“ملک میں سیاسی فہم کا دور دورہ تھا”
“معاشی اشاریئے ترقی کی نوید سنا رہے تھے”
“سفارتی محاذ پر کامیابیاں حکومت کے قدم چوم رہی تھیں”
“عوامی بہبود کے پروگرام سے فلاحی مملکت کے قیام کی راہ ہموار ہورہی تھی”
“مملکت کے تمام ستونوں میں ہم آہنگی تھی”
“وسائل کی بہتات تھی”
“بین الاقوامی محاذ پر تعلقات کی برابری کے سنہرے دور کا آغاز ہوا تھا”
“انصاف سستا اور حصول آسان تھا”
“ہر قسم کی اشرافیہ، منتخب جمہوری حکومت کے ماتحت تھی”
“ادارے توانا اور خود مختار تھے”
“میرٹ کا دور دورہ تھا”
“سیاسی اور حکومتی سطح پر کرپشن نہ ہونے کے برابر تھا”
“عوامی روز مرہ استعمال کی اشیاء وافر اور ارزاں قیمت پر دستیاب تھیں”
“اشیاء کی درآمد و برامد کا حجم ملکی مفاد میں تھا”
“معاشی پالیسیوں کے مثبت اور تسلسل کے طرز عمل سے زر مبادلہ وافر مقدار میں دستیاب تھا”
“ڈالر کے مقابل روپیہ کی قدر مستحکم ترین حالت میں تھی؛ 1 ڈالر تقریبا 50 روپے کے برابر آچکا تھا”
“مسلم امہ میں پاکستان کا مقام دو طرفہ بنیاد پر عزت اور رکھ کھاو کا تھا”
“معاشی ترقی میں پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان سے آگے نکل چکا تھا”
“طبقاتی، نظریاتی اور مذہبی ہم آہنگی عروج پر تھی”
“سیاسی انتقام کا شائبہ تک نہ تھا”
“نفرت اور تعصب کی بنیاد پر کیئے گئے فیصلے واپس کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو کھلے عام کام کرنے کی آزادی دی گئی تھی”
“صوبوں کو وفاقی دولت میں اسکا جائز حصہ دیا گیا تھا”
“ملک کے تمام انتطامی ڈویژن کو صوبوں کا درجہ دے دیا گیا تھا”
“انتظامی اصلاح کے ذریعہ تمام صوبے اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوگئے تھے”
“نہ تو جبری بندش تھی؛ نہ ضمیر کے قیدی اور نہ ہی سوشل ایکٹیوسٹ کسی انتقام کا شکار تھے”
“لوگو کی حب الوطنی پر شبہ گناہ اور جرم شمار کیا جاتا تھا”
“سرکاری سطح پو مذہب کی تبلیغ شجر ممنوعہ قرار دے دی گئی تھی”
“مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیا گیا تھا”
“اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں ریاست نے ایک ماں کا کردار ادا کیا تھا”
“عسکری اشرافیہ سمیت کسی بھی ذیلی ادارے کو ملکی اور حکومتی کارہائے پر ازخود بیان دینے یا ٹوئیٹ کرنے پر پابندی تھی”
“ٹوئیٹ پالیسی کو ناپسندیدہ طریقہ کمیونیکیشن سمجھا جاتا تھا۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کے ذیلی اداروں کے ٹوئیت اکاونٹ ختم کر دیئے گئے تھے”
“حکومتی عہدیداروں کے یو ٹرن والے بیانات کو قانونی گرفت میں لاکر منافقت والا بیانیہ قرار دیا گیا تھا، جس کی سزا مقرر کی گئی تھی”
“مدنی ریاست کا آلاپ کرنے کی ممانعت تھی”
“مسئلہ کشمیر پر ، ٹوئیٹ کرنے، آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے اور وزیر خارجہ کی دوہائی کے بجائے فیصلہ کن کردار ادا کیا گیا تھا، جسکے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف امن ہی امن قائم ہوگیا تھا”
“چونکہ عسکری قوتوں کو جمہوری حکومت کے تابع کردیا گیا تھا اسطرح نا صرف ڈی ایچ اے کے تمام پراجیکٹس حکومتی تحویل میں آچکے تھے بلکہ عسکری اداروں کے من جملہ تمام تجارتی منصوبوں کی اونرشپ جمہوری اداروں کے ماتحت کردیئے گئے تھے”
“پڑوسیوں سے بہترین تعلقات کے نتیجہ میں پائیدار امن قائم ہوچکا تھا اسلیئے فوجی بجٹ میں 50 فیصد سے زائد کٹوتی کر کے بچنے والی رقم تعلیم کے فروغ اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیئے جانے لگے تھے”
“عسکری اور عدالتی عدم ایکٹیویزم کے نتیجہ میں عوام کے ذہنوں سے سرخیل اور عادل وقت کا نام مٹ چکا تھا”
اور __
حکوتی بیانیہ کے مطابق اکتوبر 2016 میں شروع ہونیوالا پشاوربی آر ٹی کا منصوبہ سنہ 2038 میں پایہ تکمیل کو پہنچنے کی قوی امید تھی۔
۔۔۔

