● اکثریت کیلیئے نظام عسکریت

● اکثریت کیلیئے نظام عسکریت
۔۔۔
اپنے ملک پاک پیور میں فوج کے خلاف بولنے اور لکھنے والوں کو دو سال قید اور دیگر سزائیں دینے کا قانون لاگو ہونے ہی والا ہے۔

اسوقت بحث یہ چل رہی ہے کہ:
کیا موجودہ وزیر اعظم کا ماضی میں دیا گیا فوج کیخلاف پیشاب نکالنے والا بیان کے دوبارہ نشر یا شیئر کرنے پر بھی اس قانون کا اطلاق ہوگا؟ اگر ہاں تو جرم کس کے خلاف تصور ہوگا؟ عمران خان کیخلاف یا نشر مکرر کرنے والے کیخلاف؟

کیا اس قانون کا اطلاق retrospectively کیا جائیگا یا prospectively ہی عملدرآمد ہوگا؟ کیا اسطرح کی قانون سازی سے فوج کیخلاف ہمدردی پیدا ہوگی یا ہمدردی کم ہوجائیگی؟ نہیں معلوم کہ زبردستی کی ریسپیکٹ دلوالنے سے حکومتی اداروں کے کیا مقصد ہیں؟ کیونکہ ہم نے پڑھا، دیکھا اور جانا کہ پیار اور احترام لاگو کرنے سے نہیں ملتا۔ یہ سودا زبردستی سے نہیں بلکہ دلوں کے جیتنے سے حاصل ہوتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فوج اور عسکری اشرافیہ کیلیئے عوام کے دلوں میں بیحد عزت اور احترام پایا جاتا ہے۔ کچھ عناصر ضرور ایسے ہیں جو فوج اور اس سے متعلق اشرافیہ پر تنقید کرتے ہیں۔ جائز اور حدود کے اندر تنقید بری بات بھی نہیں۔ مہذب معاشرہ میں تنقید کو نہ صرف مثبت لیا جاتا ہے بلکہ تنقید سے نظام اور افراد میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک چھوٹے سے گروہ کی طاقت اتنی ہے کہ اس کیلیئے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت پڑ گئی؟ جبکہ یہ لوگ تو کھل کے بولتے بھی نہیں، معدودے سوشل میڈیا پر “چند تصویر بتاں” کی مانند۔ کیا سوشل میڈیا کا ایک گروہ اتنا اثر رکھتا ہے کہ اسکے خلاف قانون سازی کی ضرورت پڑ گئی؟ سوشل میڈیا خا قانون تو پہلے سے ہی موجود ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔

عام طور پر قوانین ملک اور عوام الناس کی حفاظت، انکی صحت، تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی گزارنے میں اعانت کے واسطے بنائے جاتے ہیں۔ عوام میں سماجی اور معاشرتی تحفظ کے احساس کیلیئے بنا گئے قوانین کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ مگر ایک مخصوص گروہ کی اعانت کیلیئے اس قانون سے عوام دشمنی کی بو آتی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ قانون اور نظام عوام الناس کیلئے بنائے جاتے ہیں نا کہ انسان نظام اور قانون کے واسطے۔

حالانکہ عسکری اداروں کے پاس ہر طرح کی آسائش اور برتری کا فخر موجود ہے۔ انکے پاس طاقت ہے، دیگر اداروں کی سپورٹ ہے، ملک کے بیشتر ادارے انکی بالادستی کو مانتے ہیں مگر اسطرح کی قانون سے گمان ہوتا ہے کہ ریت مٹھی سے سرکتی جارہی ہے۔ سرکتی ریت کو روکنے کی کوشش قانون سازی سے نہیں دلوں میں محبت جگانے سے کرنی چاہیئے۔ احترام عسکر لازم ہے سب پر مگر بزور شمشیر دائمی محبت نہیں پیدا کی جاسکتی۔

● جمہوری ریل

ملک کے سیاسی منظرنامہ کو اگر سمیٹا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہماری ملکی سیاست میں جنرلزم اور جرنلزم سیاسی گاڑی کی وہ دو پٹریاں ہیں جو ظاہری طور پر کبھی آپس میں ملتی نہیں مگر ایک دوسرے کے بغیر رہ بھی نہیں سکتیں۔ جیسے طفیلی پودے!

سیاستدان ریل کے دخانی انجن کے ایندھن کیطرح ہیں، کہ جب تک انکو استعمال نہ کیا جائے، ملکی جمہوری سیاسی ریل پٹری پر دوڑتی ہی نہیں۔ گارڈ والا ڈبہ تو خواہ مخواہ ہی لگا ہوتا ہے۔ اس ڈبے میں موجود عادل کے اشاروں، ہدایات، اور فیصلوں کے سگنلز کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ بہرحال گارڈ کی اپنی تنخواہ اور مراعات ہی اتنی ہیں کہ اس کو اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ کیونکہ انکی “زنجیر” کھینچنے والا ابھی ملک میں کوئی ماں کا لال پیدا نہیں ہوا۔

سیانے جانتے ہیں کہ جمہوری سیاسی ریل کی اصل طاقت کانٹا بدلنے والے چوکیدار کے پاس ہوتا ہے۔ جب چاہے جمہوریت کی پٹری کے انٹرچینج کو بدل کر لاڑکانہ لے جائے، چاہے تو رائے ونڈ سے گزار دے۔ آجکل کانٹے والے کی دوست بنی گالا سے ہے۔

باقی رہے عام مسافروں والے ڈبے، تو انکی کسی کو کیا پرواہ۔ گاڑی جدھر کو چلے، یہ بھی ادھر کو چل پڑے۔ نہ پانی، نہ پنکھوں میں ہوا، نہ بجلی، نہ روشنی، بیت الخلاء تعفن ذدہ، ایک سیٹ پر دسیوں بیٹھے ہیں۔ سیٹ نہ ملنے کے باعث بہت سے تو دروازے پر لٹک کر اور کچھ چھتوں پر سوار ہو کر کھلے آسمان تلے سفر کرتے ہیں۔ ایسے میں، راستے میں بہت سے مسافر گر کر یا لڑھک کر مر جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو جان بوجھ کر دھکے دے کر ریل سے گرادیا جاتا ہے، تو کبھی زنجیر کھینچ کر اتار دیتے ہیں۔ ایسے مسافروں کا وجود، انکا حلیہ، انکا برتاو دیگر لوگوں کی پسند سے میل نہیں کھاتا۔ عمومی مسافر والے ڈبے ہمیشہ مصبتوں اور آلام کی ذد میں رہتے ہیں۔ کبھی ڈبے میں آگ لگ جاتی ہے، تو پٹری سے پھسل جاتی ہے، کبھی ڈاکو چلتی ریل میں انکو لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں۔ ایک خاص بات کہ ذیادہ تر مسافر سبز رنگ والے ڈبے میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں اور خاکی ڈبوں کے مسافروں کو آتے جاتے سلام کرنا نہیں بھولتے۔

