معاف کرو بابا ● 

معاف کرو بابا ● 


چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں، بڑے میں سبحان اللہ کے مصداق سوشل میڈیا پر 60 سے 70 فیصد کی جانے والی بے سروپا باتیں اپنی جگہ مگر جب بڑے میاں، یعنی مین اسٹریم میڈیا پر ایسی گفتگو سننے اور پڑھنے کو ملے تو صاحبان عقل و خرد پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مثلا
¤ کیا عمران خان کو موقع ملنا چاہیئے!
¤ دوسری پارٹیوں کو کئی مواقع دیئے گئے، ایک موقع پی ٹی ائی کو دینے میں کیا ہرج ہے!
¤ دیگر پارٹیاں تو اسٹیس کو کا شکار ہیں، ایسے میں پی ٹی ائی ہی اسٹیس کو کو توڑ سکتی ہے۔ ایک موقع تو اسکا بنتا ہے!
اس طرح کے بھانت بھانت کے رنگ رنگیلے بیانات و اعلانات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ دماغ کا فیوز اڑ جاتا ہے۔ اگر بیانیہ دینے والوں کا شجرہ نسب کھنگالا جائے تو پیچھے سے یا تو کوکینی نسل کے ہونگے یا بوٹ پالش کے قبیلے سے، یا پھر سوشل میڈیا کے دودھ کے دانت والے نابالغ چغادری۔
جب کل تاویلات کا تمت بالخیر ہوجائے،
جب منطق کی میم قاف دھنیا پی کر پلنگ توڑنے چلی جائے،
جب ایک مخصوص رنگ والی شیشے کی عینک ہی شہر کے دکانوں میں بکتی ہو،
جب بولنے والے لب پر تالے لگے ہوں،
جب سوچنے والے دماغوں پر چیری بلاسم کی تہہ چڑھا دی جائے،
جب سوال کرنے والوں پر تہمت دھری جائے اور سامری جادوگر کے اشلوک کے زور سے غائب کردیا جائے،
جب دھرنا ناکام ہوجائے،
جب ایمپائر کی شہادت والی انگلی درمیانی انگشت میں بدل جائے،
جب بابا رحمتے کو بیک ڈور سے ہدایات کے نتیجے میں پانامہ پاجامہ میں تبدیل ہوجائے،
جب ایک منتخب عوامی نمائندہ کے اقامہ کی بتی بنادی جائے، اور پھر اسی بتی کو اگربتی بناکر کوکین بابے کو صادق و امین کی دھونی لگائی جائے،
جب اداروں پر تنقید کو خدا اور رسول پر تنقید کا جامہ پہنا کر حب الوطنی کے نام پر لام بندی کیجائے۔۔۔
تو پھر ان تمام “جب” کی ناکامی کے بعد بھیک کی مالا ہی جاپی جاتی ہے۔
گویا:
ملک کی باگ ڈور کوکین پینے والے،
شادیاں کرنے میں دلچسپی رکھنے، طلاقیں دینے،
اپنی والی باپردہ رکھنے جبکہ دوسروں کی ماں بیٹی کو سر عام نچوانے والے منافق،
غیر منطقی گفتگو اور پھر یو ٹرن لینے کے عاشق،
آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود، گفتگو  میں ‘اوئے’ جیسے اخلاقیات سے مرصع، پھول جھڑتے الفاظ کا استعمال کرنے والے،
اسمبلی میں شرکت نہ کرنے کے باوجود کروڑوں کا اعزازیہ اور لاکھوں کی مراعات کی دھر پکڑ کرنے والے لدھر،
اے ٹی ایم کے طفیل ہزاروں کا عمرہ کروڑوں میں کرنے والے،
پیرنی کی ہدایات پر فرمانبرداری دکھاتے ہوئے ننگے پیر عمرہ کا ڈھونگ رچانے والے،
خود 65 سالہ بابا، یوتھ کے نام پر سیاست کرنے کی آڑ میں الیکٹیبلز اور رسہ گیروں کی بنیاد پر وجیر اعجم بننے کے خواب دیکھنے والے،
بی بی سی کی زینب کے ہاتھوں منھ کی کھانے والے سیاست کی ابجد سے ناوافق بزعم خود عظیم سیاستدان
فقہ کوکینیات کے تمام یو ٹرن فیل ہوجانے کے بعد ایک باری کی بھیک مانگنے والے، حکومت تمہارے پیرنی کے سسرال سے آیا نیوتا نہیں جو تمہارے حوالے کردیا جائے۔ یہ کروڑوں ووٹرز کی امانت ہے جسے تمہارے ہم جنس پرستوں کی فرمائش پر تمہارے اوپر وارا نہیں جاسکتا۔ بورژوازی طبقہ کی بنیاد پر کروڑوں کا عمرہ دراصل پرولتاری سماج کے منھ پر زناٹے دار تمانچہ ہے۔ پھر کس منھ سے “ایک باری” کی امید ہے۔ یہ وہ فصل گل ہے جس سے تمہاری گود ہری نہیں ہوسکتی۔
بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور باری کی بھیک مانگنی ہے تو عوام سے رجوع کرو، سوشل اور مین سٹریم میڈیا کے چاکر اور بوٹ پالش بریگیڈ کے کہنے پر بھیک کا روپیہ تک نہیں دے سکتے چہ جائیکہ ووٹ کی بھیک!
اور۔۔۔
ویسے بھی 25 جولائی تو ہمارا بائیکاٹ ڈے ہے۔ اس دن تو بھیک دینا کار خراب ہے!
لہذا

