《تتلی دبوچ لی میں نے》

《تتلی دبوچ لی میں نے》

۔۔۔

قدرت نے بیشمار نعمتیں اس جہان فانی میں پیدا کیئے۔ انہیں گننے بیٹھیں تو عمر تمام ہو، نعمتیں ختم نہ ہوں۔ ان نعمتوں کی لامحدود فہرست میں سے صرف پھلوں اور پھولوں کے باغات کو لیں جو اپنی دلکشی، بھینی مہکار، اور ان باغات سے حاصل ہونیوالے فوائد بیشمار انسانوں کیساتھ دیگر جانداروں کیلیئے بھی انسیت اور دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ قدرت کی صناعی کو دیکھنے، محسوس کرنے، اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلیئے حضرت انسان باغ کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر چھوٹے چرند، پرندے، بھونرے، تتلیاں اور دیگر جاندار نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں۔

عمر کی حد سے سوا، کیا عورت اور مرد، کیا جوان کیا بچے، کون ہوگا جو ان نعمت بے پایاں سے لطف اندوز ہوکر شکر کا کلمہ ادا نہ کرے۔ اگر غور کیجیئے تو نعمتوں کی اس طویل فہرست میں سبزیاں، پھل پھول اور میوہ جات ہی نہیں بلکہ وہ تمام چرند پرند اور کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض بھی نعمتوں کی فہرست سے باہر نہیں۔

ان باغات میں پائی جانیوالی خوبصورت مخلوقات میں ایک تتلی بھی ہوتی ہے۔ انڈہ اور لاروا سے تتلی بننے کے مراحل دیگر کیڑوں سے مختلف نہیں۔ لیکن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جب تتلی مکمل ہوکر اپنے خول سے باہر آتی ہے اور جوانی کے مرحلہ میں داخل ہوتی ہے تو اسکی کشش، خوبصورتی، رنگوں کی قوس و قزح سے منقش پر، اس مخلوق کو دیگر سے نہ صرف ممتاز کرتی ہے بلکہ تتلی کو قدرت کی صناعی کا ایک اعلی اور عمدہ نمونہ کہنا کسی طور بیجا نہ ہوگا۔ یہ مخلوق پھولوں کی دیوانی، رنگوں کی بارات اپنے جسم پر سجائے ایک پودے سے دوسرے پودے پر اٹھکیلیاں کرتی نظر اتی ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ تتلیاں ان کیڑوں میں سے ایک اہم مخلوق ہے جو دوران سفر اپنے جسم، پروں، اپنے پیروں سے بار اور دانہ ایک پودے سے دوسرے پودے تک منتقل کرتی ہیں۔ یوں کراس ہولینیشن (cross pollination) کے ایک اہم عمل کو انجام دیگر ایک نئے بیج، پھول اور پھل کی پیدائش کا ایک قدرتی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ یوں پودوں میں افزائش نسل کے کام میں قدرت کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔

ویسے تو تتلیاں آزاد اور اڑتی ہوئی ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ باغوں کی اس دلکشی کو ہاتھوں میں قید کرنا افسوسناک اور ایک غلط عمل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی ہاتھوں میں آجائیں تو غور کیجیئے گا کہ اپنے پروں کے رنگ ہمیں دے جاتی ہیں۔ ہمارا ہاتھ اس کے لمس سے رنگین ہوجاتا ہے۔ چند لمحوں کی ہماری خوشی کیلیئے تتلی اپنی خوبصورتی ہم پر وار دیتی ہے۔

غور کیجیئے، ہماری زندگی بھی تتلی کے رنگوں سے عبارت ہے۔ ہمارے ارد گرد پھلیے لوگ، وابسطہ زندگیاں، رشتوں کی فراوانی، ان رشتوں میں پائے جانیوالے اتار چڑھاو تتلی کے پروں جیسے رنگوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں۔ اگر رشتے کچے ہوں تو ہمارے لیئے ایسے رشتوں سے ہاتھ دھولینا بہتر ہے۔ یہ کچے رنگ جیسے رشتے کبھی کبھار تو تن اور من دونوں کو آلودہ کرجاتے ہیں۔ یہ رنگ کبھی چوکھا نہیں آتا۔ یہ رشتے پائیدار نہیں ہوتے۔ ایسے رشتے دور کے ڈھول جیسے سہانے ہوتے ہیں۔ لیکن جب پھٹتے ہیں تو سارے رنگ، سارے سر بکھر جاتے ہیں۔ ایسے میں خواہش ہوتی ہے کہ کاش “ان رنگوں” کو زندگی کا حصہ نہ بنایا ہوتا۔ کاش تتلی کو ہاتھوں میں نہ پکڑا ہوتا۔ کاش اسے دور سے ہی دیکھتا۔ تاکہ رنگوں اور خوبصورتی اور کا بھرم تو قائم رہتا۔ بھرم ٹوٹتا ہے تو، حالانکہ آواز نہیں دیتا، مگر ایک چوٹ دل و دماغ کو دے جاتا ہے۔ رنگ بکھر جاتے ہیں۔ رنگوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

