غالب کا خط عالم بالا سے ●

وقت کے عظیم ترین فلاسفر، شاعر، نثر نگار اور اردو زبان کے پیغمبر جناب مرزا اسداللہ خان غالب کا آج یوم پیدائش ہے۔نوشہ میاں کی شان کو تو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اور نہ ہی اس جیسی ہستی کا کوئی ہمسر ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے اس عظیم مدبر کو آئیے خراج عقیدت پیش کریں کہ جو اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک پوری تاریخ ہے۔ اردو زبان پر رہتی دنیا تک اس کا فسوں چھایا رہےگا۔ اردو زبان مرزا اسد اللہ خان غالب کے ایک ایک لفظ کی امانت دار ہے اور جب تب دنیا باقی ہے، اردو بولنے والے غالب کا یہ احسان کبھی نہیں اتارسکتے۔

!!!اشاعت مکر کے طور پر میری ایک تحریر پچھلے سال کی لوح سے پیش خدمت ہے۔ لطف اٹھائیے


غالب کا خط عالم بالا سے ●

اچھی صلاح دی میاں کہ ستائیسویں دسمبر کو یوم غالب عام کیا جاوے، پر لڑکنوں بالوں کو کون سمجھائے۔ یہ سسرے نہ تو غالب سے آشنائی رکھیں ہیں نہ شبستانوں کے درماں۔ ہاں، نئے زمانے کے گویّوں کے خوب رسیا ٹہرے۔ بارا ربیع الاول کو بھی اسی ڈھول تاشے سے مناتے ہیں جیسے اپنی ماں کے خصم کی بارات۔ اب اگر اس موقع پر بھی باجے تماشے ہوں تو پھر شکایت مت کرنا۔

حکومت وقت کو ابھی اپنے وزیر اعظم کی پناما چھید سی لینے دو۔ بزاز اور خیاط کا انصرام ہونے کو ہے۔ پھر رفو گر کی ہشیاری دیکھنا۔ جرنیل با تدبیر کی وداعی سے فارغ ہو کر نئے نویلے بانکے چھبیلے کی سلامی لینے دو، تجویز رکھتے ہیں۔ چٹھی تو تیار ہے بس قاصد کا انتظار؛ کوئی پل آتا ہی ہوگا۔ پھر بادشاہ سلامت جانیں یا تم۔ ہمیں کیا لینا دینا۔ حکومت وقت تو ہم سے خوش نہیں۔ بار بار ہرکارے آتے ہیں، لیکن طبیعت سلامی پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ابھی پچھلے چہار شنبہ ہی نیوتا بھیجا تھا۔ ساتھ میں دو عدد ولایتی مع ظروف و متاع بھی۔ ہرکارے کو دالان سے ہی واپس لوٹا بھیجا۔ طبیعت ملنا گوارا نہ تھی۔ سوچ کی چاندنی تو اجلی تھی مگر مے ارغوانی۔ شربتی مے کا سامان البتہ اس سوچ کے ما حاصل رکھ لیا کہ اس کا کیا قصور۔ پیالہ ہم اپنا ہی چلاتے ہیں؛ گر ٹوٹ بھی جاوے تو غم نہیں۔ بازار سے سستا منگوا لینگے۔

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

لیکن اس سے مطلب و مراد نہیں کہ ہم مے کے رسیا ہیں۔ بس پنش کی امیدی اور نا امیدی بیچ ٹنگے رہتے ہیں۔ اب آوے کہ تب۔ ملنے پر قرض خواہوں کےپچھلے حساب میں غرق۔ مے کی طلب دیکھ کر اپنے حکیم مومن خان مومن نے مجھے اپنا شعر بخش دیا تھا۔ اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔ کیا آزاد مرد تھا۔
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

بادشاہ سلامت آجکل اپنی صاحبزادی نیک خصال وجمال کی دختر نیک اختر کی رخصتی میں مگن ہیں۔ سنا ہے پڑوس کے بادشاہ بمعہ اہل ثروت مہمان ہوئے ہیں۔ عوم الناس کو دیکھا سنا، خوب بھپتی کستی رہی ہے۔ لباس شاہی کا اب تو انداز و طریقہ بھی بدل گیا۔ کج کلاہ کی جگہ دربانوں کا حلیہ بنا لیا۔ روایت شکنی کا ارادہ ہے شائد۔ مصاحبین سے مشورہ ہی کیا ہوگا، حالانکہ یہ حلیہ شاہ معظم کے جلال کو رونق نہیں دیتا۔ اس ہنگام میں حکومتی امور ٹھپ ہیں۔ درباری گوئیے شان میں قصیدے لکھ اور سنا رہے ہیں۔ مال وزر کا یہی سستا رستہ ہے۔برادر شیخ ابراہیم ذوق کی یاد تازہ ہوگئی۔

سپہ گری زورں پر ہے۔ کچھ تم ہی بتاؤ۔ بادشاہ سلامت اور سپہ سالار کے مابین ان بن کی شنید ہے دیکھیں ہیں، پردہ غیب سے کیا ظہور پھوٹتا ہے۔ کوئی خبر ملے تو قاصد روانہ کرنا۔ ہو سکے تو دو صد سکوں کی پوٹلی بھی۔ پنشن ملتے ہی لوٹا دونگا۔

سننے میں ہے کہ نادر روزگار مخلوق دارلخلافہ میں ہے۔ عجیب عجیب اور بے سروپا باتیں کرتا ہے۔ ولے کبھی سپہ سالار کے گن گاتا ہے، تو کبھی اوٹ پٹانگ دعوے۔ قحبہ گری اور کتوں کا شوق ہے۔ زنانیوں کی صحبت لیکن زوجیت کے مسائل۔ نازنینوں کا شوق ہم بھی رکھتے تھے۔ لیکن چولی اور دامن کو جدا ہی رکھا۔ نازکیوں اور سبک خرام کی کوٹھوں والی کہانیاں بھی عالم زوفشاں ہیں۔ کبھی اعضاء کی شاعری ماہ جبینوں کے بالا خانوں پر سجتی تھیں، اب نوید ہے پختہ راستوں اور چوراہوں پر بازار سجتے ہیں۔ مراثیوں اور ٹھٹھے باز سر راہ سراہے جاتے ہیں۔ کیا نادر روزگار لوگ ہیں۔بادشاہ سلامت کی ڈھیل نہ جانے کیا شگوفہ افروزی کرے۔ کاش ہم بھی شاہ کے طرفدار ہوتے۔
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