اور تو اور، دوران سفر ہر اسٹیشن پر اشیاء انکو مہنگی سے مہنگی تر ملتی ہے۔ جعلی ملاوٹ والے تیل، مصالحہ، اور غیر معیاری پانی کی بوتلوں والے دکان، دودھ کے نام پر ہانی ملا زہر، اور پھیکے پکوان کیساتھ اپنی اپنی بولی میں سامان من مانی قیمت پر بیچتے ہیں اور مسافروں کے پاس ان کو استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔ شکایت کس سے کریں؟ اسٹیشن ماسٹر تو خود کانٹے بدلنے والے کا سہولت کار ہے۔ ایک خاص بات ہہ ہے کہ ہر اسٹیشن پر جنگی دھنوں والے جھنکار ترانے خوب سننے کو ملتے ہیں۔

عام بوگیوں سے آگے صرف سلیپرز میں سفر کرنے والے مسافروں کو ساری سہولیات میسر ہیں۔ گاڑی کسی بھی اسٹیشن پر رکے، کسی بھی رخ کو چلے، کانٹے والے سے دوستی کی وجہ سے انکو پہلے سے پتہ رہتا ہے کہ اگلی منزل کون سی ہے۔ لہذا ذاد راہ پہلے سے ہی مہیا کرلیتے ہیں۔ ایئر کنڈیشنڈ بوگیوں کی وجہ سے نہ تو مکھی مچھر، نہ گرد و غبار، نہ عام مسافر کے ہاہا کار سننے کو ملتے ہیں۔ سلیپر والے مسافر عام بوگیوں والے مسافروں کو اپنے کلاس والے ڈبے میں گھسنے نہیں دیتے۔ ریلوے پولیس اور گارڈ سے انکی دوستی رہتی یے۔ انکا سفر سکون اور اطمنان سے کٹتا ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو انکی تعداد کل مسافر کا 2 فیصد ہوگی مگر انکے آسائش اور آرام دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ جمہوری ریل انکے لیئے ہی بنائی گئی ہو۔

گئے دنوں کی بات ہے، گارڈ کی چشم پوشی اور کانٹا بدلنے والے کی ملی بھگت سے ریل کے چھوٹے حصوں پر مشتمل ڈبوں کو ایک انجان اسٹیشن پر کاٹ کر جدا کردیا گیا تھا، اس تاویل کیساتھ کہ یہ ڈبے اور انمیں بھرے مسافر پوری ریل گاڑی پر بوجھ ہے۔ آگے سفر جاری رکھنے کیلیئے انکو جدا کرنا پڑیگا۔ اور مزے کی بات یہ کہ دیگر مسافروں کو کئی دنوں تک بے خبر رکھا گیا تھا۔ بس ریلوے کے پبلک ایڈرس سسٹم پر نورجہاں کے گانے سنوائے جاتے رہے تھے۔

قصہ مختر، آج بھی ریل گاڑی اپنی منزل سے بے خبر مسافروں کو لے کر چلی جارہی ہے۔ پرزے ڈھیلے، ڈبے زنگ آلود، انجن بے جان، اور مسافر بے حال۔ نہ انجن تبدیل کرنے کے پیسے ہیں اور نہ ہی کوئی ادھار پر ایندھن دینے کو تیار۔ سیاستدانوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیئے۔ اب لے دے کے یہی امید ہے کہ اسے اونے ہونے بیچ دیا جائے تاکہ نیا مالک اسے خرید کر، سجا سنوار کر، چمکا کر نئے سرے سے چلا سکے۔ سنا ہے ایک چپٹی قوم اسے گود لینے کو تیار بیٹھی ہے۔

! کی جے ہو (Spartacus) اسپارٹکس ●

SPRTACUS.jpg

کی جے ہو۔ Spartacus اسپارٹکس 

۔۔۔

پرویز مشرف کو پھانسی کا فیصلہ ایک آئینی ضرورت تھی۔ مگر بعد از مرگ پرویز مشرف کو سڑک پر گھسیٹنا اور چوک پر لٹکانے والا اعلی عدلیہ کا حالیہ فیصلہ پاکستانی معاشرہ کی قبائیلی اور طالبانی سوچ کو کھل کر ننگا کر رہا ہے۔

آج کا تفصیلی طالبانی فیصلہ ببانگ دہل یہ ثابت کرتا ہے کہ طالبان جاہل اور اجڈ نہیں، نہ وہ غاروں اور پہاڑوں میں رہتے ہیں، نہ ہی وہ کلاشنکوف اور بم کا استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی داعش کی طرح گلا کاٹتے ہیں۔ وہ تو کالے کوٹ بھی پہنتے ہیں، اس پر ٹائی لگاتے ہیں، سر کو عدل والی ٹوپی سے ڈھانکتے ہیں، ترازو پکڑ کر اندھے بھی بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرہ کے اعلی عہدوں پر براجمان بھی رہتے ہیں۔ ہمارے درمیان رہ کر اپنی اونچی کرسی پر بیٹھ کر اپنے نیچ فیصلوں سے وار بھی کرتے ہیں۔ جتھوں کی شکل میں شفا خانے تاراج کرتے ہیں۔ مریضوں کو ہلاک اور املاک کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

اس قوم کی خمیر میں قدیم معاشرہ کی تاتاری امنگ اور ہلاکو خان والی فکر و نظر بخوبی دیکھی جاسکتی ہے جب ہزاروں سال قبل فیصلہ سڑکوں پر گھسیٹ کر، اور نیزوں اور درختوں پر سر ٹانگنے پر منتج ہوتا تھا۔ اور سینکروں سال بعد آج کا عدالتی فیصلہ اسی قدیم معاشرہ کی جدید شکل ہے۔

اکیسویں صدی میں ملک پاکستان کی اعلی عدالت کیطرف سے دیا جانے والا فیصلہ یہ ثابت کرنے کیلیئے کافی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی بھی 70 قبل مسیح کے رومن ایرینا کی طرح انتہا پسندانہ ہے جب قتل و غارت گری کو عزت و افتخار سمجھا جاتا  تھا۔ ہم سب، من حیث القوم اس رومن ایرینا کے گرد کھڑے، گلیڈی ایٹر کی طرف سے کیئے جانے والے ہر وار، ہر قتل عام پر تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ اگر ہمیں رہنا اسی قدیم معاشرہ میں ہے تو کیوں نہ ہم سب ملکر آج کے گلیڈی ایٹر کیلئے نعرہ “انویکٹا” بلند کریں۔

