● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● آئیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔

 


 

○ جاوید اختر

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!

● ائیے، تھوک میں پکوڑے تلیں!


اسٹار پلس ڈراموں کے کئی “معرکتہ الآرا” زاویے ہیں جن سے ہماری قوم حد درجہ متاثر ہے، مثلا:

۔ لاووڈ میوزک __
ہر منظر ایک ہی طرح کی شور و غل کرتی میوزک سے بھرپور۔

۔ خواہ مخواہ کا سسپنس __
ہر دوسرا منظر سسپنس سے مزین اور وہ بھی خواہ مخواہ کا سسپنس۔ کھودو پہاڑ، نکلے چوہا۔

۔ خواتین __
ہر episode کم از درجن دو درجن خواتین سے بھرپور۔ ہر عمر، رنگ و نسل اور قد کاٹھ والی خواتین، جنکے صرف دو کام:
ایک – رات کو میک اپ کرکے سونا اور جاگنے پر بھی میک اپ کرنا۔
دوسرا ۔ پڑھائی، نوکری، پکانا، کھانا اور گھر کے روزمرہ کے کام سے ذیادہ وقت میک اپ کیساتھ #سازش میں مصروف رہنا۔

۔ باتیں_کروڑوں کی __
ڈرامہ میں 5 ہزار کروڑ یا 10 ہزار کروڑ سے کم کی باتیں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اربوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لگتا ہے ایسے ڈرامے دیکھ کر “تھوک میں پکوڑے تلنے” والی کہاوت ایجاد ہوئی۔

۔ مزارات_مندروں میں خواتین کا سر پر ٹوکرے اٹھائے حاضری اور داخلے سے پہلے دہلیز کو چومتے اور ماتھا ٹیکتے ہوئے دکھانا۔

۔ حشیش اور دیگر ڈرگز کا صحت بخش استعمال۔

۔ انسانوں سے ذیادہ جانوروں سے محبت۔

۔ بڑھکوں سے بھرپور ڈائیلاگ والے کردار۔

جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر اسٹار پلس کے ڈراموں کے چنیدہ مناظر کا عکس پاکستانی معاشرہ کی موجودہ حکومتی اشرافیہ کی سیاسی دکانداری میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

۔ پھرپور میوزک۔ ڈی جے بابو کے بغیر انکی کوئی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔

۔ ڈراموں میں اداکاروں کی کردار نگاری اور حکومتی وزراء کی روزانہ کی بنیاد پر کردار سازی۔ جہاز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ہر دو جگہ پر۔

۔ کروڑوں اور اربوں کی باتیں سن سن کر محسوس ہونے لگا کہ ہماری موجودہ سیاست بھی اسٹار پلس کے کسی ڈرامہ کا تسلسل ہے۔ کبھی جہانگیر ترین اپنے ذاتی جہاز میں سیر کراتا تھا اب فواد “چے” 55 روپے میں ہیلی کاپٹر کی سیر کراتا ہے۔

۔ حکومتی سطح پر 51 ارب روپے روزانہ ایسے بچائے جاتے ہیں جیسے اسٹار پلس کے ڈراموں میں خاتون کے پرس سے 10 ہزار کروڑ گم یوجاتے ہیں۔

۔ نئے نویلے ممبر اسمبلی کا تھپڑ ایسے ہی جیسے اسٹار پلس کے ڈرامہ میں ولن ہیرو کی گرل فرینڈ کو مارتا ہے۔

‏۔ شیدا ٹلی کی ناراضگی ایسے جیسے کسی ڈرامہ کے سین میں سیٹھ دیارام جھنجھن والا اپنے کسی ذاتی ملازم پر بھڑکتا ہو۔

‏۔ بہو وزیر اعظم امریکی ساس کو جھوٹا کہتی ہے تو امریکی ساس بہو وزیراعظم کو پلٹ کر وار کرتی ہے، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔

‏۔ ہیلی کاپٹر میں پروٹوکول کیساتھ سفر ایسے جیسے ڈرامہ کا سیٹھ دیا رام جھنجھن والا اپنے ڈرائنگ روم سے بیڈ روم کا سفر کرتا ہو۔

۔ سیاسی زندگی میں، بینک کرپسی سے بچنے کیلیئے سیٹھ جھنجھن والا اپنے گورنر ہاوس جیسی کوٹھی کو بلڈوز کرنے کی سازش کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

‏۔ ڈرامہ کے کسی سین میں ایک انٹر پاس اپنی گرو کی آشیرواد سے بطور اسٹیٹ گورنر تعینات ہوجاتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ آم کھلانے والے اینٹر ٹینر کو بلاتا بھی نہیں۔

۔ اسی قسم کے ڈرامہ میں ایک صوبے کی وزارت اعلی پر فائض ہونے والا ایک کردار حکومتی خرچ پر اپنے اہل و عیال کی ہیلی کاپٹر میں چڈی کرواتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

۔ ڈرامہ کے ایک سین سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی جب ایک با اصول پولیس افسر کو قانون توڑنے سے روکے جانے پر او ایس ڈی بنادیا جاتا ہے۔

مختصرا یہ کہ اسٹار پلس ڈرامہ کے ہر سین کو ہماری سیاسی زندگی میں امر کردیا گیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ حقیقی زندگی کے اس ڈرامہ بازی کی وجہ سے اسٹار پلس ڈرامہ کو گرہن لگ نہ جائے۔