لیکن، دوسری جانب ___

تتلی ایسے بدنما رنگ ہی مزین نہیں ہوتی، اس کے پروں میں خوشنما رنگ بھی ہوتے ہیں۔ وہ رنگ جسے اپنی مٹھیوں میں قید کریں یا نہ کریں، پکے ہوتے ہیں۔ زندگی اگر ایسے خوبصورت رنگ دار رشتوں سے عبارت ہوجائے تو رشتوں کا دکھ سکھ، رشتوں کی نزاکت، رشتوں کی صداقت اور اسکی پاکیزگی عبادت جیسی ہوجاتی ہے۔ سکون کے لمحات ایسے رنگوں کے لمس سے کندن بن جاتے ہیں، امر ہوجاتے ہیں۔

جب رنگوں کی بات چلے تو یہ بھی پڑھتے چلیں کہ زندگی کانٹوں کیساتھ ساتھ ہار سنگھار کے چھوٹے چھوٹے پھولوں سے لدی پھندی ہے۔ صبح کے وقت ، پودوں سے گرے زمین پر پھیلے زرد رنگ یہ ننھے منے پھول زرد قالین کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یار سنگھار کے ان پھولوں کو اگر ہم اپنے دامن میں بھر لیں تو ہمارا جیون خوشیوں کے پھولوں کی بھینی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔ یہی وہ رنگ ہیں، یہی وہ اصل اور پکے رشتے ہیں جو ہماری اور آپکی زندگی کا سرمایہ ہیں، باقی سب مایہ ہیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ رنگوں اور رشتوں کا انتخاب ہمیں سکھ بھی دے سکتا ہے اور بعض اوقات دکھ اور پچھتاوا بھی۔ رشتوں کے رنگوں کو پہچانیئے۔ اپنے ارد گرد سچے اور تتلی کے عمدہ رنگوں کی رنگولی بنائیے۔ ایسے رنگ اور ایسے رشتوں کا انتخاب کیجیئے جن سے ہار سنگھار کے پھولوں جیسی خوشبو آئے!

۔۔۔

○ جاوید اختر

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

۔۔۔
کرکٹ 2019 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کرکٹ کی نرسری انگلستان میں ایک جشن کا سماں ہے۔ انگلش یوتھیئے اور یوتھنیئائیں سڑکوں پر امڈ آئے ہیں۔ کہیں آتش بازی تو کہیں قحبہ خانہ میں جمی تاش کی بازی۔ لنڈھائے گئے جام کے تام جھام اپنی جگہ اور انگریز دوشیزاوں کے ہوش ربا جلوے اپنی جگہ۔ کیا گورے، کیا کالے اور کیا مذید کالے، ہر کوئی مست گھوم رہا ہے۔ چرچل کا انگلستا اب ہوا پرانا۔ نیا انگلستان بس اب بننے کو ہے!

اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ڈی جی ایم آئی 6 نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں انگریز قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ___
“مستقبل کے وزیر اعظم نے اپنی حکمت عملی سے دشمن کیوی کی کمر توڑ دی ہے۔ اب کیوی ٹیم کے شکست خوردہ عناصر کو اپنے ملک میں بھی جائے پناہ نہیں ملیگی۔”

اس موقع خاص پر برٹش آرمی کے سربراہ نے فارمیشن میٹنگ کے بعد ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی معیشت میں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں دہشت گردی ختم کردی گئی ہے۔ انگلش ٹیم کیطرف میلی نظر سے دیکھنے والے کیویوں کی آنکھیں نکال دی جائینگی۔ نیوزی لینڈ والوں کو سرحد کے پار کامیابی سے دھکیل دیا گیا ہے۔ اب انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