طبیعت کو پوچھا نہیں، لیکن بتا دیتے ہیں کہ بس اب جانے کو ہے؛ دوگام کا سفر ہنوز باقی ہے۔ زندگی سے نسبت اب نام کو ہے۔ اجل کا بلاوہ آنے کو ہے۔
قید حیات و بند غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

عمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکنمر گویا گزر گئی اک عالم شناسائی میں۔ زاد راہ تو کچھ ہے نہیں۔ بس ایک کلام تازہ ہے اور کچھ حسینوں کے خطوط۔ ممکن ہے آدم کی پسلی سے پھوٹنے والی رعنائیوں کی الفت کے طفیل بخشش ہوجائے۔
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا
۔۔۔

والسلام
جاوید اختر

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔

 


 

○ جاوید اختر

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔


○ جاوید اختر

ماموں •

ماموں •


دو سال پہلے خاندان میں شادی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجھے شادی کے لئے ایک خوبصورت لڑکی سے ملوایا گیا۔ ملنے کے بعد لڑکی نے میری پرائیویٹ نوکری کو لیکر نا پسند کرتے ہوئے مجھے انکار کر دیا۔ میں نے زچ ہو کر کہا تم غلطی کر رہی ہو، دیکھنا یہی نوکری محض دو سالوں میں مجھے کتنی بلندی تک پہنچائے گی۔ البتہ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی ہوگئی جو ہونی ہی تھی۔

چار سال بعد ___

اسی خوبصورت لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ برانڈ نیو آوڈی کار میں دیکھا۔ اس وقت میں اپنی بائک کو کک مار رہا تھا کیونکہ اس کی بیٹری کام نہیں کر رہی تھی۔ اس نے اپنی کار سے میری طرف دیکھا لیکن سر پر ہیلمیٹ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہ سکی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اس وقت مجھے ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس ہوا، لہذا اپنی حفاظت کے لئے ہیلمیٹ ضرور پہنیں، جو آپ کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھائے گا، کبھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیگا۔

“چناچہ براہ مہربانی موٹر سائیکل چلانے وقت ہیلمیٹ کا استعمال ضرور کریں۔”

مضمون  کا اوپری حصہ کاپی شدہ ہے۔

آخری  جملہ کو اگے بڑھاتے ہوئے میری تحریر پڑھیئے۔ یہ تحریر نہیں، بہت سے نوجوانوں کا نوحہ ہے۔

 ___ ۔۔۔اور کہانی آگے کچھ یوں ہے کہ

وہ لڑکی تو اپنے شوہر کیساتھ آگے چلی گئی۔ میں ہیلمٹ کے اندر حسرت و یاس کی تصویر بنا آوڈی ایس 8، 2018 ماڈل، سیکنڈ جنریشن کی ٹیل لائٹ کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ آوڈی کیا گئی جیسے جاتے جاتے میرے کھوکھلے دعوں کی پول پٹی کھول گئی ہو۔ ہیلمٹ کے اندر میرے چہرے سے پھسلتے عرق انفعال کے قطرے گویا میری عزت نفس کی غسل میت کا کام کر رہے تھے۔  

 ___ پھر اچانک ہی میرے اندر کا غیور انسان بیدار ہوا اور میں خود سے بڑبڑا نے لگا

یہ دولت، مال و اسباب، یہ زر و زن سب مایہ ہے، چند روزہ ہے۔ اصل دولت اور گوہر نایاب تو وہ تسکین ہے جو سی ڈی 70 چلانے والوں کو حاصل ہے۔ دولت کے بل پر ایک نہیں کئی آوڈی خریدی جاسکتی ہیں لیکن غیرت کے بل پر ایک سی ڈی 70 کی سواری سے حاصل ہونیوالی خودی کی دولت، یہ اونچی کوٹھی والے کیا جانیں۔ میرے نذدیک یہ سب دنیاوی ہے۔ ہاتھ کا میل ہے۔ دل کا سرور نہیں۔ جو اطمنان و سکون اس کھٹارا موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہیلمٹ کے اندر حاصل ہے، آوڈی میں بیٹھنے والی لڑکی کو اس کا ادراک ہی نہیں ___ جاہل کہیں کی؛ اچھا ہوا میری زندگی میں آئی ہی نہیں۔

انہی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ کسی نے میرا شانہ تھپتھپایا۔ پلٹ کر دیکھا تو کوئی موٹر سائیکل سوار تھا اور ہاتھ میں پستول۔ میں سمجھ گیا کہ اج قربانی کا دن ہے۔ اور مجھ سے بھی ذیادہ اس غریب کو ایک موبائل کی ضرورت ہے۔ چند لمحوں پہلے کی غیرت و حمیت ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی، کسی غریب کی مدد کا جذبہ ابھی غالب تھا۔ موبائل اسکے حوالے کیا۔ شائد اس کی ضرورت ذیادہ تھی۔ پرس اور ہاتھ کی گھڑی بھی اس پر وار دیا۔ شکر ہے بڑا ہی قناعت پسند بندہ تھا ورنہ اسے موٹرسائیکل کی بھی ضرورت پڑسکتی تھی۔

غمگین دل کیساتھ کک ماری اور ان انکھوں سے بچتے ہوئے موٹر سائیکل گیئر میں ڈال دی جو میرے جذبہ امداد غریباں کو ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ گویا ان انکھون کا کہنا تھا کہ بھائی آپ بھی غریبوں کے اتنے ہی ہمدرد ہیں۔ مبارک ہو ہم سب ساتھ ساتھ ہیں۔

جانا کہیں تھا لیکن راستے کے حوادث نے نجانے کہاں دھکیل دیا۔ غلط راستہ کا انتخاب شائد جان بوجھ کر کیا تھا اوڈی والا رستہ میرا نہیں۔ مجھے اپنا رستہ خود بنانا ہے۔ لیکن اندر کسی چیز کے ٹوٹنے کی اواز آرہی تھی۔ خلش تھی یا انا، پتہ نہیں لیکن کچھ تو تھی جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ ایسے میں ایک دفعہ پھر میرا ہیلمٹ میرا سہارا بنا ورنہ لوگ بے وجہ میری اداسی کا سبب پوچھتے پھرتے۔سبب پوچھتے پھرتے۔