اسپارٹکس کی جے ہو۔

۔۔۔

جاوید اختر ○ 

!نیا سال مبارک ●

2020
سال 2019 کے خاتمہ کی قربت کیساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک ہیجانی کیفیت طاری ہوچکی تھی۔ نئے سال کی مبارکباد، تقریبات، لوازمات، غنائیات ___ غرض کہ طرح طرح سے اور نت نئے طریقوں سے سال نو کی متوقع پیدائش پر ہدیہ تبریک کی تقسیم بلا تخصیص جنس و رنگ و نسل کی جانے لگی تھی۔

لیکن کیا ہم واقعی سال نو کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں؟

یہ ایک بھیڑ چال ہے ہم جیسے تابہ مذہبی اور عسکری قوم کے لیئے جو 72 سال کی عمر میں بھی اپنے پنگھوڑے سے باہر نہیں نکلی، گھٹنوں کے بل پر آج بھی کھسکتی ہے، سال نو کی نوید ایک تازیانہ لگتی ہے، زخم پر نمک محسوس ہوتا ہے۔

نئے سال کی مبارکباد انکو زیب دیتی ہے جو نئے سال میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ بحیثیت قوم، نیا سال انکے لیئے سال امید اور آفرین بن کر آتا ہے جن میں کچھ کرنے اور پانے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ نیا سال ان کے لیئے نیا ہوتا ہے جنہوں نے پچھلے سالوں میں کچھ حاصل کیا ہوتا ہے۔ سال نو کی مبارکباد ان اقوام پر جچتی ہے جو آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم جو اب تک اپنے آباء کے کارناموں، صحیفوں اور بے نام و ثمر عبادتوں کو اپنے ماتھے پر سجا کر اپنے دامن میں ‘دامت برکاتہم’ کی دان سمیٹنے کی چاہ کرتے ہیں، وقت موجود کے بجائے اندیکھی دنیا کیلیئے اپنا آج تیاگنے کو تیار ہیں، کیا واقعی ہم نئے سال کو خوش آمدید کہنا چاہ رہے ہیں یا خوشی کے خوش نما لبادے میں منافقت چھپا رہے ہیں۔

2019 ہی نہیں، پچھلے 72 سالوں کو اٹھا کر دیکھ لیجیئے، ایک جمود ہے کہ ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ تار عنکبوت ہے جو آنکھوں پر نہیں ذہن پر چھایا ہوا ہے۔ ایک تساہل مسلسل ہے جو ہم سب پر طاری ہے۔ گویا سامری جادوگر کی قید میں ہوں۔

زندگی کا شائد ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جسے ہم فخریہ دنیا کے سامنے رکھ سکیں، کہہ سکیں کہ یہ ہمارا قومی فخر ہے۔ ترقی کے سارے اشاریئے اور اس سے متعلقہ گرافس منفی سمت کو جارہے ہیں۔ گویا ترقی ہمارے قومی مزاج سے قطعا میل نہیں کھاتی۔ ریل کی پٹریوں کی طرح منھ کھولے ایک دوسرے کو تکتے رہتے ہیں، مگر باہم مل نہیں سکتے۔ ترقی کا زینہ مذہب کی بلندیوں میں گم ہوجاتا ہے یا پھر سپاہیانہ بیاض سے رنگین تر۔

اگر ایک آدھ سرپھرا کوشش بھی کرے تو اسے کافر کہا یا غداری کا میڈل دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے سرخیلوں کے سینوں پر آویزاں میڈل کسی طور بھی زیب جامہ بننے کے لائق نہیں۔ نہ ہی کسی مولوی کا دستار اور باریش حسن اسکی فراست اور انسانیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ آئے دن ان دستار کے رکھوالوں کی کھولی سے بچوں کی چینختی آواز، سسکتی کراہ، آنکھوں سے ٹپکتا لہو، ان باریش جبہ فروزاں بھیڑیوں کی کہانی زبان ذد عام ہوتی رہتی ہیں۔ ہزار میل دور لڑنے والے فوجی چونکہ جہلم نہیں جاسکتے تو اپنے ہی ہم وطن کی عورتوں کی عزت لوٹنے کیلیئے تاویل ڈھونڈ لاتے ہیں اور اسکا برملا اقرار بھی کرتے ہیں۔

72 سال قبل ترکے میں ملا ریلوے سسٹم ہو، نظام زندگی کے قوانین ہوں، جدید نظام تعلیم یا صحت کا نظام ہو یا مالی وسائل کی فراہمی کا نظام و انصرام، ہم تنوع کے قائل نہیں۔ جدیدیت ہمارے لیئے سم قاتل ہے۔ ہم ‘جہاں ہے اور جیسے ہے’ کی بنیاد پر جینا چاہتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اگر عوام آج بھی چنگچی پر سفر کرتے ہیں تو حیرانگی کیسی؟ اگر تھر میں آج بھی انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ پر پانی پیتے ہیں تو یہ عین مساوات ہے۔ شکوہ کیسا اگر کسی نے روڈ نیٹ ورکس میں انقلاب لانا چاہا تو پابند سلاسل کردیا گیا۔ کسی نے 98 فیصد کے حقوق کی بات کی تو اسے غدار وطن کا لیبل لگا کر ایک مخصوص طریقے سے سیاست سے دور دھکیل دیا گیا۔ نوبل انعام یافتہ کے قبر سے اسکا نام کھرچ دیا گیا۔ ایدھی جیسے فرشتہ کو بھی نہ بخشا گیا۔ بوٹوں کی دھمک اور سکوں کی چمک کو اس قوم کا نجات بتایا گیا۔ تعلیم کو مشرف بہ اسلام کردیا گیا۔ حتی کہ سبزی ترکاری تک کو کلمہ پڑھادیا گیا۔ سائنسی کتب کے ختنے کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ ہم واحد قوم ہیں جو مذہب کا رنگین زیر جامہ لباس کے اوپر پہنتے ہیں اور ڈھول پیٹ پیٹ کر سب کو دکھاتے بھی ہیں۔ مطالعہ پاکستان کے اسباق کو پڑھنے کیلیئے اب حقیقت کی آنکھ نہیں بلکہ زومبی کا دماغ چاہیئے۔ آنکھوں کے گرد جانوروں والی مخصوص سمت دیکھنے والی پٹیاں بندھی ہوں تو، مطالعہ پاکستان سے آگے کی تاریخ نہ سجھائی دیتی ہے، نہ ہی سمجھ آتی ہے۔