ہوم سیکریٹری (وزیر داخلہ) جناب ساجد جاوید نے مخالف ٹیم کے تمام کرکٹنگ عناصر بالخصوص فاسٹ بالرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی شرپسندی والی سوئنگ بالنگ سے باز آجائیں ورنہ ان سے آہنی گیندوں سے نمٹا جائیگا۔

انگلش کپتان مورگن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا کہ وہ لوٹی گئی دولت مشترکہ واپس لائینگے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ کرپٹ لوگوں کو الٹا لٹکائینگے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ این آر او نہیں دینگے، سکاٹ لیند یارڈ کو خودمختار ادارہ بنائینگے۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ نیوزی لینڈ کا چیپٹر کلوز ہوگیا ہے۔ اب لندن سے خوف کی فضا ختم ہوچکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اقتدار میں آکر 10 ڈاوننگ اسٹریٹ کو لائبریری میں تبدیل کردینگے۔

کپتان مورگن کے دست راست، اور کمسن جوفرا آرچر نے انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ___
“حکومت میں آنے کے بعد کرپٹ ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان سے لوٹی گئی 200 ارب پاونڈ برآمد کی جائیگی۔ جسمیں سے 100 ارب پاونڈ انکا کپتان مورگن، اگلے دن مودی کے منھ پر مارے گا اور بقیہ 100 ارب پاونڈ ملکہ کی تاج پوشی پر خرچ کیا جائیگا۔”

خوشی کے اس موقع پر انگلستان کے سب سے بڑے نیوز چینل بی بی سی پر، جسے اے آر وائی نے خرید لیا ہے، ایک اینکر اپنی کانسپریسی تھیوری کے فیل ہونے پر بادامی چھوہارے کھاتے دیکھا گیا۔ اے آر وائی کے صحافی شفیع نقی کا کہنا تھا کہ اب ہمارا کپتان مورگن انگلینڈ کو ترقی کی سمت گامزن کردیگا۔ اب نیوزی لینڈ کو پتہ چل جانا چاہیئے کہ برٹش آرمی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے۔ اب دشمن انکا بال بیکا نہیں کرسکتا۔

ڈیفنس انالسٹ پینی مورڈاونٹ کا خیال ہے کہ اب پاونڈ سٹرلنگ کو دہشت گردی کا شکار نہیں ہونے دینگے۔ ہمارا ڈیفینس اب مظبوط ہاتھوں میں ہے۔ آئرلینڈ میں جلد ہی ڈی ایچ اے ہاوسنگ اسکیم شروع کی جائیگی۔ جس کے لیئے 92 والے کپتان وزیراعظم سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

آخر میں برٹش آرمی، ایم آئی سکس، سکاٹ لینڈ یارڈ اور آے آر وائی کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے کپتان مورگن سے ڈبلن میں انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں اپنی نیک خواہشات اور ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔

کپتان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوٹا ہوا مال واپس لائینگے، چاہے انہیں ہائیڈ پارک میں دھرنا ہی کیوں نا دینا پڑے!

○ جاوید اختر

غالب کا خط عالم بالا سے ●

وقت کے عظیم ترین فلاسفر، شاعر، نثر نگار اور اردو زبان کے پیغمبر جناب مرزا اسداللہ خان غالب کا آج یوم پیدائش ہے۔نوشہ میاں کی شان کو تو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اور نہ ہی اس جیسی ہستی کا کوئی ہمسر ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے اس عظیم مدبر کو آئیے خراج عقیدت پیش کریں کہ جو اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک پوری تاریخ ہے۔ اردو زبان پر رہتی دنیا تک اس کا فسوں چھایا رہےگا۔ اردو زبان مرزا اسد اللہ خان غالب کے ایک ایک لفظ کی امانت دار ہے اور جب تب دنیا باقی ہے، اردو بولنے والے غالب کا یہ احسان کبھی نہیں اتارسکتے۔

!!!اشاعت مکر کے طور پر میری ایک تحریر پچھلے سال کی لوح سے پیش خدمت ہے۔ لطف اٹھائیے