!!!معاف کرو بابا، چھٹا نہیں ہے


جاوید اختر ○

شہباز شریف کے نام کھلا خط ●


پان کھانے والوں کے “کرانچی” کو لاہور بناونگا: شہباز شریف


تخت لاہور کے والی وارث، میاں خرد، محترم جناب شہباز شریف صاحب! دعا ہے کہ “معزولیت” کے بعد آپ دوبارہ تخت لاہور پر جلوہ افروز ہوں۔ آپکے برادر کلاں میاں صاحب کیلیئے ایک شعر عرض ہے:
تاعمر ڈھونڈتا رہا منزل میں عشق کی
انجام یہ کہ گرد سفر لیکے آگیا

تاعمر حکومت کی خواہش کے عوض میاں کلاں کی تاعمر معزولیت سے اٹی گرد سفر سے اپکی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ امید پیہم ہے اگر خلائی مخلوق نے اپنے ابابیلوں کو پنجروں میں بند رکھا اور پھٹوہاری کھسروں کی دم میں پٹاخے نا باندھے تو اپ کو اس ملک پاک پیور کا بلا شرکت غیرے مالک بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ حالانکہ اس صورتحال کے ڈھلنے میں غیبی مدد بھی شامل رہی۔ مدد غیبی سے مراد وہ حالات ہیں جن سے گزر کر برادر کلاں کا پناما سے اقامہ کے پھیر میں آنا، اور پھر تاعمر نااہل کیا جانا شامل ہے۔ گویا بلی بھاگوں چھینکا ٹوٹ ہی گیا۔ ایک عالم پناہ کی معزولی سے دوسرے بھائی کی قسمت چمکنے کی مثال کتابوں میں پڑھی تھی، اب دیکھ بھی لی۔

گو کہ آپکی اپنی شخصیت برادر کلاں سے کم نہیں۔ خواتین کے معاملے میں تو اپکی شہرت دور دور تک ہے جس کی وجہ سے مرد حضرات اپنی بیویوں کو آپ سے چھپا کر رکھتے ہیں۔ وفاقی عنایات کی بناء پر “لہور یا لور” کو جدید لاہور بنانے میں آپ جناب کی محنت شاقہ رہی، تسلیم! میں نے بذات خود تو نہیں دیکھا لیکن میڈیا کے طفیل آپکی ہر حرکت کی خبر ملتی رہی۔ کبھی کسی ہسپتال میں نرسنگ اسٹاف کو ڈانٹتے تو کبھی لانگ بوٹ پہنے سیلابی پانی سے لڑتے ہوئے۔ کبھی جلسہ میں مائیک توڑتے تو کبھی اورنج ٹرین میں سوار اندیکھے لوگوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے جن کا منظر میں کہیں وجود نہ تھا۔ میں اپکی شبانہ روز کی جاں فشانی سے لہور سے لاہور کے سفر میں میڈیا کے ذریعے ہم سفر رہا۔

میں اس بات سے متفق ہوں کہ کسی بھی معاشرے کو جدید رخ دینے میں سڑکوں، پلوں اور بازاروں کی تعمیر و ترقی کا اپنا ایک حصہ ہوتا ہے۔ میں میاں کلاں کے اس وژن کا معترف رہا جب انہوں نے اپنے پہلے دور میں موٹروے کا پراجیکٹ شروع کیا تھا۔ یہ بات کہنے کی نہیں مگر بر سبیل تذکرہ ہے کہ میں نے اپکے براد کلاں میاں صاحب کو خود موٹر گاڑی کی سیر کرائی تھی۔ کب، کہاں، کیسے! اسے کسی اور موقع کیلیئے اٹھا رکھتے ہیں۔

