قدرتی آفات | مذہبی عقیدہ اور سائنس ●

 

:مذہبی نکتہ نگاہ سے زلزلہ آنے کے اسباب

عورتوں کا غیر محرم کیلیئے خوشبو لگانا، غیر محرم کے سامنے عورتوں کا ننگا ہونا، اور زنا، شراب اور موسیقی کا عام ہوجانا۔
۔۔۔

:سائنسی پیمانہ سے زلزلہ آنے کے ثابت شدہ اسباب

ماہر ارضیات اور سائنسی نظریہ کے مطابق ہماری زمین سطح سے گہرائی کی جانب اوپر کی جن تہوں پر مشتمل ہے اسے Lithosphere اور Asthenosphere کہتے ہیں۔ بیرونی پرت یعنی لیتھو اسفیئر انتہائی سخت اور ٹھنڈا پرت ہے جبکہ استھینو اسفیئر مقابلتا بہت گرم تہہ ہوتا ہے۔ ماہرین نے لیتھو اسفیئر کو پہچان کیلیئے سات عدد عظیم الشان تہوں یا پرتوں میں بانٹا ہے، جسے ارضیات کی زبان میں ٹیکٹونیک پلیٹس (Tectonic plates) کہتے ہیں۔ ٹیکٹونیک پلیٹس کی چہار دیواری یا حصار کو فالٹ لائن کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں فالٹ یا cracks پائے جاتے ہیں۔ ایک فالٹ لائن اپنے پڑوس کی دوسری فالٹ لائن سے ملی ہوتی ہے یا اس کے اوپر واقع ہوتی ہے۔

زیر زمین ارضیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تحت جب بڑے پیمانے پر انرجی یا توانائی استھینو اسفیئر سے نکلتی ہے تو انتقال حرارت کے اصولوں، کنویکشن اور کنڈکشن، کے تحت یہ توانائی ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے ہوتی ہوئی اسکے اطراف میں سرایت کر جاتی ہے۔ توانائی کی یہ مقدار بہت ذیادہ اور شدید نوعیت کی ہوتی ہے جو ان پلیٹس کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ توانائی کے اخراج کے ان طریقوں کی بدولت توانائی یا تو عمودی حرکت کرتی ہے یا افقی۔

ان دو حرکتوں کی وجہ سے ٹیکٹونیک پلیٹس میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ارتعاش کی یہ قوت توانائی کی قوت اور حجم پر موقوف ہوتی ہے۔ یعنی توانائی کا اخراج کم ہوگا تو پلیٹس میں ارتعاش بھی کم ہوگا اور ذیادہ ارتعاش کے نتیجہ میں زلزلہ کی شدت بھی اتنی ہی ذیادہ ہوگی۔ نتیجہ میں ہونیوالی تباہی کا زمین کے اوپر فالٹ لائن اور اسکے اطراف پر قائم مکانیت کی تعداد اور زلزلہ کی روک تھام کے معیار سے بالواسطہ تعلق ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں شدت کے زلزلہ کے باوجود کم ہلاکتیں اور نقصانات ہوئے برعکس ان جغرافیائی علاقوں کے جہاں روک تھام کا بندوبست کماحقہ نہیں کیا جاسکا تھا ۔۔۔ مثلا ناقص زلزلہ پروف تعمیرات، بعد از زلزلہ فوری امدادی کام اور طبی امداد بہم نہ پہنچانا وغیرہ۔