مسقبل کے مورخ کو وقت کی دستیاب سیاہی ڈھونڈنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا کہ شغلیہ حکومت کے کسی ایک کام کی بھی مدح سرائی کی جاسکے۔

جاوید اختر ○

《تتلی دبوچ لی میں نے》

《تتلی دبوچ لی میں نے》

۔۔۔

قدرت نے بیشمار نعمتیں اس جہان فانی میں پیدا کیئے۔ انہیں گننے بیٹھیں تو عمر تمام ہو، نعمتیں ختم نہ ہوں۔ ان نعمتوں کی لامحدود فہرست میں سے صرف پھلوں اور پھولوں کے باغات کو لیں جو اپنی دلکشی، بھینی مہکار، اور ان باغات سے حاصل ہونیوالے فوائد بیشمار انسانوں کیساتھ دیگر جانداروں کیلیئے بھی انسیت اور دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ قدرت کی صناعی کو دیکھنے، محسوس کرنے، اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلیئے حضرت انسان باغ کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر چھوٹے چرند، پرندے، بھونرے، تتلیاں اور دیگر جاندار نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں۔

عمر کی حد سے سوا، کیا عورت اور مرد، کیا جوان کیا بچے، کون ہوگا جو ان نعمت بے پایاں سے لطف اندوز ہوکر شکر کا کلمہ ادا نہ کرے۔ اگر غور کیجیئے تو نعمتوں کی اس طویل فہرست میں سبزیاں، پھل پھول اور میوہ جات ہی نہیں بلکہ وہ تمام چرند پرند اور کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض بھی نعمتوں کی فہرست سے باہر نہیں۔

ان باغات میں پائی جانیوالی خوبصورت مخلوقات میں ایک تتلی بھی ہوتی ہے۔ انڈہ اور لاروا سے تتلی بننے کے مراحل دیگر کیڑوں سے مختلف نہیں۔ لیکن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جب تتلی مکمل ہوکر اپنے خول سے باہر آتی ہے اور جوانی کے مرحلہ میں داخل ہوتی ہے تو اسکی کشش، خوبصورتی، رنگوں کی قوس و قزح سے منقش پر، اس مخلوق کو دیگر سے نہ صرف ممتاز کرتی ہے بلکہ تتلی کو قدرت کی صناعی کا ایک اعلی اور عمدہ نمونہ کہنا کسی طور بیجا نہ ہوگا۔ یہ مخلوق پھولوں کی دیوانی، رنگوں کی بارات اپنے جسم پر سجائے ایک پودے سے دوسرے پودے پر اٹھکیلیاں کرتی نظر اتی ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ تتلیاں ان کیڑوں میں سے ایک اہم مخلوق ہے جو دوران سفر اپنے جسم، پروں، اپنے پیروں سے بار اور دانہ ایک پودے سے دوسرے پودے تک منتقل کرتی ہیں۔ یوں کراس ہولینیشن (cross pollination) کے ایک اہم عمل کو انجام دیگر ایک نئے بیج، پھول اور پھل کی پیدائش کا ایک قدرتی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ یوں پودوں میں افزائش نسل کے کام میں قدرت کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔

ویسے تو تتلیاں آزاد اور اڑتی ہوئی ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ باغوں کی اس دلکشی کو ہاتھوں میں قید کرنا افسوسناک اور ایک غلط عمل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی ہاتھوں میں آجائیں تو غور کیجیئے گا کہ اپنے پروں کے رنگ ہمیں دے جاتی ہیں۔ ہمارا ہاتھ اس کے لمس سے رنگین ہوجاتا ہے۔ چند لمحوں کی ہماری خوشی کیلیئے تتلی اپنی خوبصورتی ہم پر وار دیتی ہے۔