میرا ماننا تھا، اور ہے کہ ہمارے ملک کا صنعتکار سربراہ جاگیردار اور وڈیرے حاکم سے کم از کم ایک درجہ بہتر ہے۔ اسی وجہ سے میں ذاتی طور پر میاں کلاں کا معترف ہوں۔ لوگوں نے تو موٹروے پراجیکٹ کو خوب برا بھلا کہا تھا لیکن میں تب بھی اس قسم کے پراجیکٹ کو سراہتا تھا کہ ملک کی ترقی میں عمدہ شاہراہیں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں۔ بین القوامی معیار کا مواصلات کا انتظام ملکی ترقی کیلیئے بہت اہم ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا شدت سے انتظار تھا کہ میاں صاحب1997 میں مکمل ہونے والے M-2 کے بعد M-9 یعنی کراچی کو ملانے والی موٹروے کب شروع کرتے ہیں؟ اور آج 2018 میں بھی M-9 کا منصوبہ زیر تکمیل ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ملک کا معاشرہ ہمیشہ سے زیر تعمیر رہا ہے۔ گو کہ موٹروے جیسے منصوبے ملک کے ان شہروں سے شروع کیئے جانے چاہیئں جو مالیاتی وسائل کا منبع ہوتے ہیں۔ جہاں بندرگاہ موجود ہو اور جہاں سے دنیا بھر میں کاروبار ہورہا ہو یا کاروبار کے تکنیکی وسائل موجود ہوں۔ لیکن بوجہ اسے اسلام آبا اور لاہور سے شروع کیا گیا۔ خانوادہ میاں شریف کیلیئے اسکی وجہ جو بھی رہی ہو، عوام کیلیئے وجوہات سمجھنا مشکل نہیں۔

پھر آپ جناب نے تخت لاہور کی باگ ڈور سنبھالی اور پھر دنیا نے دیکھا اور اپ نے دکھادیا کہ اگر پیا من بھائے تو الہ دین کا چراغ بھی ہیچ ہے۔ وہ سرمایہ جو شہر کراچی سے اکٹھا ہوتا ہے، وہ دولت شہر کراچی سے زیادہ تخت لاہور کے زیر تسلط منصوبوں پر خرچ کی گئی۔ کرپشن کی بات میں نہیں کرتا۔ مجھے خوشی ہے کہ شہر لاہور کا نقشہ اپ نے بدلہ، بھلے کسی اور کی کمائی پر۔ گویا حلوائی کی دکان پر آپ نے دادا جان کی فاتحہ پڑھی۔ ہم انتظار ہی کرتے رہے کہ اس فاتحہ کی شیرنی سے کراچی والے بھی فیضیاب ہوں۔ مگر، اے بسا آرزو کہ خاک شد۔

رب جھوٹ نہ بلوائے، 2016 میں جہاں بڑے بھائیوں کو ترقیاتی منصوبوں کیلیئے کھربوں ملے، وہاں وفاقی اور صوبائی دریادل حکومتوں کی وجہ سے کراچی جیسے میگا سٹی کو صرف 16 ارب مل سکے (دریادل کی جگہ پر تعصبی لکھنا چاہیئے تھا)۔ اسے کہتے ہیں آنکھ میں شہتیر گاڑنا۔ اور قابل تعریف وہ لوگ، ادارے، اور حکام ہیں جنہیں دن کے اجالے میں بھی یہ سب کچھ نہ دکھا۔ “حب کراچی” میں آپ، اپ کے برادر کلاں میاں، اپ کی اشرافیہ اور اسمیں شامل تمام فرزندان زمین شامل رہے۔ اور آج یہ حال ہے کہ کراچی کی کس کس بات کو روئیے۔ اس کے ایک ایک ذرے سے پسماندگی جھلکتی ہے، آنسو ٹپکتے ہیں۔