غالب کا خط عالم بالا سے ●

اچھی صلاح دی میاں کہ ستائیسویں دسمبر کو یوم غالب عام کیا جاوے، پر لڑکنوں بالوں کو کون سمجھائے۔ یہ سسرے نہ تو غالب سے آشنائی رکھیں ہیں نہ شبستانوں کے درماں۔ ہاں، نئے زمانے کے گویّوں کے خوب رسیا ٹہرے۔ بارا ربیع الاول کو بھی اسی ڈھول تاشے سے مناتے ہیں جیسے اپنی ماں کے خصم کی بارات۔ اب اگر اس موقع پر بھی باجے تماشے ہوں تو پھر شکایت مت کرنا۔

حکومت وقت کو ابھی اپنے وزیر اعظم کی پناما چھید سی لینے دو۔ بزاز اور خیاط کا انصرام ہونے کو ہے۔ پھر رفو گر کی ہشیاری دیکھنا۔ جرنیل با تدبیر کی وداعی سے فارغ ہو کر نئے نویلے بانکے چھبیلے کی سلامی لینے دو، تجویز رکھتے ہیں۔ چٹھی تو تیار ہے بس قاصد کا انتظار؛ کوئی پل آتا ہی ہوگا۔ پھر بادشاہ سلامت جانیں یا تم۔ ہمیں کیا لینا دینا۔ حکومت وقت تو ہم سے خوش نہیں۔ بار بار ہرکارے آتے ہیں، لیکن طبیعت سلامی پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ابھی پچھلے چہار شنبہ ہی نیوتا بھیجا تھا۔ ساتھ میں دو عدد ولایتی مع ظروف و متاع بھی۔ ہرکارے کو دالان سے ہی واپس لوٹا بھیجا۔ طبیعت ملنا گوارا نہ تھی۔ سوچ کی چاندنی تو اجلی تھی مگر مے ارغوانی۔ شربتی مے کا سامان البتہ اس سوچ کے ما حاصل رکھ لیا کہ اس کا کیا قصور۔ پیالہ ہم اپنا ہی چلاتے ہیں؛ گر ٹوٹ بھی جاوے تو غم نہیں۔ بازار سے سستا منگوا لینگے۔

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

لیکن اس سے مطلب و مراد نہیں کہ ہم مے کے رسیا ہیں۔ بس پنش کی امیدی اور نا امیدی بیچ ٹنگے رہتے ہیں۔ اب آوے کہ تب۔ ملنے پر قرض خواہوں کےپچھلے حساب میں غرق۔ مے کی طلب دیکھ کر اپنے حکیم مومن خان مومن نے مجھے اپنا شعر بخش دیا تھا۔ اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔ کیا آزاد مرد تھا۔
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

بادشاہ سلامت آجکل اپنی صاحبزادی نیک خصال وجمال کی دختر نیک اختر کی رخصتی میں مگن ہیں۔ سنا ہے پڑوس کے بادشاہ بمعہ اہل ثروت مہمان ہوئے ہیں۔ عوم الناس کو دیکھا سنا، خوب بھپتی کستی رہی ہے۔ لباس شاہی کا اب تو انداز و طریقہ بھی بدل گیا۔ کج کلاہ کی جگہ دربانوں کا حلیہ بنا لیا۔ روایت شکنی کا ارادہ ہے شائد۔ مصاحبین سے مشورہ ہی کیا ہوگا، حالانکہ یہ حلیہ شاہ معظم کے جلال کو رونق نہیں دیتا۔ اس ہنگام میں حکومتی امور ٹھپ ہیں۔ درباری گوئیے شان میں قصیدے لکھ اور سنا رہے ہیں۔ مال وزر کا یہی سستا رستہ ہے۔برادر شیخ ابراہیم ذوق کی یاد تازہ ہوگئی۔

سپہ گری زورں پر ہے۔ کچھ تم ہی بتاؤ۔ بادشاہ سلامت اور سپہ سالار کے مابین ان بن کی شنید ہے دیکھیں ہیں، پردہ غیب سے کیا ظہور پھوٹتا ہے۔ کوئی خبر ملے تو قاصد روانہ کرنا۔ ہو سکے تو دو صد سکوں کی پوٹلی بھی۔ پنشن ملتے ہی لوٹا دونگا۔