ہزاروں سالہ فرسودہ نظام زندگی کو حاصل زندگی قرار دینا ہماری قومی حمیت کا اصول زریں ہے۔ پل کے نیچے بہنے والے پانیوں کا کون حساب کرے، مشکل کام ہے۔ ٹوپی اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔ اور اس پر لوہے کا خود پہن لینا ہی نجات کا زریعہ ہے۔ بسنت، کرسمس سب کافروں کے تہوار ہیں۔ ہم نہیں جاننا چاہتے ہیں کہ ان تہواروں سے معیشت کا پہیہ زور سے چلتا ہے۔ بھوکوں ننگوں کیلیئے روٹی اور روزگار کا انتظام ہوتا ہے۔ مفت کے دسترخوان سجانے سے بہتر روزگار کا درست انتظام کرنا بہترین قدم ہے، جو آج کے بونوں کو سمجھ نہیں آتی! کہاں تک سنوگے؟ ہماری قومی کہانی تو الف لیلوی داستان سے بھی ذیادہ طرحدار اور رنگین ہے۔ جی ہاں خون کیطرح سرخ۔

خیر، نئے سال کی شروعات ہے تو 2020 اور آنے والے تمام سال آپ سب کو بھی مبارک ہوں۔ امید ہے کہ آنیوالے دن اچھے ہونگے۔ امن ہوگا، سکون ہوگا جہاں مذہبی اور عسکری مافیاء اپنی اپنی ارام گاہ میں ہونگے۔ اور ملک میں حقیقی جمہوری راج ہوگا۔ مجھے معلوم یے یہ ایک خواب ہے اور خواب حقیقت نہیں بنتے!!!۔
۔۔۔
جاوید اختر ○

قدرتی آفات | مذہبی عقیدہ اور سائنس ●

 

:مذہبی نکتہ نگاہ سے زلزلہ آنے کے اسباب

عورتوں کا غیر محرم کیلیئے خوشبو لگانا، غیر محرم کے سامنے عورتوں کا ننگا ہونا، اور زنا، شراب اور موسیقی کا عام ہوجانا۔
۔۔۔

:سائنسی پیمانہ سے زلزلہ آنے کے ثابت شدہ اسباب

ماہر ارضیات اور سائنسی نظریہ کے مطابق ہماری زمین سطح سے گہرائی کی جانب اوپر کی جن تہوں پر مشتمل ہے اسے Lithosphere اور Asthenosphere کہتے ہیں۔ بیرونی پرت یعنی لیتھو اسفیئر انتہائی سخت اور ٹھنڈا پرت ہے جبکہ استھینو اسفیئر مقابلتا بہت گرم تہہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے لیتھو اسفیئر کو پہچان کیلیئے سات عدد عظیم الشان تہوں یا پرتوں میں بانٹا ہے، جسے ارضیات کی زبان میں ٹیکٹونیک پلیٹس (Tectonic plates) کہتے ہیں۔ ٹیکٹونیک پلیٹس کی چہار دیواری یا حصار کو فالٹ لائن کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں فالٹ یا cracks پائے جاتے ہیں۔ ایک فالٹ لائن اپنے پڑوس کی دوسری فالٹ لائن سے ملی ہوتی ہے یا اس کے اوپر واقع ہوتی ہے۔

زیر زمین ارضیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تحت جب بڑے پیمانے پر انرجی یا توانائی استھینو اسفیئر سے نکلتی ہے تو انتقال حرارت کے اصولوں، کنویکشن اور کنڈکشن، کے تحت یہ توانائی ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے ہوتی ہوئی اسکے اطراف میں سرایت کر جاتی ہے۔ توانائی کی یہ مقدار بہت ذیادہ اور شدید نوعیت کی ہوتی ہے جو ان پلیٹس کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ توانائی کے اخراج کے ان طریقوں کی بدولت توانائی یا تو عمودی حرکت کرتی ہے یا افقی۔

ان دو حرکتوں کی وجہ سے ٹیکٹونیک پلیٹس میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ارتعاش کی یہ قوت توانائی کی قوت اور حجم پر موقوف ہوتی ہے۔ یعنی توانائی کا اخراج کم ہوگا تو پلیٹس میں ارتعاش بھی کم ہوگا اور ذیادہ ارتعاش کے نتیجہ میں زلزلہ کی شدت بھی اتنی ہی ذیادہ ہوگی۔ نتیجہ میں ہونیوالی تباہی کا زمین کے اوپر فالٹ لائن اور اسکے اطراف پر قائم مکانیت کی تعداد اور زلزلہ کی روک تھام کے معیار سے بالواسطہ تعلق ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں شدت کے زلزلہ کے باوجود کم ہلاکتیں اور نقصانات ہوئے برعکس ان جغرافیائی علاقوں کے جہاں روک تھام کا بندوبست کماحقہ نہیں کیا جاسکا تھا ۔۔۔ مثلا ناقص زلزلہ پروف تعمیرات، بعد از زلزلہ فوری امدادی کام اور طبی امداد بہم نہ پہنچانا وغیرہ۔

وہ علاقے جہاں زلزلے آتے رہتے ہیں وہ انہی ٹیکٹونک پلیٹس پر یا اسکے اریب قریب واقع ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین پر مختلف جغرافیائی ٹکرے ایسے ہیں جو ان ٹیکٹونیک پلیٹس اور انکے فالٹس سے یا تو پرے ہیں یا درمیان میں واقع ہیں۔ جہاں یا تو زلزلہ کی شدت نہیں پہنچتی یا بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان علاقوں میں روس کا علاقہ، مشرقی یورپ مثلا ایسٹونیا، دیگر یورپی ممالک؛ مشرق وسطی، مشرق بعید میں سنگاپور اور انتہائی شمالی ایشیا کے ممالک؛ بحرالکاہل کا ایک بہت بڑا حصہ، جنوبی اور شمالی امریکہ کا وسطی اور شرقی علاقہ اور اسکے علاوہ افریقہ اور آسٹریلیا وہ زمینی خطے ہیں جہاں زلزلہ کا خطرہ یا تو نہیں ہے یا بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا اور فلوریڈا بھی زلزلہ کی اثر انگیزی سے دور ہیں۔ اسکی وجہ ان جغرافیائی خطوں کا ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے پرے واقع ہونا ہے۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ علاقے جہاں زلزلے کے اثرات نہیں پہنچتے یا بہت کم پہنچتے ہیں، کیا وہاں مذہبی نکتہ نگاہ والے گناہ سرزد نہیں ہوتے؟ کیا امریکی و افریقی سرزمین، آسٹریلیا، اور یورپی ممالک میں ننگا پن، زنا، شراب اور موسیقی کا اختتام ہوچکا؟ کیا وہاں سارے لوگ کفر سے تائب ہوکر مومنین اور مصلحین کے درجہ پر فائز ہوچکے؟ یا وہ جغرافیائی خطے مذہبی عقیدہ پروف ہیں؟