بجھے دل کیساتھ رستہ طے کیا۔ منزل تھی اپنا گھر۔ موٹر سائیکل اسٹینڈ کے سہارے کھڑی کی اور اندر داخل ہوا۔ اندر سے شور کی آوازیں آرہی تھیں۔ بچوں کا شور۔ غالبا باجی آئی ہوئی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی با اواز بلند نعرہ سنائی دیا۔

___ !ماموں آگئے

یہ بتانا تو بھول گیا کہ میں ایک چھوٹی سی نوکری کرتا ہوں۔ چھوٹی نوکری نہ ہوتی تو موٹر سائیکل کے بجائے کار ہوتی۔ گزارا مشکل تھا اس لیئے فارغ وقت میں ٹیوشز کرتا تھا۔ جب سے روپے کی ویلیو کم ہوئی تھی، اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جارہی تھیں۔ بیگم کے نخرے پورے کرنے کے واسطے نئی ٹیوشن کی تلاش تھی۔ انٹرویو کا بلاوا آیا تھا۔ پتہ سے امیروں کا محلہ معلوم ہوتا تھا جہاں کے 2000 ہزار گز کے ایک پلاٹ میں ہمارے 60، 60 گز کے 30 سے زائد پلاٹ نکل آئیں۔ کسی تیسری کلاس کی بچی کے لیئے ٹیوشن کی تلاش تھی۔

ڈھونڈتا ڈھانتا دیئے گئے پتہ پر پہنچا۔ مکان کیا تھا، خوابوں کا محل تھا۔ باہر گارڈ تعینات تھے۔ دو گاڑیاں بھی کھڑی نظر آئیں۔ نظر سے اوجھل رکھنے کیلیئے میں نے اپنی کھٹارا دور پرے کھڑی کی۔ گارڈ کو بتایا کہ انٹرویو کیلیئے مدعو ہوں۔ گارڈ نے کہا کہ صاحب لوگ تو گھر پر نہیں ہیں۔ میرے زور دینے پر گارڈ نے اندر سے معلومات لی اور بتایا کہ صاحب نے کہا ہے کہ مجھے اندر بٹھایا جائے۔ وہ لوگ جلد آنے والے ہیں۔ برے وقت میں کام آنے والے ہیلمٹ کو گارڈ روم میں رکھ کر میں اندر ‘تشریف’ لے گیا۔ اپنے بارے میں، میں کوئی حسن ظن نہیں رکھتا، لیکن اتنے بڑے محل میں میرا اندر جانا “تشریف” لیجانے سے کم بھی نہ تھا۔

دوران انتظار چائے اور بسکٹ سے تواضح بھی کرائی گئی۔ چائے تو تعویذ والی تھی، بد مزا۔ کوئٹہ والے ٹی اسٹال سے چائے پینے والے کیلیئے زہر تھا۔ البتہ بسکٹ خاصے اچھے تھے۔ رائل برانڈ کے بسکٹ تھے۔ بسکٹ کے بجائے کوکیز کہنا بہتر ہوگا۔ آنکھ بچا کر ٹشو میں لپیٹ کر چار چھ کوکیز جیب میں بھی ڈال لیئے، زاد راہ کے طور پر۔

چند منٹوں کے بعد خدمتگار نے صاحب کے آنے کی اطلاع دی اور اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ دالان سے گزر کر ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور صاحب کو اطلاع کیلیئے اجازت مانگی۔ دو منٹ بعد ہی جو صاحب اندر داخل ہوئے، ایک جھماکا سا ہوا کہ کہیں پہلے بھی دیکھا ہے۔ کہاں! فوری طور پر یاد نا آسکا۔

ابھی اسی سوچ میں تھا کہ صاحب خانہ نے اپنا تعارف کرایا۔ عدنان نام تھا انکا اور شہر کے ایک بڑے صنعتکار تھے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ صاحب خانہ کی بیگم ایک چھوٹی بچی کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوئیں۔ انہوں نے مجھے اور میں نے انہیں دیکھا۔ مجھ پر تو گویا منوں ٹنوں پانی پڑ گیا۔ خاتون خانہ کوئی اور نہیں، وہی تھیں جنہوں نے مجھ ٹھکرا کر ایک امیر و کبیر سے شادی کر لی تھی۔ میری سوچیں ٹھہر سی گئی تھیں۔ جی وہی جو ایک سگنل پر آوڈی میں بیٹھی دکھائی دی تھی۔ عدنان اسکے شوہر نامدار تھے۔ میری انکھیں پتھرا سی گئی اور کانوں میں سیٹیاں بجنے لگیں تھیں۔ گویا کسی نے اسم اعظم پھونک کر پتھر کا بنا دیا تھا۔

حواس بحال ہوئے تو جو آواز کانوں کو پڑی وہ کچھ اسطرح تھی

” !!!بیٹا یہ انکل ہیں آپکے۔ یہ آپکو پڑھائینگے ___ چلو، شاباش، سلام کرو ‘ماموں‘ کو”


جاوید اختر ○

زیر جامہ

زیر جامہ ●


جیسا کہ صفت سے ظاہر ہے، زیر جامہ کا استعمال لباس کے نیچے ہوتا ہے۔ اسکا اوپری استعمال انسان کو مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ سوپرمین کا لباس۔ صرف تفریح کیلیئے۔ ہم عام ذندگی میں سوپرمین کیطرح زیر جامہ کو لباس کے اوپر کبھی استعمال نہیں کرتے۔ اگر ایسا کریں تو ہماری ذات دنیا کیلیئے تماشہ اور مضحکہ خیزی کا باعث ہوگا۔