غور کیجیئے، ہماری زندگی بھی تتلی کے رنگوں سے عبارت ہے۔ ہمارے ارد گرد پھلیے لوگ، وابسطہ زندگیاں، رشتوں کی فراوانی، ان رشتوں میں پائے جانیوالے اتار چڑھاو تتلی کے پروں جیسے رنگوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں۔ اگر رشتے کچے ہوں تو ہمارے لیئے ایسے رشتوں سے ہاتھ دھولینا بہتر ہے۔ یہ کچے رنگ جیسے رشتے کبھی کبھار تو تن اور من دونوں کو آلودہ کرجاتے ہیں۔ یہ رنگ کبھی چوکھا نہیں آتا۔ یہ رشتے پائیدار نہیں ہوتے۔ ایسے رشتے دور کے ڈھول جیسے سہانے ہوتے ہیں۔ لیکن جب پھٹتے ہیں تو سارے رنگ، سارے سر بکھر جاتے ہیں۔ ایسے میں خواہش ہوتی ہے کہ کاش “ان رنگوں” کو زندگی کا حصہ نہ بنایا ہوتا۔ کاش تتلی کو ہاتھوں میں نہ پکڑا ہوتا۔ کاش اسے دور سے ہی دیکھتا۔ تاکہ رنگوں اور خوبصورتی اور کا بھرم تو قائم رہتا۔ بھرم ٹوٹتا ہے تو، حالانکہ آواز نہیں دیتا، مگر ایک چوٹ دل و دماغ کو دے جاتا ہے۔ رنگ بکھر جاتے ہیں۔ رنگوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

لیکن، دوسری جانب ___

تتلی ایسے بدنما رنگ ہی مزین نہیں ہوتی، اس کے پروں میں خوشنما رنگ بھی ہوتے ہیں۔ وہ رنگ جسے اپنی مٹھیوں میں قید کریں یا نہ کریں، پکے ہوتے ہیں۔ زندگی اگر ایسے خوبصورت رنگ دار رشتوں سے عبارت ہوجائے تو رشتوں کا دکھ سکھ، رشتوں کی نزاکت، رشتوں کی صداقت اور اسکی پاکیزگی عبادت جیسی ہوجاتی ہے۔ سکون کے لمحات ایسے رنگوں کے لمس سے کندن بن جاتے ہیں، امر ہوجاتے ہیں۔

جب رنگوں کی بات چلے تو یہ بھی پڑھتے چلیں کہ زندگی کانٹوں کیساتھ ساتھ ہار سنگھار کے چھوٹے چھوٹے پھولوں سے لدی پھندی ہے۔ صبح کے وقت ، پودوں سے گرے زمین پر پھیلے زرد رنگ یہ ننھے منے پھول زرد قالین کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یار سنگھار کے ان پھولوں کو اگر ہم اپنے دامن میں بھر لیں تو ہمارا جیون خوشیوں کے پھولوں کی بھینی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔ یہی وہ رنگ ہیں، یہی وہ اصل اور پکے رشتے ہیں جو ہماری اور آپکی زندگی کا سرمایہ ہیں، باقی سب مایہ ہیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ رنگوں اور رشتوں کا انتخاب ہمیں سکھ بھی دے سکتا ہے اور بعض اوقات دکھ اور پچھتاوا بھی۔ رشتوں کے رنگوں کو پہچانیئے۔ اپنے ارد گرد سچے اور تتلی کے عمدہ رنگوں کی رنگولی بنائیے۔ ایسے رنگ اور ایسے رشتوں کا انتخاب کیجیئے جن سے ہار سنگھار کے پھولوں جیسی خوشبو آئے!

۔۔۔

○ جاوید اختر

!جھولا

!جھولا ●
۔۔۔
جھولوں سے کون نہیں واقف؟ ہم میں سے ایسا کون ہوگا جس نے اپنی عمر کے کسی حصہ میں جھولوں کا لطف نہ لیا ہوگا۔ بچے تو خیر جھولوں کے دیوانے ہوتے ہی ہیں لیکن بڑے بھی جھولوں سے پینگیں بڑھانے سے باز نہیں آتے، بس نظر آنے کی دیر ہے۔ اگر بچوں کو اس شوق سے علیحدہ بھی کردیں تو خواتین کو کیسے نکالیں گے؟ باغوں میں خواتین ہوں اور جھولے خالی نظر آجائیں، یہ ہو نہیں سکتا۔ اور اگر بارش کی رم جھم ہو تو جھولوں کی پینگیں، گلگلوں کے تھال اور ہماری خواتین، یہ تین عناصر سرکشی پر اتر اتے ہیں۔