وہ علاقے جہاں زلزلے آتے رہتے ہیں وہ انہی ٹیکٹونک پلیٹس پر یا اسکے اریب قریب واقع ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین پر مختلف جغرافیائی ٹکرے ایسے ہیں جو ان ٹیکٹونیک پلیٹس اور انکے فالٹس سے یا تو پرے ہیں یا درمیان میں واقع ہیں۔ جہاں یا تو زلزلہ کی شدت نہیں پہنچتی یا بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان علاقوں میں روس کا علاقہ، مشرقی یورپ مثلا ایسٹونیا، دیگر یورپی ممالک؛ مشرق وسطی، مشرق بعید میں سنگاپور اور انتہائی شمالی ایشیا کے ممالک؛ بحرالکاہل کا ایک بہت بڑا حصہ، جنوبی اور شمالی امریکہ کا وسطی اور شرقی علاقہ اور اسکے علاوہ افریقہ اور آسٹریلیا وہ زمینی خطے ہیں جہاں زلزلہ کا خطرہ یا تو نہیں ہے یا بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا اور فلوریڈا بھی زلزلہ کی اثر انگیزی سے دور ہیں۔ اسکی وجہ ان جغرافیائی خطوں کا ٹیکٹونیک پلیٹس کی فالٹ لائن سے پرے واقع ہونا ہے۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ علاقے جہاں زلزلے کے اثرات نہیں پہنچتے یا بہت کم پہنچتے ہیں، کیا وہاں مذہبی نکتہ نگاہ والے گناہ سرزد نہیں ہوتے؟ کیا امریکی و افریقی سرزمین، آسٹریلیا، اور یورپی ممالک میں ننگا پن، زنا، شراب اور موسیقی کا اختتام ہوچکا؟ کیا وہاں سارے لوگ کفر سے تائب ہوکر مومنین اور مصلحین کے درجہ پر فائز ہوچکے؟ یا وہ جغرافیائی خطے مذہبی عقیدہ پروف ہیں؟

افسوس کا مقام یہ ہے کہ سائنس کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب جب اس قسم کی باتوں کو وجہ تسمیہ کہتے ہیں اور اسکا پرزور پروپیگنڈہ کرتے ہیں تو ہم جہادی اور طالبانی کلچر کو کس منھ سے غلط کہیں گے۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں، یونیورسٹی اور اعلی تعلیمی اداروں سے جہادی بن کر نکلنے والے ایسے ہی اساتذہ کی زیر نگرانی تیار ہوئے ہوتے ہیں۔

مذہب کو سائنسی توجیہات کیساتھ غلط ملط کرنے سے مطالعہ پاکستان والی نسل ہی پیدا ہوگی، جو پھل، سبزی، پہناوے، پرندے، موسیقی اور رنگ کو اسلامی لباس پہنائینگے۔ اسی لیئے ہمارے ملک میں سائنس، طبیعات اور کیمیاء جیسے مضامین کو اسلامی شہد سے غسل دے کر رنگ برنگی پگڑی پہنادی جاتی ہے، جن کی معلومات مطالعہ پاکستان کی حدود میں قید رہتی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب برصغیر کی ایک بہت بڑی آبادی اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ زمین کو ایک بیل نے اپنے سینگ پر اٹھا رکھا ہے۔ جب بیل تھک کر سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ واقع ہوتا ہے۔ آج کے دور میں بھی بے شمار لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ زمین گول نہیں چپٹی ہے۔ اور آج بھی ایسے مذہبی عقیدے والے موجود ہیں جو زمین کے چپٹے پن کو درست سمجھتے ہیں۔ حتی کہ مذہبی کتابوں تک میں یہ چپٹا پن چینخ چینخ کر اپنے بونے ہونے کا ثبوت پیش کررہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو انسانی قدم کے چاند پر پہنچنے کو فاسد مانتے ہیں لیکن اگلی ہی سانس میں نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر اذان سننے پر ایمان لے آتے ہیں۔ بادلوں، روٹی اور بیگن میں لفظ اللہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

“!اور تم کن کن نعمتوں کو ٹھکراوگے”
سائنس بھی ایک نعمت ہے، اگر سمجھیں تو! مذہبی عقیدہ اپنی جگہ مگر عقائد کو ثابت شدہ سائنس توجیہہ سے ملانا فکری جہالت کا بلند ترین درجہ ہے۔


جاوید اختر ○