افسوس کا مقام یہ ہے کہ سائنس کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب جب اس قسم کی باتوں کو وجہ تسمیہ کہتے ہیں اور اسکا پرزور پروپیگنڈہ کرتے ہیں تو ہم جہادی اور طالبانی کلچر کو کس منھ سے غلط کہیں گے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں، یونیورسٹی اور اعلی تعلیمی اداروں سے جہادی بن کر نکلنے والے ایسے ہی اساتذہ کی زیر نگرانی تیار ہوئے ہوتے ہیں۔

مذہب کو سائنسی توجیہات کیساتھ غلط ملط کرنے سے مطالعہ پاکستان والی نسل ہی پیدا ہوگی، جو پھل، سبزی، پہناوے، پرندے، موسیقی اور رنگ کو اسلامی لباس پہنائینگے۔ اسی لیئے ہمارے ملک میں سائنس، طبیعات اور کیمیاء جیسے مضامین کو اسلامی شہد سے غسل دے کر رنگ برنگی پگڑی پہنادی جاتی ہے، جن کی معلومات مطالعہ پاکستان کی حدود میں قید رہتی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب برصغیر کی ایک بہت بڑی آبادی اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگ پر اٹھا رکھا ہے۔ جب بیل تھک کر سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ واقع ہوتا ہے۔ آج کے دور میں بھی بے شمار لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ زمین گول نہیں چپٹی ہے۔ اور آج بھی ایسے مذہبی عقیدے والے موجود ہیں جو زمین کے چپٹے پن کو درست سمجھتے ہیں۔ حتی کہ مذہبی کتابوں تک میں یہ چپٹا پن چینخ چینخ کر اپنے بونے ہونے کا ثبوت پیش کررہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو انسانی قدم کے چاند پر پہنچنے کو فاسد مانتے ہیں لیکن اگلی ہی سانس میں نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر اذان سننے پر ایمان لے آتے ہیں۔ بادلوں، روٹی اور بیگن میں لفظ اللہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

“!اور تم کن کن نعمتوں کو ٹھکراوگے”
سائنس بھی ایک نعمت ہے، اگر سمجھیں تو! مذہبی عقیدہ اپنی جگہ مگر عقائد کو ثابت شدہ سائنس توجیہہ سے ملانا فکری جہالت کا بلند ترین درجہ ہے۔


جاوید اختر ○

سنہ 2035 کا آئینہ

سنہ 2035 کا آئینہ

:ماضی قریب کے حکومتی اقدامات اور روپہلے فیصلوں کا نتیجہ

“ملک میں سیاسی فہم کا دور دورہ تھا”
“معاشی اشاریئے ترقی کی نوید سنا رہے تھے”
“سفارتی محاذ پر کامیابیاں حکومت کے قدم چوم رہی تھیں”
“عوامی بہبود کے پروگرام سے فلاحی مملکت کے قیام کی راہ ہموار ہورہی تھی”
“مملکت کے تمام ستونوں میں ہم آہنگی تھی”
“وسائل کی بہتات تھی”
“بین الاقوامی محاذ پر تعلقات کی برابری کے سنہرے دور کا آغاز ہوا تھا”
“انصاف سستا اور حصول آسان تھا”
“ہر قسم کی اشرافیہ، منتخب جمہوری حکومت کے ماتحت تھی”
“ادارے توانا اور خود مختار تھے”
“میرٹ کا دور دورہ تھا”
“سیاسی اور حکومتی سطح پر کرپشن نہ ہونے کے برابر تھا”
“عوامی روز مرہ استعمال کی اشیاء وافر اور ارزاں قیمت پر دستیاب تھیں”
“اشیاء کی درآمد و برامد کا حجم ملکی مفاد میں تھا”
“معاشی پالیسیوں کے مثبت اور تسلسل کے طرز عمل سے زر مبادلہ وافر مقدار میں دستیاب تھا”
“ڈالر کے مقابل روپیہ کی قدر مستحکم ترین حالت میں تھی؛ 1 ڈالر تقریبا 50 روپے کے برابر آچکا تھا”
“مسلم امہ میں پاکستان کا مقام دو طرفہ بنیاد پر عزت اور رکھ کھاو کا تھا”
“معاشی ترقی میں پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان سے آگے نکل چکا تھا”
“طبقاتی، نظریاتی اور مذہبی ہم آہنگی عروج پر تھی”
“سیاسی انتقام کا شائبہ تک نہ تھا”
“نفرت اور تعصب کی بنیاد پر کیئے گئے فیصلے واپس کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو کھلے عام کام کرنے کی آزادی دی گئی تھی”
“صوبوں کو وفاقی دولت میں اسکا جائز حصہ دیا گیا تھا”
“ملک کے تمام انتطامی ڈویژن کو صوبوں کا درجہ دے دیا گیا تھا”
“انتظامی اصلاح کے ذریعہ تمام صوبے اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوگئے تھے”
“نہ تو جبری بندش تھی؛ نہ ضمیر کے قیدی اور نہ ہی سوشل ایکٹیوسٹ کسی انتقام کا شکار تھے”
“لوگو کی حب الوطنی پر شبہ گناہ اور جرم شمار کیا جاتا تھا”
“سرکاری سطح پو مذہب کی تبلیغ شجر ممنوعہ قرار دے دی گئی تھی”
“مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیا گیا تھا”
“اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں ریاست نے ایک ماں کا کردار ادا کیا تھا”
“عسکری اشرافیہ سمیت کسی بھی ذیلی ادارے کو ملکی اور حکومتی کارہائے پر ازخود بیان دینے یا ٹوئیٹ کرنے پر پابندی تھی”
“ٹوئیٹ پالیسی کو ناپسندیدہ طریقہ کمیونیکیشن سمجھا جاتا تھا۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کے ذیلی اداروں کے ٹوئیت اکاونٹ ختم کر دیئے گئے تھے”
“حکومتی عہدیداروں کے یو ٹرن والے بیانات کو قانونی گرفت میں لاکر منافقت والا بیانیہ قرار دیا گیا تھا، جس کی سزا مقرر کی گئی تھی”
“مدنی ریاست کا آلاپ کرنے کی ممانعت تھی”
“مسئلہ کشمیر پر ، ٹوئیٹ کرنے، آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے اور وزیر خارجہ کی دوہائی کے بجائے فیصلہ کن کردار ادا کیا گیا تھا، جسکے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف امن ہی امن قائم ہوگیا تھا”
“چونکہ عسکری قوتوں کو جمہوری حکومت کے تابع کردیا گیا تھا اسطرح نا صرف ڈی ایچ اے کے تمام پراجیکٹس حکومتی تحویل میں آچکے تھے بلکہ عسکری اداروں کے من جملہ تمام تجارتی منصوبوں کی اونرشپ جمہوری اداروں کے ماتحت کردیئے گئے تھے”
“پڑوسیوں سے بہترین تعلقات کے نتیجہ میں پائیدار امن قائم ہوچکا تھا اسلیئے فوجی بجٹ میں 50 فیصد سے زائد کٹوتی کر کے بچنے والی رقم تعلیم کے فروغ اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیئے جانے لگے تھے”
“عسکری اور عدالتی عدم ایکٹیویزم کے نتیجہ میں عوام کے ذہنوں سے سرخیل اور عادل وقت کا نام مٹ چکا تھا”
اور __
حکوتی بیانیہ کے مطابق اکتوبر 2016 میں شروع ہونیوالا پشاوربی آر ٹی کا منصوبہ سنہ 2038 میں پایہ تکمیل کو پہنچنے کی قوی امید تھی۔
۔۔۔