زیر جامہ کا انتخاب ہمارا خالص ذاتی فعل ہوتا ہے۔ اسکا رنگ، معیار، بناوٹ، پیمائش اور تراش خراش ہمارے جسم کی ساخت اور ہماری پسند کا ہوتا ہے۔ ہر معنوں میں زیر جامہ لباس کا ایسا ایک حصہ ہے جسے پہن کر ہم خود کو مطمئین رکھ سکیں۔ اپنی آسانی کے مطابق استعمال کرسکیں۔ ذاتی اطمنان کے مطابق چاہیں پہنیں یا نا پہنیں، اپنی صوابدید پر ہوتا ہے۔ اسکو خریدتے اور استعمال کے وقت ہمیں دوسروں کی تائید اور نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

میری سوچ کے مطابق مذہب اور اس کے عقائد انڈر گامنٹس کی طرح ہوتے ہیں۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت کرنا اور عبادت کے طریقے اپنانا ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ویسے بھی مذہب ایک بہت ہی نجی اور جبلی معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں دکھاوے اور دوسروں پر اپنی پسند اور اعتقاد ٹھونسے میں ہمارا مزاج شاہانہ ہے۔ یعنی جس مذہبی معاملات کو ہم درست سمجھتے ہیں، بزور طاقت دوسروں پر تھوپنے میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔  ہر مسلک کی مذہبی رسومات (rituals) نا صرف مختلف ہوسکتی ہیں بلکہ ہوتی ہیں۔ ان رسومات اور ان سے جڑے عقائد کی وجہ سے مسلکیں وجود میں آئیں ہیں۔ مسلکی رسومات، غلط یا درست، اس سے بحث نہیں، مگر خود سے ذیادہ دوسروں کو ان رسومات کی تبلیغ والی سوچ اور عمل معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتی ہے۔

گئے وقتوں سے ادھار لیکر زمانہ جدید کے سماج اور معاشرے میں یہ قبیح فعل اس حد تک رچ بس گیا ہے کہ اگر کوئی ہمارے طریقہ عبادت پر عمل نا کرے تو اسے اپنے مذہب، دین اور مسلک سے خارج سمجھتے ہیں۔ حتی کہ اس پر معاشرتی پابندیاں تک عائد کرنے سے نہیں چوکتے۔ بات یہیں تک نہیں، ایسے لوگوں سے ہم جینے کا حق تک چھین لیتے ہیں۔ وہی حق جو ہر مذہب ہر انسان کو برابر کا دیتا ہے۔ برابری کے اس ناپ تول میں ہم اپنے مسلک اور سوچ کا باٹ استعمال کرنے کو اپنا حق جانتے ہیں۔ چاہے وہ کھوٹا ہی کیوں نا ہو۔

یہ تو رہی مذہب کو اپنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا ذاتی، افرادی اور احسن طریقہ، جس سے کسی دوسرے کو نا تو تکلیف ہوگی اور نا ہی نفرت و عداوت کی پرورش۔ اپنا عقیدہ نہ چھوڑتے ہوئے دوسروں کے عقیدہ اور فلسفہ اعتقاد کو نہ چھیڑنا ہی امن، محبت، پیار اور بھائی چارگی کا ضامن ہے۔

انفرادی اعمال مل کر ہی قومی اور ملی دستور میں ڈھلتے ہیں۔ یہی کچھ معاشرہ کے زعماء اور سرکردہ رہنماوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ باوجود اسکے کہ یہ رہمنا کسی نا کسی مسلک اور مذہب کے پیروکار ہونگے، لیکن اپنی ذات کی حد تک۔ جب انکی ذات گھر سے باہر نظر ائے تو اسطرح کے انکا زیر جامہ دکھائی نہ دے۔ اپنے اعتقاد کو اگر یہ رہنماء اپنی ذات کے حدود میں قید رکھیں تو معاشرے میں انکا اعتقاد اور طرز عبادت ظاہر نہیں ہوگا۔ ہاں اگر کچھ ظاہر کرنا بھی پڑے تو صرف وہ اعمال جو دوسروں کیلیئے باعث تقلید ہوں۔ جیسے انسانیت کے اعلی اصولوں پر چلنا، دامن اخلاق و تہذیب کو چہار سو پھیلانا، حق کی طرفداری کرنا، حق داروں کا حق ادا کرنا، محبت اور یگانگت فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا، بھلائی کے پیمانوں پر پورا اترنا، برائی اور جہالت کیخلاف اجتہاد کرنا، یتیموں اور مساکین کی خبر گیری کرنا وغیرہ۔ کرنے کے اچھے کام تو بیشمار ہیں پھر بھلا ان کاموں میں کیوں خود کو دھکیلیں جن سے دوسروں کو تکلیف اور اندیشہ سر پھٹول ہو۔

اچھائی کے کام انسانیت سے وابسطہ ہوتے ہیں نا کہ صرف مذہبی عقائد اور اسکے اعلانیہ تشریحات سے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مذہبی رسومات کا علی العلان اظہار کئی غلط فہمیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ جبکہ اسکی پوشیدگی سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سر فہرست معاشرتی سدھار سے حاصل ہونے والی افادیت ہے۔ اگر ہمارے سرکردہ رہنماء اسکو سمجھ لیں تو بیشمار غیر ضروری غرض و غایت سے نجات مل سکتی ہے۔

میں نے عرض کیا کہ مذہب اور اسکی پیروکاری انتہائی ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے۔ یہی اصول حاکم وقت، ایوان حکومت، سیاسی رہنماوں اور ان سے جڑے وہ تمام خانوادے جن کی عوام تقلید کرتے ہیں، پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بلکہ ان مقدم لوگوں پر اسکا اطلاق اور ذمہ داری ذیادہ ہی ہوتی ہے کہ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد انکی تقلید کرتی ہے۔ رہنماوں کی ہر حرکت ایک پیروکاری کی ایک نئی لہر کو جنم دیتی ہے۔ مثلا اگر انکی گفتگو مین عامیانہ پن ہوگا تو عوام ان سے براہ راست متاثر ہوگی۔ اگر انکے اقدامات سے ملکی خزانہ کو نقصان ہوگا تو عوام بھی انکی تقلید کرتے ہئے اپنی بساط کے مطابق چوری کیطرف راغب ہوگی۔ جس کا جتنا بس چلیگا، وہ اپنا حصہ “کار خیر” میں ڈالے گا۔

