سنہ 2035 کا آئینہ

سنہ 2035 کا آئینہ

:ماضی قریب کے حکومتی اقدامات اور روپہلے فیصلوں کا نتیجہ

“ملک میں سیاسی فہم کا دور دورہ تھا”
“معاشی اشاریئے ترقی کی نوید سنا رہے تھے”
“سفارتی محاذ پر کامیابیاں حکومت کے قدم چوم رہی تھیں”
“عوامی بہبود کے پروگرام سے فلاحی مملکت کے قیام کی راہ ہموار ہورہی تھی”
“مملکت کے تمام ستونوں میں ہم آہنگی تھی”
“وسائل کی بہتات تھی”
“بین الاقوامی محاذ پر تعلقات کی برابری کے سنہرے دور کا آغاز ہوا تھا”
“انصاف سستا اور حصول آسان تھا”
“ہر قسم کی اشرافیہ، منتخب جمہوری حکومت کے ماتحت تھی”
“ادارے توانا اور خود مختار تھے”
“میرٹ کا دور دورہ تھا”
“سیاسی اور حکومتی سطح پر کرپشن نہ ہونے کے برابر تھا”
“عوامی روز مرہ استعمال کی اشیاء وافر اور ارزاں قیمت پر دستیاب تھیں”
“اشیاء کی درآمد و برامد کا حجم ملکی مفاد میں تھا”
“معاشی پالیسیوں کے مثبت اور تسلسل کے طرز عمل سے زر مبادلہ وافر مقدار میں دستیاب تھا”
“ڈالر کے مقابل روپیہ کی قدر مستحکم ترین حالت میں تھی؛ 1 ڈالر تقریبا 50 روپے کے برابر آچکا تھا”
“مسلم امہ میں پاکستان کا مقام دو طرفہ بنیاد پر عزت اور رکھ کھاو کا تھا”
“معاشی ترقی میں پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان سے آگے نکل چکا تھا”
“طبقاتی، نظریاتی اور مذہبی ہم آہنگی عروج پر تھی”
“سیاسی انتقام کا شائبہ تک نہ تھا”
“نفرت اور تعصب کی بنیاد پر کیئے گئے فیصلے واپس کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو کھلے عام کام کرنے کی آزادی دی گئی تھی”
“صوبوں کو وفاقی دولت میں اسکا جائز حصہ دیا گیا تھا”
“ملک کے تمام انتطامی ڈویژن کو صوبوں کا درجہ دے دیا گیا تھا”
“انتظامی اصلاح کے ذریعہ تمام صوبے اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوگئے تھے”
“نہ تو جبری بندش تھی؛ نہ ضمیر کے قیدی اور نہ ہی سوشل ایکٹیوسٹ کسی انتقام کا شکار تھے”
“لوگو کی حب الوطنی پر شبہ گناہ اور جرم شمار کیا جاتا تھا”
“سرکاری سطح پو مذہب کی تبلیغ شجر ممنوعہ قرار دے دی گئی تھی”
“مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیا گیا تھا”
“اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں ریاست نے ایک ماں کا کردار ادا کیا تھا”
“عسکری اشرافیہ سمیت کسی بھی ذیلی ادارے کو ملکی اور حکومتی کارہائے پر ازخود بیان دینے یا ٹوئیٹ کرنے پر پابندی تھی”
“ٹوئیٹ پالیسی کو ناپسندیدہ طریقہ کمیونیکیشن سمجھا جاتا تھا۔ اس پالیسی کے تحت حکومت کے ذیلی اداروں کے ٹوئیت اکاونٹ ختم کر دیئے گئے تھے”
“حکومتی عہدیداروں کے یو ٹرن والے بیانات کو قانونی گرفت میں لاکر منافقت والا بیانیہ قرار دیا گیا تھا، جس کی سزا مقرر کی گئی تھی”
“مدنی ریاست کا آلاپ کرنے کی ممانعت تھی”
“مسئلہ کشمیر پر ، ٹوئیٹ کرنے، آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے اور وزیر خارجہ کی دوہائی کے بجائے فیصلہ کن کردار ادا کیا گیا تھا، جسکے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف امن ہی امن قائم ہوگیا تھا”
“چونکہ عسکری قوتوں کو جمہوری حکومت کے تابع کردیا گیا تھا اسطرح نا صرف ڈی ایچ اے کے تمام پراجیکٹس حکومتی تحویل میں آچکے تھے بلکہ عسکری اداروں کے من جملہ تمام تجارتی منصوبوں کی اونرشپ جمہوری اداروں کے ماتحت کردیئے گئے تھے”
“پڑوسیوں سے بہترین تعلقات کے نتیجہ میں پائیدار امن قائم ہوچکا تھا اسلیئے فوجی بجٹ میں 50 فیصد سے زائد کٹوتی کر کے بچنے والی رقم تعلیم کے فروغ اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیئے جانے لگے تھے”
“عسکری اور عدالتی عدم ایکٹیویزم کے نتیجہ میں عوام کے ذہنوں سے سرخیل اور عادل وقت کا نام مٹ چکا تھا”
اور __
حکوتی بیانیہ کے مطابق اکتوبر 2016 میں شروع ہونیوالا پشاوربی آر ٹی کا منصوبہ سنہ 2038 میں پایہ تکمیل کو پہنچنے کی قوی امید تھی۔
۔۔۔

مسقبل کے مورخ کو وقت کی دستیاب سیاہی ڈھونڈنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا کہ شغلیہ حکومت کے کسی ایک کام کی بھی مدح سرائی کی جاسکے۔

جاوید اختر ○

Advertisements

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔

 


 

○ جاوید اختر

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔


○ جاوید اختر