سننے میں ہے کہ نادر روزگار مخلوق دارلخلافہ میں ہے۔ عجیب عجیب اور بے سروپا باتیں کرتا ہے۔ ولے کبھی سپہ سالار کے گن گاتا ہے، تو کبھی اوٹ پٹانگ دعوے۔ قحبہ گری اور کتوں کا شوق ہے۔ زنانیوں کی صحبت لیکن زوجیت کے مسائل۔ نازنینوں کا شوق ہم بھی رکھتے تھے۔ لیکن چولی اور دامن کو جدا ہی رکھا۔ نازکیوں اور سبک خرام کی کوٹھوں والی کہانیاں بھی عالم زوفشاں ہیں۔ کبھی اعضاء کی شاعری ماہ جبینوں کے بالا خانوں پر سجتی تھیں، اب نوید ہے پختہ راستوں اور چوراہوں پر بازار سجتے ہیں۔ مراثیوں اور ٹھٹھے باز سر راہ سراہے جاتے ہیں۔ کیا نادر روزگار لوگ ہیں۔بادشاہ سلامت کی ڈھیل نہ جانے کیا شگوفہ افروزی کرے۔ کاش ہم بھی شاہ کے طرفدار ہوتے۔
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

طبیعت کو پوچھا نہیں، لیکن بتا دیتے ہیں کہ بس اب جانے کو ہے؛ دوگام کا سفر ہنوز باقی ہے۔ زندگی سے نسبت اب نام کو ہے۔ اجل کا بلاوہ آنے کو ہے۔
قید حیات و بند غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

عمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکنمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکن ہے آدم کی پسلی سے پھوٹنے والی رعنائیوں کی الفت کے طفیل بخشش ہوجائے۔
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
۔۔۔

والسلام
جاوید اختر

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔

 


 

○ جاوید اختر

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔


○ جاوید اختر

ماموں •

ماموں •


دو سال پہلے خاندان میں شادی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجھے شادی کے لئے ایک خوبصورت لڑکی سے ملوایا گیا۔ ملنے کے بعد لڑکی نے میری پرائیویٹ نوکری کو لیکر نا پسند کرتے ہوئے مجھے انکار کر دیا۔ میں نے زچ ہو کر کہا تم غلطی کر رہی ہو، دیکھنا یہی نوکری محض دو سالوں میں مجھے کتنی بلندی تک پہنچائے گی۔ البتہ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی ہوگئی جو ہونی ہی تھی۔

چار سال بعد ___

اسی خوبصورت لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ برانڈ نیو آوڈی کار میں دیکھا۔ اس وقت میں اپنی بائک کو کک مار رہا تھا کیونکہ اس کی بیٹری کام نہیں کر رہی تھی۔ اس نے اپنی کار سے میری طرف دیکھا لیکن سر پر ہیلمیٹ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہ سکی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اس وقت مجھے ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس ہوا، لہذا اپنی حفاظت کے لئے ہیلمیٹ ضرور پہنیں، جو آپ کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھائے گا، کبھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیگا۔

“چناچہ براہ مہربانی موٹر سائیکل چلانے وقت ہیلمیٹ کا استعمال ضرور کریں۔”

مضمون  کا اوپری حصہ کاپی شدہ ہے۔

آخری  جملہ کو اگے بڑھاتے ہوئے میری تحریر پڑھیئے۔ یہ تحریر نہیں، بہت سے نوجوانوں کا نوحہ ہے۔

 ___ ۔۔۔اور کہانی آگے کچھ یوں ہے کہ

وہ لڑکی تو اپنے شوہر کیساتھ آگے چلی گئی۔ میں ہیلمٹ کے اندر حسرت و یاس کی تصویر بنا آوڈی ایس 8، 2018 ماڈل، سیکنڈ جنریشن کی ٹیل لائٹ کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ آوڈی کیا گئی جیسے جاتے جاتے میرے کھوکھلے دعوں کی پول پٹی کھول گئی ہو۔ ہیلمٹ کے اندر میرے چہرے سے پھسلتے عرق انفعال کے قطرے گویا میری عزت نفس کی غسل میت کا کام کر رہے تھے۔  

 ___ پھر اچانک ہی میرے اندر کا غیور انسان بیدار ہوا اور میں خود سے بڑبڑا نے لگا

یہ دولت، مال و اسباب، یہ زر و زن سب مایہ ہے، چند روزہ ہے۔ اصل دولت اور گوہر نایاب تو وہ تسکین ہے جو سی ڈی 70 چلانے والوں کو حاصل ہے۔ دولت کے بل پر ایک نہیں کئی آوڈی خریدی جاسکتی ہیں لیکن غیرت کے بل پر ایک سی ڈی 70 کی سواری سے حاصل ہونیوالی خودی کی دولت، یہ اونچی کوٹھی والے کیا جانیں۔ میرے نذدیک یہ سب دنیاوی ہے۔ ہاتھ کا میل ہے۔ دل کا سرور نہیں۔ جو اطمنان و سکون اس کھٹارا موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہیلمٹ کے اندر حاصل ہے، آوڈی میں بیٹھنے والی لڑکی کو اس کا ادراک ہی نہیں ___ جاہل کہیں کی؛ اچھا ہوا میری زندگی میں آئی ہی نہیں۔