آج کا معاشرہ اچھائیوں اور برائیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مزاج ہر معاشرہ کا حصہ ہوتا ہے مگر اسکے مزاج کو سنوانے اور بگاڑنے میں حاکم وقت اور ملکی رہنماوں کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ ارد گرد کے معاشرے پر نظر دوڑائیے، ماسوائے برصغیر، وہ تمام معاشرے جہاں خوبیاں اور اچھائیں نظر اتی ییں، وہ وہاں کے حکمرانوں، انکے اداروں، اداروں کے فیصلے، اشرافیہ کیطرف سے قوانین کا احترام اور بلا تخصیص گوشمالی نے ان معاشروں کو وہ فضیلت عطا کی یے جس کی وجہ سے انکو مثالی معاشرہ کا لقب دیا گیا ہے۔ ایسے معاشرے فلاحی ریاست (welfare state) کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان معاشروں میں عوام کی جان و مال کی حفاظت اور عزت نفس کا نہ صرف خاص خیال رکھا جاتا ہے بلکہ اسے اولیت دی جاتی ہے۔ ایسے اقدامات کیئے جاتے ہیں جو معاسرتی برائیوں کی روک تھام میں ممد و معاون ہوں۔ اور اچھائیوں کی نشر و اشاعت کا بھرپور انصرام بھی ہوتا ہے۔

:ایک صدی پہلے جارج برنارڈ شا نے کہا تھا
Democracy is a device that insures we shall be governed no better than we deserve. (George Bernard Shaw)
جمہوریت وہ طریقہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہمارے حکمران، ہماری اپنے استحقاق سے بہتر نا ہوں۔

مغربی اور مشرقی دنیا کیلیئے یہ قول آج بھی تروتازہ ہے بلکہ عین منطبق ہوتا ہے۔ مغربی معاشرہ کا اخلاقی طور طریقہ عمومی طور پر بہتر ہے۔ اور ہمارا معاشرہ اس کا الٹ ہے۔ جارج برنارڈ شا کے قول کو اگر معاشرتی اشاریئے اور اس کے ارفع پیمانوں پر تولیں تو ہمارا معاشرہ آج بھی زیر تعمیر ہے۔ ایسے معاشرے کے حکمراں معاشرتی اکائیوں کا عکس ہیں۔ دونوں معاشروں کا تقابلی جائزہ فرق کو واضح کرتا ہے۔

پانی ہمیشہ اوپر سے نیچے کی سمت بہتا یے۔ صاف اور میٹھے پانی سے سیراب ہونیوالی زمین سے اناج، پھل، پھول اور شگوفے پھوٹتے ہیں۔ اگر پانی کھارا اور شور ذدہ ہو تو نا صرف فصل برباد کرتا ہے بلکہ گھاس پونس تک کو جلا دیتا ہے۔ ایسے پانی کی سیرابی سے کیکر کے کانٹے تو پیدا ہوتے ہیں، رسیلے پھل نہیں۔
:بقول اکبر الہ آبادی
“استاد ٹھیک ہوں، کہیں ‘استاد جی’ نہ ہوں”

ان تمام باتوں کو گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکمران اور رہنما اپنے چلن درست رکھیں تو امید قوی ہے کہ عوام الناس بھی ایک وقت ائیگا کہ راہ راست اختیار کرینگے۔ معاشرہ کیلیئے کارآمد شہری بنینگے۔ حکمران ٹیکس دینگے تو عوام کو بھی راغب کیا جا سکے گا۔ چوروں، ڈاکوؤں کو کماحقہ سزا، اور انصاف کی دیوی کے آنکھوں کی پٹی برقرار رہے تو معاشرتی برائیوں کا سر کچلا جا سکے گا۔ خطاوار چاہے کتنا ہی قریبی عزیز یا اثر و رسوخ والا کیوں نا ہو، سزا کا مستحق ہونا ضروری بنا دیا جائے۔ ناداروں اور حقداروں کو بلا تخصیص دہلیز پر انکا حق دیا جائے، انصاف کا حصول سستا اور جلد بنادیا جئے، تمام طبقات کیلیئے ملکی دولت اور فوائد کی تقسیم میں ڈندی نا ماری جائے۔ معاشرے کی ہر اکائی کیلیئے ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیئے جائیں۔ جنس، نسل، زبان، علاقہ، مذہب اور طبقاتی فرق کو خاطر میں لائے بغیر صرف اور صرف میرٹ کو واحد طریقہ رائج کیا جائے تو وجہ نہیں کہ معاشرے سے نفرت، کدورت اور ذیادتی میں کمی واقع نا ہو۔

اچھی فصل کیلیئے نلائی گوڈی اور بہتر کھاد کا استعمال اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ فصل بھی اچھی ہوگی۔ بہتر معاشرے کی ترتیب میں بھی یہی عنصر کارفرما ہوتا ہے۔ معاشرہ کی مثبت نشو نما کیلیئے تربیت و ذہنی بالیدگی میں زعما اور رہنماوں کی باعمل شرکت حرف اخر ہے۔