مسقبل کے مورخ کو وقت کی دستیاب سیاہی ڈھونڈنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا کہ شغلیہ حکومت کے کسی ایک کام کی بھی مدح سرائی کی جاسکے۔

جاوید اختر ○

《تتلی دبوچ لی میں نے》

《تتلی دبوچ لی میں نے》

۔۔۔

قدرت نے بیشمار نعمتیں اس جہان فانی میں پیدا کیئے۔ انہیں گننے بیٹھیں تو عمر تمام ہو، نعمتیں ختم نہ ہوں۔ ان نعمتوں کی لامحدود فہرست میں سے صرف پھلوں اور پھولوں کے باغات کو لیں جو اپنی دلکشی، بھینی مہکار، اور ان باغات سے حاصل ہونیوالے فوائد بیشمار انسانوں کیساتھ دیگر جانداروں کیلیئے بھی انسیت اور دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ قدرت کی صناعی کو دیکھنے، محسوس کرنے، اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلیئے حضرت انسان باغ کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر چھوٹے چرند، پرندے، بھونرے، تتلیاں اور دیگر جاندار نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں۔

عمر کی حد سے سوا، کیا عورت اور مرد، کیا جوان کیا بچے، کون ہوگا جو ان نعمت بے پایاں سے لطف اندوز ہوکر شکر کا کلمہ ادا نہ کرے۔ اگر غور کیجیئے تو نعمتوں کی اس طویل فہرست میں سبزیاں، پھل پھول اور میوہ جات ہی نہیں بلکہ وہ تمام چرند پرند اور کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض بھی نعمتوں کی فہرست سے باہر نہیں۔

ان باغات میں پائی جانیوالی خوبصورت مخلوقات میں ایک تتلی بھی ہوتی ہے۔ انڈہ اور لاروا سے تتلی بننے کے مراحل دیگر کیڑوں سے مختلف نہیں۔ لیکن تمام مراحل سے گزرنے کے بعد جب تتلی مکمل ہوکر اپنے خول سے باہر آتی ہے اور جوانی کے مرحلہ میں داخل ہوتی ہے تو اسکی کشش، خوبصورتی، رنگوں کی قوس و قزح سے منقش پر، اس مخلوق کو دیگر سے نہ صرف ممتاز کرتی ہے بلکہ تتلی کو قدرت کی صناعی کا ایک اعلی اور عمدہ نمونہ کہنا کسی طور بیجا نہ ہوگا۔ یہ مخلوق پھولوں کی دیوانی، رنگوں کی بارات اپنے جسم پر سجائے ایک پودے سے دوسرے پودے پر اٹھکیلیاں کرتی نظر اتی ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ تتلیاں ان کیڑوں میں سے ایک اہم مخلوق ہے جو دوران سفر اپنے جسم، پروں، اپنے پیروں سے بار اور دانہ ایک پودے سے دوسرے پودے تک منتقل کرتی ہیں۔ یوں کراس ہولینیشن (cross pollination) کے ایک اہم عمل کو انجام دیگر ایک نئے بیج، پھول اور پھل کی پیدائش کا ایک قدرتی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ یوں پودوں میں افزائش نسل کے کام میں قدرت کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔

ویسے تو تتلیاں آزاد اور اڑتی ہوئی ہی خوبصورت لگتی ہیں۔ باغوں کی اس دلکشی کو ہاتھوں میں قید کرنا افسوسناک اور ایک غلط عمل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی ہاتھوں میں آجائیں تو غور کیجیئے گا کہ اپنے پروں کے رنگ ہمیں دے جاتی ہیں۔ ہمارا ہاتھ اس کے لمس سے رنگین ہوجاتا ہے۔ چند لمحوں کی ہماری خوشی کیلیئے تتلی اپنی خوبصورتی ہم پر وار دیتی ہے۔

غور کیجیئے، ہماری زندگی بھی تتلی کے رنگوں سے عبارت ہے۔ ہمارے ارد گرد پھلیے لوگ، وابسطہ زندگیاں، رشتوں کی فراوانی، ان رشتوں میں پائے جانیوالے اتار چڑھاو تتلی کے پروں جیسے رنگوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں۔ اگر رشتے کچے ہوں تو ہمارے لیئے ایسے رشتوں سے ہاتھ دھولینا بہتر ہے۔ یہ کچے رنگ جیسے رشتے کبھی کبھار تو تن اور من دونوں کو آلودہ کرجاتے ہیں۔ یہ رنگ کبھی چوکھا نہیں آتا۔ یہ رشتے پائیدار نہیں ہوتے۔ ایسے رشتے دور کے ڈھول جیسے سہانے ہوتے ہیں۔ لیکن جب پھٹتے ہیں تو سارے رنگ، سارے سر بکھر جاتے ہیں۔ ایسے میں خواہش ہوتی ہے کہ کاش “ان رنگوں” کو زندگی کا حصہ نہ بنایا ہوتا۔ کاش تتلی کو ہاتھوں میں نہ پکڑا ہوتا۔ کاش اسے دور سے ہی دیکھتا۔ تاکہ رنگوں اور خوبصورتی اور کا بھرم تو قائم رہتا۔ بھرم ٹوٹتا ہے تو، حالانکہ آواز نہیں دیتا، مگر ایک چوٹ دل و دماغ کو دے جاتا ہے۔ رنگ بکھر جاتے ہیں۔ رنگوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

لیکن، دوسری جانب ___

تتلی ایسے بدنما رنگ ہی مزین نہیں ہوتی، اس کے پروں میں خوشنما رنگ بھی ہوتے ہیں۔ وہ رنگ جسے اپنی مٹھیوں میں قید کریں یا نہ کریں، پکے ہوتے ہیں۔ زندگی اگر ایسے خوبصورت رنگ دار رشتوں سے عبارت ہوجائے تو رشتوں کا دکھ سکھ، رشتوں کی نزاکت، رشتوں کی صداقت اور اسکی پاکیزگی عبادت جیسی ہوجاتی ہے۔ سکون کے لمحات ایسے رنگوں کے لمس سے کندن بن جاتے ہیں، امر ہوجاتے ہیں۔