○ جاوید اختر

معاف کرو بابا ● 

معاف کرو بابا ● 


چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میں سبحان اللہ کے مصداق سوشل میڈیا پر 60 سے 70 فیصد کی جانے والی بے سروپا باتیں اپنی جگہ مگر جب بڑے میاں، یعنی مین اسٹریم میڈیا پر ایسی گفتگو سننے اور پڑھنے کو ملے تو صاحبان عقل و خرد پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مثلا
¤ کیا عمران خان کو موقع ملنا چاہیئے!
¤ دوسری پارٹیوں کو کئی مواقع دیئے گئے، ایک موقع پی ٹی ائی کو دینے میں کیا ہرج ہے!
¤ دیگر پارٹیاں تو اسٹیس کو کا شکار ہیں، ایسے میں پی ٹی ائی ہی اسٹیس کو کو توڑ سکتی ہے۔ ایک موقع تو اسکا بنتا ہے!
اس طرح کے بھانت بھانت کے رنگ رنگیلے بیانات و اعلانات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ دماغ کا فیوز اڑ جاتا ہے۔ اگر بیانیہ دینے والوں کا شجرہ نسب کھنگالا جائے تو پیچھے سے یا تو کوکینی نسل کے ہونگے یا بوٹ پالش کے قبیلے سے، یا پھر سوشل میڈیا کے دودھ کے دانت والے نابالغ چغادری۔
جب کل تاویلات کا تمت بالخیر ہوجائے،
جب منطق کی میم قاف دھنیا پی کر پلنگ توڑنے چلی جائے،
جب ایک مخصوص رنگ والی شیشے کی عینک ہی شہر کے دکانوں میں بکتی ہو،
جب بولنے والے لب پر تالے لگے ہوں،
جب سوچنے والے دماغوں پر چیری بلاسم کی تہہ چڑھا دی جائے،
جب سوال کرنے والوں پر تہمت دھری جائے اور سامری جادوگر کے اشلوک کے زور سے غائب کردیا جائے،
جب دھرنا ناکام ہوجائے،
جب ایمپائر کی شہادت والی انگلی درمیانی انگشت میں بدل جائے،
جب بابا رحمتے کو بیک ڈور سے ہدایات کے نتیجے میں پانامہ پاجامہ میں تبدیل ہوجائے،
جب ایک منتخب عوامی نمائندہ کے اقامہ کی بتی بنادی جائے، اور پھر اسی بتی کو اگربتی بناکر کوکین بابے کو صادق و امین کی دھونی لگائی جائے،
جب اداروں پر تنقید کو خدا اور رسول پر تنقید کا جامہ پہنا کر حب الوطنی کے نام پر لام بندی کیجائے۔۔۔
تو پھر ان تمام “جب” کی ناکامی کے بعد بھیک کی مالا ہی جاپی جاتی ہے۔
گویا:
ملک کی باگ ڈور کوکین پینے والے،
شادیاں کرنے میں دلچسپی رکھنے، طلاقیں دینے،
اپنی والی باپردہ رکھنے جبکہ دوسروں کی ماں بیٹی کو سر عام نچوانے والے منافق،
غیر منطقی گفتگو اور پھر یو ٹرن لینے کے عاشق،
آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، گفتگو  میں ‘اوئے’ جیسے اخلاقیات سے مرصع، پھول جھڑتے الفاظ کا استعمال کرنے والے،
اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کے باوجود کروڑوں کا اعزازیہ اور لاکھوں کی مراعات کی دھر پکڑ کرنے والے لدھر،
اے ٹی ایم کے طفیل ہزاروں کا عمرہ کروڑوں میں کرنے والے،
پیرنی کی ہدایات پر فرمانبرداری دکھاتے ہوئے ننگے پیر عمرہ کا ڈھونگ رچانے والے،
خود 65 سالہ بابا، یوتھ کے نام پر سیاست کرنے کی آڑ میں الیکٹیبلز اور رسہ گیروں کی بنیاد پر وجیر اعجم بننے کے خواب دیکھنے والے،
بی بی سی کی زینب کے ہاتھوں منھ کی کھانے والے سیاست کی ابجد سے ناوافق بزعم خود عظیم سیاستدان
فقہ کوکینیات کے تمام یو ٹرن فیل ہوجانے کے بعد ایک باری کی بھیک مانگنے والے، حکومت تمہارے پیرنی کے سسرال سے آیا نیوتا نہیں جو تمہارے حوالے کردیا جائے۔ یہ کروڑوں ووٹرز کی امانت ہے جسے تمہارے ہم جنس پرستوں کی فرمائش پر تمہارے اوپر وارا نہیں جاسکتا۔ بورژوازی طبقہ کی بنیاد پر کروڑوں کا عمرہ دراصل پرولتاری سماج کے منھ پر زناٹے دار تمانچہ ہے۔ پھر کس منھ سے “ایک باری” کی امید ہے۔ یہ وہ فصل گل ہے جس سے تمہاری گود ہری نہیں ہوسکتی۔
بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور باری کی بھیک مانگنی ہے تو عوام سے رجوع کرو، سوشل اور مین سٹریم میڈیا کے چاکر اور بوٹ پالش بریگیڈ کے کہنے پر بھیک کا روپیہ تک نہیں دے سکتے چہ جائیکہ ووٹ کی بھیک!
اور۔۔۔
ویسے بھی 25 جولائی تو ہمارا بائیکاٹ ڈے ہے۔ اس دن تو بھیک دینا کار خراب ہے!
لہذا

!!!معاف کرو بابا، چھٹا نہیں ہے


جاوید اختر ○