جاوید اختر ○

معاف کرو بابا ● 

معاف کرو بابا ● 


چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میں سبحان اللہ کے مصداق سوشل میڈیا پر 60 سے 70 فیصد کی جانے والی بے سروپا باتیں اپنی جگہ مگر جب بڑے میاں، یعنی مین اسٹریم میڈیا پر ایسی گفتگو سننے اور پڑھنے کو ملے تو صاحبان عقل و خرد پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مثلا
¤ کیا عمران خان کو موقع ملنا چاہیئے!
¤ دوسری پارٹیوں کو کئی مواقع دیئے گئے، ایک موقع پی ٹی ائی کو دینے میں کیا ہرج ہے!
¤ دیگر پارٹیاں تو اسٹیس کو کا شکار ہیں، ایسے میں پی ٹی ائی ہی اسٹیس کو کو توڑ سکتی ہے۔ ایک موقع تو اسکا بنتا ہے!
اس طرح کے بھانت بھانت کے رنگ رنگیلے بیانات و اعلانات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ دماغ کا فیوز اڑ جاتا ہے۔ اگر بیانیہ دینے والوں کا شجرہ نسب کھنگالا جائے تو پیچھے سے یا تو کوکینی نسل کے ہونگے یا بوٹ پالش کے قبیلے سے، یا پھر سوشل میڈیا کے دودھ کے دانت والے نابالغ چغادری۔
جب کل تاویلات کا تمت بالخیر ہوجائے،
جب منطق کی میم قاف دھنیا پی کر پلنگ توڑنے چلی جائے،
جب ایک مخصوص رنگ والی شیشے کی عینک ہی شہر کے دکانوں میں بکتی ہو،
جب بولنے والے لب پر تالے لگے ہوں،
جب سوچنے والے دماغوں پر چیری بلاسم کی تہہ چڑھا دی جائے،
جب سوال کرنے والوں پر تہمت دھری جائے اور سامری جادوگر کے اشلوک کے زور سے غائب کردیا جائے،
جب دھرنا ناکام ہوجائے،
جب ایمپائر کی شہادت والی انگلی درمیانی انگشت میں بدل جائے،
جب بابا رحمتے کو بیک ڈور سے ہدایات کے نتیجے میں پانامہ پاجامہ میں تبدیل ہوجائے،
جب ایک منتخب عوامی نمائندہ کے اقامہ کی بتی بنادی جائے، اور پھر اسی بتی کو اگربتی بناکر کوکین بابے کو صادق و امین کی دھونی لگائی جائے،
جب اداروں پر تنقید کو خدا اور رسول پر تنقید کا جامہ پہنا کر حب الوطنی کے نام پر لام بندی کیجائے۔۔۔
تو پھر ان تمام “جب” کی ناکامی کے بعد بھیک کی مالا ہی جاپی جاتی ہے۔
گویا:
ملک کی باگ ڈور کوکین پینے والے،
شادیاں کرنے میں دلچسپی رکھنے، طلاقیں دینے،
اپنی والی باپردہ رکھنے جبکہ دوسروں کی ماں بیٹی کو سر عام نچوانے والے منافق،
غیر منطقی گفتگو اور پھر یو ٹرن لینے کے عاشق،
آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، گفتگو  میں ‘اوئے’ جیسے اخلاقیات سے مرصع، پھول جھڑتے الفاظ کا استعمال کرنے والے،
اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کے باوجود کروڑوں کا اعزازیہ اور لاکھوں کی مراعات کی دھر پکڑ کرنے والے لدھر،
اے ٹی ایم کے طفیل ہزاروں کا عمرہ کروڑوں میں کرنے والے،
پیرنی کی ہدایات پر فرمانبرداری دکھاتے ہوئے ننگے پیر عمرہ کا ڈھونگ رچانے والے،
خود 65 سالہ بابا، یوتھ کے نام پر سیاست کرنے کی آڑ میں الیکٹیبلز اور رسہ گیروں کی بنیاد پر وجیر اعجم بننے کے خواب دیکھنے والے،
بی بی سی کی زینب کے ہاتھوں منھ کی کھانے والے سیاست کی ابجد سے ناوافق بزعم خود عظیم سیاستدان
فقہ کوکینیات کے تمام یو ٹرن فیل ہوجانے کے بعد ایک باری کی بھیک مانگنے والے، حکومت تمہارے پیرنی کے سسرال سے آیا نیوتا نہیں جو تمہارے حوالے کردیا جائے۔ یہ کروڑوں ووٹرز کی امانت ہے جسے تمہارے ہم جنس پرستوں کی فرمائش پر تمہارے اوپر وارا نہیں جاسکتا۔ بورژوازی طبقہ کی بنیاد پر کروڑوں کا عمرہ دراصل پرولتاری سماج کے منھ پر زناٹے دار تمانچہ ہے۔ پھر کس منھ سے “ایک باری” کی امید ہے۔ یہ وہ فصل گل ہے جس سے تمہاری گود ہری نہیں ہوسکتی۔
بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور باری کی بھیک مانگنی ہے تو عوام سے رجوع کرو، سوشل اور مین سٹریم میڈیا کے چاکر اور بوٹ پالش بریگیڈ کے کہنے پر بھیک کا روپیہ تک نہیں دے سکتے چہ جائیکہ ووٹ کی بھیک!
اور۔۔۔
ویسے بھی 25 جولائی تو ہمارا بائیکاٹ ڈے ہے۔ اس دن تو بھیک دینا کار خراب ہے!
لہذا

!!!معاف کرو بابا، چھٹا نہیں ہے


جاوید اختر ○

شہباز شریف کے نام کھلا خط ●


پان کھانے والوں کے “کرانچی” کو لاہور بناونگا: شہباز شریف


تخت لاہور کے والی وارث، میاں خرد، محترم جناب شہباز شریف صاحب! دعا ہے کہ “معزولیت” کے بعد آپ دوبارہ تخت لاہور پر جلوہ افروز ہوں۔ آپکے برادر کلاں میاں صاحب کیلیئے ایک شعر عرض ہے:
تاعمر ڈھونڈتا رہا منزل میں عشق کی
انجام یہ کہ گرد سفر لیکے آگیا

تاعمر حکومت کی خواہش کے عوض میاں کلاں کی تاعمر معزولیت سے اٹی گرد سفر سے اپکی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ امید پیہم ہے اگر خلائی مخلوق نے اپنے ابابیلوں کو پنجروں میں بند رکھا اور پھٹوہاری کھسروں کی دم میں پٹاخے نا باندھے تو اپ کو اس ملک پاک پیور کا بلا شرکت غیرے مالک بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ حالانکہ اس صورتحال کے ڈھلنے میں غیبی مدد بھی شامل رہی۔ مدد غیبی سے مراد وہ حالات ہیں جن سے گزر کر برادر کلاں کا پناما سے اقامہ کے پھیر میں آنا، اور پھر تاعمر نااہل کیا جانا شامل ہے۔ گویا بلی بھاگوں چھینکا ٹوٹ ہی گیا۔ ایک عالم پناہ کی معزولی سے دوسرے بھائی کی قسمت چمکنے کی مثال کتابوں میں پڑھی تھی، اب دیکھ بھی لی۔