جب رنگوں کی بات چلے تو یہ بھی پڑھتے چلیں کہ زندگی کانٹوں کیساتھ ساتھ ہار سنگھار کے چھوٹے چھوٹے پھولوں سے لدی پھندی ہے۔ صبح کے وقت ، پودوں سے گرے زمین پر پھیلے زرد رنگ یہ ننھے منے پھول زرد قالین کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یار سنگھار کے ان پھولوں کو اگر ہم اپنے دامن میں بھر لیں تو ہمارا جیون خوشیوں کے پھولوں کی بھینی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔ یہی وہ رنگ ہیں، یہی وہ اصل اور پکے رشتے ہیں جو ہماری اور آپکی زندگی کا سرمایہ ہیں، باقی سب مایہ ہیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ رنگوں اور رشتوں کا انتخاب ہمیں سکھ بھی دے سکتا ہے اور بعض اوقات دکھ اور پچھتاوا بھی۔ رشتوں کے رنگوں کو پہچانیئے۔ اپنے ارد گرد سچے اور تتلی کے عمدہ رنگوں کی رنگولی بنائیے۔ ایسے رنگ اور ایسے رشتوں کا انتخاب کیجیئے جن سے ہار سنگھار کے پھولوں جیسی خوشبو آئے!

۔۔۔

○ جاوید اختر

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

● کرکٹ ورلڈ گپ شپ

۔۔۔
کرکٹ 2019 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کرکٹ کی نرسری انگلستان میں ایک جشن کا سماں ہے۔ انگلش یوتھیئے اور یوتھنیئائیں سڑکوں پر امڈ آئے ہیں۔ کہیں آتش بازی تو کہیں قحبہ خانہ میں جمی تاش کی بازی۔ لنڈھائے گئے جام کے تام جھام اپنی جگہ اور انگریز دوشیزاوں کے ہوش ربا جلوے اپنی جگہ۔ کیا گورے، کیا کالے اور کیا مذید کالے، ہر کوئی مست گھوم رہا ہے۔ چرچل کا انگلستا اب ہوا پرانا۔ نیا انگلستان بس اب بننے کو ہے!

اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ڈی جی ایم آئی 6 نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں انگریز قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ___
“مستقبل کے وزیر اعظم نے اپنی حکمت عملی سے دشمن کیوی کی کمر توڑ دی ہے۔ اب کیوی ٹیم کے شکست خوردہ عناصر کو اپنے ملک میں بھی جائے پناہ نہیں ملیگی۔”

اس موقع خاص پر برٹش آرمی کے سربراہ نے فارمیشن میٹنگ کے بعد ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی معیشت میں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں دہشت گردی ختم کردی گئی ہے۔ انگلش ٹیم کیطرف میلی نظر سے دیکھنے والے کیویوں کی آنکھیں نکال دی جائینگی۔ نیوزی لینڈ والوں کو سرحد کے پار کامیابی سے دھکیل دیا گیا ہے۔ اب انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

ہوم سیکریٹری (وزیر داخلہ) جناب ساجد جاوید نے مخالف ٹیم کے تمام کرکٹنگ عناصر بالخصوص فاسٹ بالرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی شرپسندی والی سوئنگ بالنگ سے باز آجائیں ورنہ ان سے آہنی گیندوں سے نمٹا جائیگا۔

انگلش کپتان مورگن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا کہ وہ لوٹی گئی دولت مشترکہ واپس لائینگے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ کرپٹ لوگوں کو الٹا لٹکائینگے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ این آر او نہیں دینگے، سکاٹ لیند یارڈ کو خودمختار ادارہ بنائینگے۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ نیوزی لینڈ کا چیپٹر کلوز ہوگیا ہے۔ اب لندن سے خوف کی فضا ختم ہوچکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اقتدار میں آکر 10 ڈاوننگ اسٹریٹ کو لائبریری میں تبدیل کردینگے۔

کپتان مورگن کے دست راست، اور کمسن جوفرا آرچر نے انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ___
“حکومت میں آنے کے بعد کرپٹ ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان سے لوٹی گئی 200 ارب پاونڈ برآمد کی جائیگی۔ جسمیں سے 100 ارب پاونڈ انکا کپتان مورگن، اگلے دن مودی کے منھ پر مارے گا اور بقیہ 100 ارب پاونڈ ملکہ کی تاج پوشی پر خرچ کیا جائیگا۔”

خوشی کے اس موقع پر انگلستان کے سب سے بڑے نیوز چینل بی بی سی پر، جسے اے آر وائی نے خرید لیا ہے، ایک اینکر اپنی کانسپریسی تھیوری کے فیل ہونے پر بادامی چھوہارے کھاتے دیکھا گیا۔ اے آر وائی کے صحافی شفیع نقی کا کہنا تھا کہ اب ہمارا کپتان مورگن انگلینڈ کو ترقی کی سمت گامزن کردیگا۔ اب نیوزی لینڈ کو پتہ چل جانا چاہیئے کہ برٹش آرمی اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے۔ اب دشمن انکا بال بیکا نہیں کرسکتا۔

ڈیفنس انالسٹ پینی مورڈاونٹ کا خیال ہے کہ اب پاونڈ سٹرلنگ کو دہشت گردی کا شکار نہیں ہونے دینگے۔ ہمارا ڈیفینس اب مظبوط ہاتھوں میں ہے۔ آئرلینڈ میں جلد ہی ڈی ایچ اے ہاوسنگ اسکیم شروع کی جائیگی۔ جس کے لیئے 92 والے کپتان وزیراعظم سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔

آخر میں برٹش آرمی، ایم آئی سکس، سکاٹ لینڈ یارڈ اور آے آر وائی کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے کپتان مورگن سے ڈبلن میں انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں اپنی نیک خواہشات اور ممکنہ تعاون کا یقین دلایا۔

کپتان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوٹا ہوا مال واپس لائینگے، چاہے انہیں ہائیڈ پارک میں دھرنا ہی کیوں نا دینا پڑے!