انہی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ کسی نے میرا شانہ تھپتھپایا۔ پلٹ کر دیکھا تو کوئی موٹر سائیکل سوار تھا اور ہاتھ میں پستول۔ میں سمجھ گیا کہ اج قربانی کا دن ہے۔ اور مجھ سے بھی ذیادہ اس غریب کو ایک موبائل کی ضرورت ہے۔ چند لمحوں پہلے کی غیرت و حمیت ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی، کسی غریب کی مدد کا جذبہ ابھی غالب تھا۔ موبائل اسکے حوالے کیا۔ شائد اس کی ضرورت ذیادہ تھی۔ پرس اور ہاتھ کی گھڑی بھی اس پر وار دیا۔ شکر ہے بڑا ہی قناعت پسند بندہ تھا ورنہ اسے موٹرسائیکل کی بھی ضرورت پڑسکتی تھی۔

غمگین دل کیساتھ کک ماری اور ان انکھوں سے بچتے ہوئے موٹر سائیکل گیئر میں ڈال دی جو میرے جذبہ امداد غریباں کو ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ گویا ان انکھون کا کہنا تھا کہ بھائی آپ بھی غریبوں کے اتنے ہی ہمدرد ہیں۔ مبارک ہو ہم سب ساتھ ساتھ ہیں۔

جانا کہیں تھا لیکن راستے کے حوادث نے نجانے کہاں دھکیل دیا۔ غلط راستہ کا انتخاب شائد جان بوجھ کر کیا تھا اوڈی والا رستہ میرا نہیں۔ مجھے اپنا رستہ خود بنانا ہے۔ لیکن اندر کسی چیز کے ٹوٹنے کی اواز آرہی تھی۔ خلش تھی یا انا، پتہ نہیں لیکن کچھ تو تھی جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ ایسے میں ایک دفعہ پھر میرا ہیلمٹ میرا سہارا بنا ورنہ لوگ بے وجہ میری اداسی کا سبب پوچھتے پھرتے۔سبب پوچھتے پھرتے۔

بجھے دل کیساتھ رستہ طے کیا۔ منزل تھی اپنا گھر۔ موٹر سائیکل اسٹینڈ کے سہارے کھڑی کی اور اندر داخل ہوا۔ اندر سے شور کی آوازیں آرہی تھیں۔ بچوں کا شور۔ غالبا باجی آئی ہوئی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی با اواز بلند نعرہ سنائی دیا۔

___ !ماموں آگئے

یہ بتانا تو بھول گیا کہ میں ایک چھوٹی سی نوکری کرتا ہوں۔ چھوٹی نوکری نہ ہوتی تو موٹر سائیکل کے بجائے کار ہوتی۔ گزارا مشکل تھا اس لیئے فارغ وقت میں ٹیوشز کرتا تھا۔ جب سے روپے کی ویلیو کم ہوئی تھی، اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جارہی تھیں۔ بیگم کے نخرے پورے کرنے کے واسطے نئی ٹیوشن کی تلاش تھی۔ انٹرویو کا بلاوا آیا تھا۔ پتہ سے امیروں کا محلہ معلوم ہوتا تھا جہاں کے 2000 ہزار گز کے ایک پلاٹ میں ہمارے 60، 60 گز کے 30 سے زائد پلاٹ نکل آئیں۔ کسی تیسری کلاس کی بچی کے لیئے ٹیوشن کی تلاش تھی۔