گو کہ آپکی اپنی شخصیت برادر کلاں سے کم نہیں۔ خواتین کے معاملے میں تو اپکی شہرت دور دور تک ہے جس کی وجہ سے مرد حضرات اپنی بیویوں کو آپ سے چھپا کر رکھتے ہیں۔ وفاقی عنایات کی بناء پر “لہور یا لور” کو جدید لاہور بنانے میں آپ جناب کی محنت شاقہ رہی، تسلیم! میں نے بذات خود تو نہیں دیکھا لیکن میڈیا کے طفیل آپکی ہر حرکت کی خبر ملتی رہی۔ کبھی کسی ہسپتال میں نرسنگ اسٹاف کو ڈانٹتے تو کبھی لانگ بوٹ پہنے سیلابی پانی سے لڑتے ہوئے۔ کبھی جلسہ میں مائیک توڑتے تو کبھی اورنج ٹرین میں سوار اندیکھے لوگوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے جن کا منظر میں کہیں وجود نہ تھا۔ میں اپکی شبانہ روز کی جاں فشانی سے لہور سے لاہور کے سفر میں میڈیا کے ذریعے ہم سفر رہا۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ کسی بھی معاشرے کو جدید رخ دینے میں سڑکوں، پلوں اور بازاروں کی تعمیر و ترقی کا اپنا ایک حصہ ہوتا ہے۔ میں میاں کلاں کے اس وژن کا معترف رہا جب انہوں نے اپنے پہلے دور میں موٹروے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا۔ یہ بات کہنے کی نہیں مگر بر سبیل تذکرہ ہے کہ میں نے اپکے براد کلاں میاں صاحب کو خود موٹر گاڑی کی سیر کرائی تھی۔ کب، کہاں، کیسے! اسے کسی اور موقع کیلیئے اٹھا رکھتے ہیں۔

میرا ماننا تھا، اور ہے کہ ہمارے ملک کا صنعتکار سربراہ جاگیردار اور وڈیرے حاکم سے کم از کم ایک درجہ بہتر ہے۔ اسی وجہ سے میں ذاتی طور پر میاں کلاں کا معترف ہوں۔ لوگوں نے تو موٹروے پراجیکٹ کو خوب برا بھلا کہا تھا لیکن میں تب بھی اس قسم کے پراجیکٹ کو سراہتا تھا کہ ملک کی ترقی میں عمدہ شاہراہیں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں۔ بین القوامی معیار کا مواصلات کا انتظام ملکی ترقی کیلیئے بہت اہم ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا شدت سے انتظار تھا کہ میاں صاحب1997 میں مکمل ہونے والے M-2 کے بعد M-9 یعنی کراچی کو ملانے والی موٹروے کب شروع کرتے ہیں؟ اور آج 2018 میں بھی M-9 کا منصوبہ زیر تکمیل ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ملک کا معاشرہ ہمیشہ سے زیر تعمیر رہا ہے۔ گو کہ موٹروے جیسے منصوبے ملک کے ان شہروں سے شروع کیئے جانے چاہیئں جو مالیاتی وسائل کا منبع ہوتے ہیں۔ جہاں بندرگاہ موجود ہو اور جہاں سے دنیا بھر میں کاروبار ہورہا ہو یا کاروبار کے تکنیکی وسائل موجود ہوں۔ لیکن بوجہ اسے اسلام آبا اور لاہور سے شروع کیا گیا۔ خانوادہ میاں شریف کیلیئے اسکی وجہ جو بھی رہی ہو، عوام کیلیئے وجوہات سمجھنا مشکل نہیں۔

پھر آپ جناب نے تخت لاہور کی باگ ڈور سنبھالی اور پھر دنیا نے دیکھا اور اپ نے دکھادیا کہ اگر پیا من بھائے تو الہ دین کا چراغ بھی ہیچ ہے۔ وہ سرمایہ جو شہر کراچی سے اکٹھا ہوتا ہے، وہ دولت شہر کراچی سے زیادہ تخت لاہور کے زیر تسلط منصوبوں پر خرچ کی گئی۔ کرپشن کی بات میں نہیں کرتا۔ مجھے خوشی ہے کہ شہر لاہور کا نقشہ اپ نے بدلہ، بھلے کسی اور کی کمائی پر۔ گویا حلوائی کی دکان پر آپ نے دادا جان کی فاتحہ پڑھی۔ ہم انتظار ہی کرتے رہے کہ اس فاتحہ کی شیرنی سے کراچی والے بھی فیضیاب ہوں۔ مگر، اے بسا آرزو کہ خاک شد۔

رب جھوٹ نہ بلوائے، 2016 میں جہاں بڑے بھائیوں کو ترقیاتی منصوبوں کیلیئے کھربوں ملے، وہاں وفاقی اور صوبائی دریادل حکومتوں کی وجہ سے کراچی جیسے میگا سٹی کو صرف 16 ارب مل سکے (دریادل کی جگہ پر تعصبی لکھنا چاہیئے تھا)۔ اسے کہتے ہیں آنکھ میں شہتیر گاڑنا۔ اور قابل تعریف وہ لوگ، ادارے، اور حکام ہیں جنہیں دن کے اجالے میں بھی یہ سب کچھ نہ دکھا۔ “حب کراچی” میں آپ، اپ کے برادر کلاں میاں، اپ کی اشرافیہ اور اسمیں شامل تمام فرزندان زمین شامل رہے۔ اور آج یہ حال ہے کہ کراچی کی کس کس بات کو روئیے۔ اس کے ایک ایک ذرے سے پسماندگی جھلکتی ہے، آنسو ٹپکتے ہیں۔

سیاسی احترام کی پامالی، لاء اینڈ آرڈر کے نام پر لاٹھی گولی اور سر بریدہ لاشیں، مردم و خانہ شماری میں بے ایمانی، انتخابی حدبندیوں اور ایوان کی نشستوں میں خیانت کی حد تک بندر بانٹ، سڑتے ناسور جیسے سڑکوں کی حالت، پانی کے نام پر مافیا گردی وہ بھی وردی میں۔ نہ روزی نہ روٹی، نہ بجلی نہ سکون۔ ایک ایسا شہر جو دنیا کے کئی ملکوں سے بھی بڑا ہو، اسکو سنبھالنے اور چلانے کیلیئے جو بجٹ یے وہ اونٹ کے منھ میں زیرہ۔ اور اس زیرہ پر بھی ایک تعصبی حکومت کا پہرہ! خزانہ کا سانپ بھی کیا زہریلا ہوگا انکی عصبیت کے سامنے

دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ سب اس وفاقی حکومت کی عین ناک کے نیچے ہوتا رہا جس نے تخت لاہور کے نام پر جھنڈے گاڑے۔ کراچی کو تو چھوڑیں جناب، اسی پنجاب کے دیگر اضلاع کی صورت حال دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب صرف لاہور تک محدود ہے۔ یہ کوئی تاثر نہیں، حقیقت ہے۔ دو مقتدر اداروں کی ارادی یا غیر ارادی “مہربانی” سے اگر آپ کی سیاسی پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا مل ہی گیا ہے تو اس پر اکڑنے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے عقل کے ناخن لیجیئے۔

کیا فدوی پوچھ سکتا ہے کہ آج سے پہلے آپ جناب نے کراچی کو لاہور بنانے کا خواب کیوں نہ دیکھا؟ آخر 2018 کے الیکشن میں ہی آپ سمیت بے شمار چونٹیوں کے ہی پر کیوں نکل آئے؟ آئیے اپ کو ایک سائنسی مثال سے سمجھاتا ہوں کہ آپ سمیت دیگر سیاسی بازیگر کیوں اپنی بازیگری دکھا رہے ہیں۔

کراچی سمندر کے ساحل پر واقع ہے۔ دن میں گرمی کی وجہ سے زمین دیر سے اور سمندری پانی جلدی گرم ہوتا ہے۔ سمندری پانی جلدی گرم ہونے کی وجہ سے سمندر کی سطح کے اوپر کی ہوا ہلکی ہوجاتی ہے اور اور سطح سمندر سے اوپر کو اٹھتی ہے۔ اس جگہ کو پر کرنے کیلیئے زمین کے اوپر کی ہوا جو ابھی سمندری ہوا کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے، سمندر کی جانب چلتی ہے۔ اسے باد بری کہتے ہیں۔

جب سورج کے ڈھلنے کا وقت ہوتا ہے تو زمین گرم ہوچکی ہوتی ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے اوپر کی ہوا ہلکی ہوتی ہے۔ جبکہ اسوقت سمندر کا پانی ٹھنڈا ہورہا ہوتا ہے۔ جسکی وجہ سے سمندر کے اوپر کی ہوا بھاری ہونے لگتی ہے۔ یوں سمندر کی بھاری ہوا زمین کی طرف اس خلا کو پر کرنے کیلیئے جو ہوا کے ہلکی ہونے کی وجہ سے پیدا پوتی ہے، چلتی ہے۔ جسے باد بحری کہتے ہیں۔

کراچی شہر کی اس سیاسی گہما گہمی کو اس سے بہتر مثال کے ذریعے نہیں سمجھایا جاسکتا ہے۔ کراچی کی سیاسی ہوا کئی وجوہات کی وجہ سے گرم ہے اور یوں ایک سیاسی خلا پیدا ہوگیا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کیلیئے اپ جیسے شعبدہ باز سیاسی رہنما باد بحری کی مانند کراچی کا رخ کر رہے ہیں۔ آپ چھوٹے میاں سمیت، ہر کوئی اپنے ساتھ بھانت بھانت کے منجن لیکر آیا ہے۔ کوئی امن قائم کرنا چاہتا ہے، کوئی کچرا صاف کرنے کو درپے ہے، کوئی اسے لاہور بنانے کو بیتاب ہے تو دیگر اسے ہڑپنے کر بے قرار۔ پینترے مختلف لیکن مقصد ایک۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی اپنی ایک ہوا ہے۔ باد نسیم، باد بحری۔ کراچی والے کسی پھٹوہاری، کسی لاہوری، کسی پشاوری “ہوا” کی مرہون منت نہیں۔ اور یہ وقت بتائیگا۔ وقت سے بڑا کوئی کھلاڑی نہیں۔

اخری بات جناب چھوٹے میاں صاحب، لاہور کی ایک ثقافت ہوتی تھی، بسنت۔ وہی بسنت جو رنگوں اور پتنگوں کا تہوار تھا۔ ہزاروں نہیں لاکھوں گھروں کا کفیل ہوتا تھا۔ صرف لاہور ہی نہیں ملک کی مثبت معاشی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈالتا تھا۔ دنیا بھر سے لوگ اسے منانے ملک میں اتے تھے۔ اسے تو آپ نے کسی عظمی عالیہ کے کہنے پر کھڈے لائن لگا دیا، لیکن کراچی کی ثقافت ایک ہمہ گیر ثقافت ہے اور صدیوں سے رائج ہے۔ منھ میں گھلنے والا ذائقہ ہے، اردو کی لاج ہے۔ خواص اور عام کے دہن کا تاج ہے۔ ایسے میں اتنی نفرت سے “کرانچی” کو لاہور بنانے کا دعوی، اے صاحب مناسب بات نہیں۔ اتنی نخوت اور کروفر تو کراچی والوں کی شان نہیں اور نا ہی برداشت کرتے ہیں۔

اگر، بقول اپکے، کرانچی کو کچھ دینا ہے تو اسکا حق دلوائیں۔ اسکو وفاق میں سے جائز حصہ دلوائیں، سیاسی مخاصمت سے پرہیز اور یہاں کے باسیوں کو سیاست کرنے کی آزادی دلوائیں۔ یہاں کے جوان لاشوں کو انصاف دلوائیں۔ بیواؤں کی اجڑی مانگ کا دلاسہ بنیں۔ یوم شہدا منانے کی آزادی دلوائیں، رہبر قوم الطاف حسین کی تحریر، تقریر اور آواز سے غیر آئینی پابندی ہٹوائیں۔

بھیک نہیں مانگتے، حق مانگتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ کراچی والے آپ کو کس طرح دیدہ و دل فرش راہ ملینگے۔

چھوٹے میاں صاحب، آپ کی اطلاع کیلیئے، یہی پان کھانے والوں نے مچھیروں کی بستی کو کراچی بنایا ہے جسے آپ خواہ مخواہ چچا چھکن کیطرح لاہور بنانا چاہتے ہیں۔ اپنا بھاشن سنبھالیئے جناب! جنوبی پنجاب والوں کو اپکے بڑھکوں کی ذیادہ ضرورت ہے۔

!حضور، ہم کراچی والے پان کھاتے ہیں، کھوتا نہیں


جاوید اختر ○