○ جاوید اختر

غالب کا خط عالم بالا سے ●

وقت کے عظیم ترین فلاسفر، شاعر، نثر نگار اور اردو زبان کے پیغمبر جناب مرزا اسداللہ خان غالب کا آج یوم پیدائش ہے۔نوشہ میاں کی شان کو تو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اور نہ ہی اس جیسی ہستی کا کوئی ہمسر ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے اس عظیم مدبر کو آئیے خراج عقیدت پیش کریں کہ جو اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک پوری تاریخ ہے۔ اردو زبان پر رہتی دنیا تک اس کا فسوں چھایا رہےگا۔ اردو زبان مرزا اسد اللہ خان غالب کے ایک ایک لفظ کی امانت دار ہے اور جب تب دنیا باقی ہے، اردو بولنے والے غالب کا یہ احسان کبھی نہیں اتارسکتے۔

!!!اشاعت مکر کے طور پر میری ایک تحریر پچھلے سال کی لوح سے پیش خدمت ہے۔ لطف اٹھائیے


غالب کا خط عالم بالا سے ●

اچھی صلاح دی میاں کہ ستائیسویں دسمبر کو یوم غالب عام کیا جاوے، پر لڑکنوں بالوں کو کون سمجھائے۔ یہ سسرے نہ تو غالب سے آشنائی رکھیں ہیں نہ شبستانوں کے درماں۔ ہاں، نئے زمانے کے گویّوں کے خوب رسیا ٹہرے۔ بارا ربیع الاول کو بھی اسی ڈھول تاشے سے مناتے ہیں جیسے اپنی ماں کے خصم کی بارات۔ اب اگر اس موقع پر بھی باجے تماشے ہوں تو پھر شکایت مت کرنا۔

حکومت وقت کو ابھی اپنے وزیر اعظم کی پناما چھید سی لینے دو۔ بزاز اور خیاط کا انصرام ہونے کو ہے۔ پھر رفو گر کی ہشیاری دیکھنا۔ جرنیل با تدبیر کی وداعی سے فارغ ہو کر نئے نویلے بانکے چھبیلے کی سلامی لینے دو، تجویز رکھتے ہیں۔ چٹھی تو تیار ہے بس قاصد کا انتظار؛ کوئی پل آتا ہی ہوگا۔ پھر بادشاہ سلامت جانیں یا تم۔ ہمیں کیا لینا دینا۔ حکومت وقت تو ہم سے خوش نہیں۔ بار بار ہرکارے آتے ہیں، لیکن طبیعت سلامی پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ابھی پچھلے چہار شنبہ ہی نیوتا بھیجا تھا۔ ساتھ میں دو عدد ولایتی مع ظروف و متاع بھی۔ ہرکارے کو دالان سے ہی واپس لوٹا بھیجا۔ طبیعت ملنا گوارا نہ تھی۔ سوچ کی چاندنی تو اجلی تھی مگر مے ارغوانی۔ شربتی مے کا سامان البتہ اس سوچ کے ما حاصل رکھ لیا کہ اس کا کیا قصور۔ پیالہ ہم اپنا ہی چلاتے ہیں؛ گر ٹوٹ بھی جاوے تو غم نہیں۔ بازار سے سستا منگوا لینگے۔

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

لیکن اس سے مطلب و مراد نہیں کہ ہم مے کے رسیا ہیں۔ بس پنش کی امیدی اور نا امیدی بیچ ٹنگے رہتے ہیں۔ اب آوے کہ تب۔ ملنے پر قرض خواہوں کےپچھلے حساب میں غرق۔ مے کی طلب دیکھ کر اپنے حکیم مومن خان مومن نے مجھے اپنا شعر بخش دیا تھا۔ اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔ کیا آزاد مرد تھا۔
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

بادشاہ سلامت آجکل اپنی صاحبزادی نیک خصال وجمال کی دختر نیک اختر کی رخصتی میں مگن ہیں۔ سنا ہے پڑوس کے بادشاہ بمعہ اہل ثروت مہمان ہوئے ہیں۔ عوم الناس کو دیکھا سنا، خوب بھپتی کستی رہی ہے۔ لباس شاہی کا اب تو انداز و طریقہ بھی بدل گیا۔ کج کلاہ کی جگہ دربانوں کا حلیہ بنا لیا۔ روایت شکنی کا ارادہ ہے شائد۔ مصاحبین سے مشورہ ہی کیا ہوگا، حالانکہ یہ حلیہ شاہ معظم کے جلال کو رونق نہیں دیتا۔ اس ہنگام میں حکومتی امور ٹھپ ہیں۔ درباری گوئیے شان میں قصیدے لکھ اور سنا رہے ہیں۔ مال وزر کا یہی سستا رستہ ہے۔برادر شیخ ابراہیم ذوق کی یاد تازہ ہوگئی۔

سپہ گری زورں پر ہے۔ کچھ تم ہی بتاؤ۔ بادشاہ سلامت اور سپہ سالار کے مابین ان بن کی شنید ہے دیکھیں ہیں، پردہ غیب سے کیا ظہور پھوٹتا ہے۔ کوئی خبر ملے تو قاصد روانہ کرنا۔ ہو سکے تو دو صد سکوں کی پوٹلی بھی۔ پنشن ملتے ہی لوٹا دونگا۔

سننے میں ہے کہ نادر روزگار مخلوق دارلخلافہ میں ہے۔ عجیب عجیب اور بے سروپا باتیں کرتا ہے۔ ولے کبھی سپہ سالار کے گن گاتا ہے، تو کبھی اوٹ پٹانگ دعوے۔ قحبہ گری اور کتوں کا شوق ہے۔ زنانیوں کی صحبت لیکن زوجیت کے مسائل۔ نازنینوں کا شوق ہم بھی رکھتے تھے۔ لیکن چولی اور دامن کو جدا ہی رکھا۔ نازکیوں اور سبک خرام کی کوٹھوں والی کہانیاں بھی عالم زوفشاں ہیں۔ کبھی اعضاء کی شاعری ماہ جبینوں کے بالا خانوں پر سجتی تھیں، اب نوید ہے پختہ راستوں اور چوراہوں پر بازار سجتے ہیں۔ مراثیوں اور ٹھٹھے باز سر راہ سراہے جاتے ہیں۔ کیا نادر روزگار لوگ ہیں۔بادشاہ سلامت کی ڈھیل نہ جانے کیا شگوفہ افروزی کرے۔ کاش ہم بھی شاہ کے طرفدار ہوتے۔
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

طبیعت کو پوچھا نہیں، لیکن بتا دیتے ہیں کہ بس اب جانے کو ہے؛ دوگام کا سفر ہنوز باقی ہے۔ زندگی سے نسبت اب نام کو ہے۔ اجل کا بلاوہ آنے کو ہے۔
قید حیات و بند غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

عمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکنمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکن ہے آدم کی پسلی سے پھوٹنے والی رعنائیوں کی الفت کے طفیل بخشش ہوجائے۔
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
۔۔۔

والسلام
جاوید اختر

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔

 


 

○ جاوید اختر