ڈھونڈتا ڈھانتا دیئے گئے پتہ پر پہنچا۔ مکان کیا تھا، خوابوں کا محل تھا۔ باہر گارڈ تعینات تھے۔ دو گاڑیاں بھی کھڑی نظر آئیں۔ نظر سے اوجھل رکھنے کیلیئے میں نے اپنی کھٹارا دور پرے کھڑی کی۔ گارڈ کو بتایا کہ انٹرویو کیلیئے مدعو ہوں۔ گارڈ نے کہا کہ صاحب لوگ تو گھر پر نہیں ہیں۔ میرے زور دینے پر گارڈ نے اندر سے معلومات لی اور بتایا کہ صاحب نے کہا ہے کہ مجھے اندر بٹھایا جائے۔ وہ لوگ جلد آنے والے ہیں۔ برے وقت میں کام آنے والے ہیلمٹ کو گارڈ روم میں رکھ کر میں اندر ‘تشریف’ لے گیا۔ اپنے بارے میں، میں کوئی حسن ظن نہیں رکھتا، لیکن اتنے بڑے محل میں میرا اندر جانا “تشریف” لیجانے سے کم بھی نہ تھا۔

دوران انتظار چائے اور بسکٹ سے تواضح بھی کرائی گئی۔ چائے تو تعویذ والی تھی، بد مزا۔ کوئٹہ والے ٹی اسٹال سے چائے پینے والے کیلیئے زہر تھا۔ البتہ بسکٹ خاصے اچھے تھے۔ رائل برانڈ کے بسکٹ تھے۔ بسکٹ کے بجائے کوکیز کہنا بہتر ہوگا۔ آنکھ بچا کر ٹشو میں لپیٹ کر چار چھ کوکیز جیب میں بھی ڈال لیئے، زاد راہ کے طور پر۔

چند منٹوں کے بعد خدمتگار نے صاحب کے آنے کی اطلاع دی اور اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ دالان سے گزر کر ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور صاحب کو اطلاع کیلیئے اجازت مانگی۔ دو منٹ بعد ہی جو صاحب اندر داخل ہوئے، ایک جھماکا سا ہوا کہ کہیں پہلے بھی دیکھا ہے۔ کہاں! فوری طور پر یاد نا آسکا۔

ابھی اسی سوچ میں تھا کہ صاحب خانہ نے اپنا تعارف کرایا۔ عدنان نام تھا انکا اور شہر کے ایک بڑے صنعتکار تھے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ صاحب خانہ کی بیگم ایک چھوٹی بچی کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوئیں۔ انہوں نے مجھے اور میں نے انہیں دیکھا۔ مجھ پر تو گویا منوں ٹنوں پانی پڑ گیا۔ خاتون خانہ کوئی اور نہیں، وہی تھیں جنہوں نے مجھ ٹھکرا کر ایک امیر و کبیر سے شادی کر لی تھی۔ میری سوچیں ٹھہر سی گئی تھیں۔ جی وہی جو ایک سگنل پر آوڈی میں بیٹھی دکھائی دی تھی۔ عدنان اسکے شوہر نامدار تھے۔ میری انکھیں پتھرا سی گئی اور کانوں میں سیٹیاں بجنے لگیں تھیں۔ گویا کسی نے اسم اعظم پھونک کر پتھر کا بنا دیا تھا۔

حواس بحال ہوئے تو جو آواز کانوں کو پڑی وہ کچھ اسطرح تھی

” !!!بیٹا یہ انکل ہیں آپکے۔ یہ آپکو پڑھائینگے ___ چلو، شاباش، سلام کرو ‘ماموں‘ کو”


