!جھولا

!جھولا ●
۔۔۔
جھولوں سے کون نہیں واقف؟ ہم میں سے ایسا کون ہوگا جس نے اپنی عمر کے کسی حصہ میں جھولوں کا لطف نہ لیا ہوگا۔ بچے تو خیر جھولوں کے دیوانے ہوتے ہی ہیں لیکن بڑے بھی جھولوں سے پینگیں بڑھانے سے باز نہیں آتے، بس نظر آنے کی دیر ہے۔ اگر بچوں کو اس شوق سے علیحدہ بھی کردیں تو خواتین کو کیسے نکالیں گے؟ باغوں میں خواتین ہوں اور جھولے خالی نظر آجائیں، یہ ہو نہیں سکتا۔ اور اگر بارش کی رم جھم ہو تو جھولوں کی پینگیں، گلگلوں کے تھال اور ہماری خواتین، یہ تین عناصر سرکشی پر اتر اتے ہیں۔

جہاں پینگیں بڑھاتے تھے شجر وہ یاد کرتے ہیں
وہ جھولے پوچھتے ہیں اب تمہیں ساون بلاتا ہے
(دویش دکشت)

جھولے کئی قسم کے ہوتے ہیں مگر سبھی ہوا باز ہوتے ہیں، ہواوں سے باتیں کرتے ہیں۔ گھر کے صحن میں لگے ہوں یا پارک کے کونوں میں، دالان میں ایستادہ ہوں یا دادی جی کیلیئے مکان کے برآمدے میں چھت سے لوہے کے کنڈوں سے لٹکے ہوئے، دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، بلاتے ہیں، اپنی گود وا کردیتے ہیں۔ اپنے بازو پھیلا کر اس میں سمانے کی دعوت دیتے ہیں۔ پھر جھولا لینے والوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ آگے کی طرف کتنا جاتا ہے اور اسی طرح پیچھے کتنا!

زمانہ جدید میں جھولوں کی کئی اقسام ہیں جن میں خاص طور پر الیکٹریکل طویل قامت جھولے جس میں بیٹھنے کے بعد افسوس ہوتا ہے کہ کیوں بیٹھے۔ چیخیں تو چیخیں، جان تک نکل جاتی ہے۔ اور تو اور بعض اوقات پیشاب تک خطا ہوجاتا ہے۔

سچ پوچھیئے تو جھولوں میں کیا رکھا ہے، اسکے ہچکولوں میں ہی تو لطف ہوتا ہے۔ مذید یہ کہ جھولا کوئی بھی ہو، اسکا انداز، برتاو، اور اسکی ہیئت، اسکا استعمال ہم انسانوں کو ایک سبق بھی دیتا ہے۔ غور کریں تو جھولا ہماری زندگی کے معاملات پر اسطرح منطبق ہوتا ہے کہ اس کا ہر ہچکولا (oscillation) یہ کہتا ہے کہ زندگی کبھی اوپر جانے کا نام ہے تو اسی زندگی میں نیچے بھی آنا ہوتا ہے۔ ہمیشہ اونچائی کا ساتھ نہیں رہنا۔ جس طرح جھولے میں دھکے کی قوت کے ساتھ جو اسراع (acceleration) پیدا ہوتا ہے، اسی اسراع کے تحت زندگی کا جھولا پھر نیچے کی طرف بھی آتا ہے۔ جھولے پر بیٹھنے والے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اونچائی پر جانے سے پیدا شدہ اسراع کےجن کو کیسے قابو کرتا ہے۔ اس کا مثبت استعمال زندگی کے جھولے میں نیچے کیطرف آتے ہوئے متانت، سنجیدگی، فہم و فراست سے بھرپور عمل اور سوچ کے زاویئے اسے اونچائی سے گرنے نہیں دیتے۔

نہیں ہے مرجع آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
انسان جب تک جھولے کے ہچکولے سے لطف اندوز ہوتا ہے، بھول جاتا ہے کہ اسے ایک دن نیچے بھی آنا ہوگا۔ اپنی اڑان، اپنی مستی میں وہ دنیا میں رہنے کے آداب اور اسکے تقاضے بھول کر خود کو ارفع و اعلی تصور کرتا ہے۔ حالانکہ زندگی کے حوادث کا ایک جھٹکا اسے عرش سے فرش پر لے اتا ہے۔ ایک دن اسکا تنا ہوا بدن، اسکا تنومند جسم، جوانی سے بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہر عمل اسے آہستہ آہستہ خاک کی جانب کھینچ رہا ہوتا ہے۔ مگر وقت اسوقت انسان کے ہاتھ سے ریت کی طرح سرک چکا ہوتا ہے۔

جھولے سے لطف اندوز ہونا ہم سب کا حق یے مگر، مرجع آدم کی منزل ہمیشہ پیش منظر ہو تو کیا ہی بہتر ہو۔

!زندگی چند روزہ ہے۔ موت برحق یے۔ مگر حسن اخلاق اور حقوق العباد پر تیقن کا تحفہ ہی احسن ہے
۔۔۔
جاوید اختر ○

● بہاروں پھول برساو

● بہاروں پھول برساو

ایک طرف شبنمی قدموں کی خاموشی۔
اور دوسری طرف
پائنچوں میں چھپی نقرئی گفتگو کرتی پائل کی کھنک۔

کلیوں کا چٹکنا جیسا محبوب کے مسکاتے لب۔
ہر سو پھیلی پھولوں کی خوشبو، اور ہرجائی بھنوروں کا طواف۔

مٹیالے بادل سے ٹپکتی، ٹہرتی، لپکتی بوندیں
اور مٹی سے اٹھتی سوندھی خوشبو کی لپٹیں۔

اور
ڈھلتی خوبصورتی عمر گریزاں کے قصے سناتی ہوئی
لیکن
اب بھی دلکش ہے تیرا روپ اے دلربا، اے دلنشیں۔

،صندلی بانہیں، مخملی نگاہیں اور اداسی سے لبریز لرزتے کپکپاتے ہونٹ
،چہرے پر لٹکتی بے پرواہ چاندی کے تار چھپائے زلفوں کی لٹیں
آواز وہی جیسے ہر تان ہے دیپک۔

○ جاوید اختر