جہاں پینگیں بڑھاتے تھے شجر وہ یاد کرتے ہیں
وہ جھولے پوچھتے ہیں اب تمہیں ساون بلاتا ہے
(دویش دکشت)

جھولے کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر سبھی ہوا باز ہوتے ہیں، ہواوں سے باتیں کرتے ہیں۔ گھر کے صحن میں لگے ہوں یا پارک کے کونوں میں، دالان میں ایستادہ ہوں یا دادی جی کیلیئے مکان کے برآمدے میں چھت سے لوہے کے کنڈوں سے لٹکے ہوئے، دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، بلاتے ہیں، اپنی گود وا کردیتے ہیں۔ اپنے بازو پھیلا کر اس میں سمانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر جھولا لینے والوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ آگے کی طرف کتنا جاتا ہے اور اسی طرح پیچھے کتنا!

زمانہ جدید میں جھولوں کی کئی اقسام ہیں جن میں خاص طور پر الیکٹریکل طویل قامت جھولے جس میں بیٹھنے کے بعد افسوس ہوتا ہے کہ کیوں بیٹھے۔ چیخیں تو چیخیں، جان تک نکل جاتی ہے۔ اور تو اور بعض اوقات پیشاب تک خطا ہوجاتا ہے۔

سچ پوچھیئے تو جھولوں میں کیا رکھا ہے، اسکے ہچکولوں میں ہی تو لطف ہوتا ہے۔ مذید یہ کہ جھولا کوئی بھی ہو، اسکا انداز، برتاو، اور اسکی ہیئت، اسکا استعمال ہم انسانوں کو ایک سبق بھی دیتا ہے۔ غور کریں تو جھولا ہماری زندگی کے معاملات پر اسطرح منطبق ہوتا ہے کہ اس کا ہر ہچکولا (oscillation) یہ کہتا ہے کہ زندگی کبھی اوپر جانے کا نام ہے تو اسی زندگی میں نیچے بھی آنا ہوتا ہے۔ ہمیشہ اونچائی کا ساتھ نہیں رہنا۔ جس طرح جھولے میں دھکے کی قوت کے ساتھ جو اسراع (acceleration) پیدا ہوتا ہے، اسی اسراع کے تحت زندگی کا جھولا پھر نیچے کی طرف بھی آتا ہے۔ جھولے پر بیٹھنے والے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اونچائی پر جانے سے پیدا شدہ اسراع کےجن کو کیسے قابو کرتا ہے۔ اس کا مثبت استعمال زندگی کے جھولے میں نیچے کیطرف آتے ہوئے متانت، سنجیدگی، فہم و فراست سے بھرپور عمل اور سوچ کے زاویئے اسے اونچائی سے گرنے نہیں دیتے۔

نہیں ہے مرجع آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
انسان جب تک جھولے کے ہچکولے سے لطف اندوز ہوتا ہے، بھول جاتا ہے کہ اسے ایک دن نیچے بھی آنا ہوگا۔ اپنی اڑان، اپنی مستی میں وہ دنیا میں رہنے کے آداب اور اسکے تقاضے بھول کر خود کو ارفع و اعلی تصور کرتا ہے۔ حالانکہ زندگی کے حوادث کا ایک جھٹکا اسے عرش سے فرش پر لے اتا ہے۔ ایک دن اسکا تنا ہوا بدن، اسکا تنومند جسم، جوانی سے بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہر عمل اسے آہستہ آہستہ خاک کی جانب کھینچ رہا ہوتا ہے۔ مگر وقت اسوقت انسان کے ہاتھ سے ریت کی طرح سرک چکا ہوتا ہے۔

جھولے سے لطف اندوز ہونا ہم سب کا حق یے مگر، مرجع آدم کی منزل ہمیشہ پیش منظر ہو تو کیا ہی بہتر ہو۔

!زندگی چند روزہ ہے۔ موت برحق یے۔ مگر حسن اخلاق اور حقوق العباد پر تیقن کا تحفہ ہی احسن ہے
۔۔۔
جاوید اختر ○

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

۔۔۔
کرکٹ 2019 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کرکٹ کی نرسری انگلستان میں ایک جشن کا سماں ہے۔ انگلش یوتھیئے اور یوتھنیئائیں سڑکوں پر امڈ آئے ہیں۔ کہیں آتش بازی تو کہیں قحبہ خانہ میں جمی تاش کی بازی۔ لنڈھائے گئے جام کے تام جھام اپنی جگہ اور انگریز دوشیزاوں کے ہوش ربا جلوے اپنی جگہ۔ کیا گورے، کیا کالے اور کیا مذید کالے، ہر کوئی مست گھوم رہا ہے۔ چرچل کا انگلستا اب ہوا پرانا۔ نیا انگلستان بس اب بننے کو ہے!

اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ڈی جی ایم آئی 6 نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں انگریز قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ___
“مستقبل کے وزیر اعظم نے اپنی حکمت عملی سے دشمن کیوی کی کمر توڑ دی ہے۔ اب کیوی ٹیم کے شکست خوردہ عناصر کو اپنے ملک میں بھی جائے پناہ نہیں ملیگی۔”

اس موقع خاص پر برٹش آرمی کے سربراہ نے فارمیشن میٹنگ کے بعد ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی معیشت میں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں دہشت گردی ختم کردی گئی ہے۔ انگلش ٹیم کیطرف میلی نظر سے دیکھنے والے کیویوں کی آنکھیں نکال دی جائینگی۔ نیوزی لینڈ والوں کو سرحد کے پار کامیابی سے دھکیل دیا گیا ہے۔ اب انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

ہوم سیکریٹری (وزیر داخلہ) جناب ساجد جاوید نے مخالف ٹیم کے تمام کرکٹنگ عناصر بالخصوص فاسٹ بالرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی شرپسندی والی سوئنگ بالنگ سے باز آجائیں ورنہ ان سے آہنی گیندوں سے نمٹا جائیگا۔

انگلش کپتان مورگن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا کہ وہ لوٹی گئی دولت مشترکہ واپس لائینگے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ کرپٹ لوگوں کو الٹا لٹکائینگے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ این آر او نہیں دینگے، سکاٹ لیند یارڈ کو خودمختار ادارہ بنائینگے۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ نیوزی لینڈ کا چیپٹر کلوز ہوگیا ہے۔ اب لندن سے خوف کی فضا ختم ہوچکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اقتدار میں آکر 10 ڈاوننگ اسٹریٹ کو لائبریری میں تبدیل کردینگے۔

کپتان مورگن کے دست راست، اور کمسن جوفرا آرچر نے انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ___
“حکومت میں آنے کے بعد کرپٹ ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان سے لوٹی گئی 200 ارب پاونڈ برآمد کی جائیگی۔ جسمیں سے 100 ارب پاونڈ انکا کپتان مورگن، اگلے دن مودی کے منھ پر مارے گا اور بقیہ 100 ارب پاونڈ ملکہ کی تاج پوشی پر خرچ کیا جائیگا۔”

خوشی کے اس موقع پر انگلستان کے سب سے بڑے نیوز چینل بی بی سی پر، جسے اے آر وائی نے خرید لیا ہے، ایک اینکر اپنی کانسپریسی تھیوری کے فیل ہونے پر بادامی چھوہارے کھاتے دیکھا گیا۔ اے آر وائی کے صحافی شفیع نقی کا کہنا تھا کہ اب ہمارا کپتان مورگن انگلینڈ کو ترقی کی سمت گامزن کردیگا۔ اب نیوزی لینڈ کو پتہ چل جانا چاہیئے کہ برٹش آرمی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے۔ اب دشمن انکا بال بیکا نہیں کرسکتا۔

ڈیفنس انالسٹ پینی مورڈاونٹ کا خیال ہے کہ اب پاونڈ سٹرلنگ کو دہشت گردی کا شکار نہیں ہونے دینگے۔ ہمارا ڈیفینس اب مظبوط ہاتھوں میں ہے۔ آئرلینڈ میں جلد ہی ڈی ایچ اے ہاوسنگ اسکیم شروع کی جائیگی۔ جس کے لیئے 92 والے کپتان وزیراعظم سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

آخر میں برٹش آرمی، ایم آئی سکس، سکاٹ لینڈ یارڈ اور آے آر وائی کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے کپتان مورگن سے ڈبلن میں انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں اپنی نیک خواہشات اور ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔

کپتان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوٹا ہوا مال واپس لائینگے، چاہے انہیں ہائیڈ پارک میں دھرنا ہی کیوں نا دینا پڑے!

○ جاوید اختر