جاوید اختر ○

معاف کرو بابا ● 

معاف کرو بابا ● 


چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میں سبحان اللہ کے مصداق سوشل میڈیا پر 60 سے 70 فیصد کی جانے والی بے سروپا باتیں اپنی جگہ مگر جب بڑے میاں، یعنی مین اسٹریم میڈیا پر ایسی گفتگو سننے اور پڑھنے کو ملے تو صاحبان عقل و خرد پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مثلا
¤ کیا عمران خان کو موقع ملنا چاہیئے!
¤ دوسری پارٹیوں کو کئی مواقع دیئے گئے، ایک موقع پی ٹی ائی کو دینے میں کیا ہرج ہے!
¤ دیگر پارٹیاں تو اسٹیس کو کا شکار ہیں، ایسے میں پی ٹی ائی ہی اسٹیس کو کو توڑ سکتی ہے۔ ایک موقع تو اسکا بنتا ہے!
اس طرح کے بھانت بھانت کے رنگ رنگیلے بیانات و اعلانات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ دماغ کا فیوز اڑ جاتا ہے۔ اگر بیانیہ دینے والوں کا شجرہ نسب کھنگالا جائے تو پیچھے سے یا تو کوکینی نسل کے ہونگے یا بوٹ پالش کے قبیلے سے، یا پھر سوشل میڈیا کے دودھ کے دانت والے نابالغ چغادری۔
جب کل تاویلات کا تمت بالخیر ہوجائے،
جب منطق کی میم قاف دھنیا پی کر پلنگ توڑنے چلی جائے،
جب ایک مخصوص رنگ والی شیشے کی عینک ہی شہر کے دکانوں میں بکتی ہو،
جب بولنے والے لب پر تالے لگے ہوں،
جب سوچنے والے دماغوں پر چیری بلاسم کی تہہ چڑھا دی جائے،
جب سوال کرنے والوں پر تہمت دھری جائے اور سامری جادوگر کے اشلوک کے زور سے غائب کردیا جائے،
جب دھرنا ناکام ہوجائے،
جب ایمپائر کی شہادت والی انگلی درمیانی انگشت میں بدل جائے،
جب بابا رحمتے کو بیک ڈور سے ہدایات کے نتیجے میں پانامہ پاجامہ میں تبدیل ہوجائے،
جب ایک منتخب عوامی نمائندہ کے اقامہ کی بتی بنادی جائے، اور پھر اسی بتی کو اگربتی بناکر کوکین بابے کو صادق و امین کی دھونی لگائی جائے،
جب اداروں پر تنقید کو خدا اور رسول پر تنقید کا جامہ پہنا کر حب الوطنی کے نام پر لام بندی کیجائے۔۔۔
تو پھر ان تمام “جب” کی ناکامی کے بعد بھیک کی مالا ہی جاپی جاتی ہے۔
گویا:
ملک کی باگ ڈور کوکین پینے والے،
شادیاں کرنے میں دلچسپی رکھنے، طلاقیں دینے،
اپنی والی باپردہ رکھنے جبکہ دوسروں کی ماں بیٹی کو سر عام نچوانے والے منافق،
غیر منطقی گفتگو اور پھر یو ٹرن لینے کے عاشق،
آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، گفتگو  میں ‘اوئے’ جیسے اخلاقیات سے مرصع، پھول جھڑتے الفاظ کا استعمال کرنے والے،
اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کے باوجود کروڑوں کا اعزازیہ اور لاکھوں کی مراعات کی دھر پکڑ کرنے والے لدھر،
اے ٹی ایم کے طفیل ہزاروں کا عمرہ کروڑوں میں کرنے والے،
پیرنی کی ہدایات پر فرمانبرداری دکھاتے ہوئے ننگے پیر عمرہ کا ڈھونگ رچانے والے،
خود 65 سالہ بابا، یوتھ کے نام پر سیاست کرنے کی آڑ میں الیکٹیبلز اور رسہ گیروں کی بنیاد پر وجیر اعجم بننے کے خواب دیکھنے والے،
بی بی سی کی زینب کے ہاتھوں منھ کی کھانے والے سیاست کی ابجد سے ناوافق بزعم خود عظیم سیاستدان
فقہ کوکینیات کے تمام یو ٹرن فیل ہوجانے کے بعد ایک باری کی بھیک مانگنے والے، حکومت تمہارے پیرنی کے سسرال سے آیا نیوتا نہیں جو تمہارے حوالے کردیا جائے۔ یہ کروڑوں ووٹرز کی امانت ہے جسے تمہارے ہم جنس پرستوں کی فرمائش پر تمہارے اوپر وارا نہیں جاسکتا۔ بورژوازی طبقہ کی بنیاد پر کروڑوں کا عمرہ دراصل پرولتاری سماج کے منھ پر زناٹے دار تمانچہ ہے۔ پھر کس منھ سے “ایک باری” کی امید ہے۔ یہ وہ فصل گل ہے جس سے تمہاری گود ہری نہیں ہوسکتی۔
بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور باری کی بھیک مانگنی ہے تو عوام سے رجوع کرو، سوشل اور مین سٹریم میڈیا کے چاکر اور بوٹ پالش بریگیڈ کے کہنے پر بھیک کا روپیہ تک نہیں دے سکتے چہ جائیکہ ووٹ کی بھیک!
اور۔۔۔
ویسے بھی 25 جولائی تو ہمارا بائیکاٹ ڈے ہے۔ اس دن تو بھیک دینا کار خراب ہے!
لہذا

!!!معاف کرو بابا، چھٹا نہیں ہے


جاوید اختر ○