سیاسی احترام کی پامالی، لاء اینڈ آرڈر کے نام پر لاٹھی گولی اور سر بریدہ لاشیں، مردم و خانہ شماری میں بے ایمانی، انتخابی حدبندیوں اور ایوان کی نشستوں میں خیانت کی حد تک بندر بانٹ، سڑتے ناسور جیسے سڑکوں کی حالت، پانی کے نام پر مافیا گردی وہ بھی وردی میں۔ نہ روزی نہ روٹی، نہ بجلی نہ سکون۔ ایک ایسا شہر جو دنیا کے کئی ملکوں سے بھی بڑا ہو، اسکو سنبھالنے اور چلانے کیلیئے جو بجٹ یے وہ اونٹ کے منھ میں زیرہ۔ اور اس زیرہ پر بھی ایک تعصبی حکومت کا پہرہ! خزانہ کا سانپ بھی کیا زہریلا ہوگا انکی عصبیت کے سامنے

دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ سب اس وفاقی حکومت کی عین ناک کے نیچے ہوتا رہا جس نے تخت لاہور کے نام پر جھنڈے گاڑے۔ کراچی کو تو چھوڑیں جناب، اسی پنجاب کے دیگر اضلاع کی صورت حال دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب صرف لاہور تک محدود ہے۔ یہ کوئی تاثر نہیں، حقیقت ہے۔ دو مقتدر اداروں کی ارادی یا غیر ارادی “مہربانی” سے اگر آپ کی سیاسی پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا مل ہی گیا ہے تو اس پر اکڑنے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے عقل کے ناخن لیجیئے۔

کیا فدوی پوچھ سکتا ہے کہ آج سے پہلے آپ جناب نے کراچی کو لاہور بنانے کا خواب کیوں نہ دیکھا؟ آخر 2018 کے الیکشن میں ہی آپ سمیت بے شمار چونٹیوں کے ہی پر کیوں نکل آئے؟ آئیے اپ کو ایک سائنسی مثال سے سمجھاتا ہوں کہ آپ سمیت دیگر سیاسی بازیگر کیوں اپنی بازیگری دکھا رہے ہیں۔

کراچی سمندر کے ساحل پر واقع ہے۔ دن میں گرمی کی وجہ سے زمین دیر سے اور سمندری پانی جلدی گرم ہوتا ہے۔ سمندری پانی جلدی گرم ہونے کی وجہ سے سمندر کی سطح کے اوپر کی ہوا ہلکی ہوجاتی ہے اور اور سطح سمندر سے اوپر کو اٹھتی ہے۔ اس جگہ کو پر کرنے کیلیئے زمین کے اوپر کی ہوا جو ابھی سمندری ہوا کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے، سمندر کی جانب چلتی ہے۔ اسے باد بری کہتے ہیں۔

جب سورج کے ڈھلنے کا وقت ہوتا ہے تو زمین گرم ہوچکی ہوتی ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے اوپر کی ہوا ہلکی ہوتی ہے۔ جبکہ اسوقت سمندر کا پانی ٹھنڈا ہورہا ہوتا ہے۔ جسکی وجہ سے سمندر کے اوپر کی ہوا بھاری ہونے لگتی ہے۔ یوں سمندر کی بھاری ہوا زمین کی طرف اس خلا کو پر کرنے کیلیئے جو ہوا کے ہلکی ہونے کی وجہ سے پیدا پوتی ہے، چلتی ہے۔ جسے باد بحری کہتے ہیں۔

کراچی شہر کی اس سیاسی گہما گہمی کو اس سے بہتر مثال کے ذریعے نہیں سمجھایا جاسکتا ہے۔ کراچی کی سیاسی ہوا کئی وجوہات کی وجہ سے گرم ہے اور یوں ایک سیاسی خلا پیدا ہوگیا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کیلیئے اپ جیسے شعبدہ باز سیاسی رہنما باد بحری کی مانند کراچی کا رخ کر رہے ہیں۔ آپ چھوٹے میاں سمیت، ہر کوئی اپنے ساتھ بھانت بھانت کے منجن لیکر آیا ہے۔ کوئی امن قائم کرنا چاہتا ہے، کوئی کچرا صاف کرنے کو درپے ہے، کوئی اسے لاہور بنانے کو بیتاب ہے تو دیگر اسے ہڑپنے کر بے قرار۔ پینترے مختلف لیکن مقصد ایک۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی اپنی ایک ہوا ہے۔ باد نسیم، باد بحری۔ کراچی والے کسی پھٹوہاری، کسی لاہوری، کسی پشاوری “ہوا” کی مرہون منت نہیں۔ اور یہ وقت بتائیگا۔ وقت سے بڑا کوئی کھلاڑی نہیں۔

اخری بات جناب چھوٹے میاں صاحب، لاہور کی ایک ثقافت ہوتی تھی، بسنت۔ وہی بسنت جو رنگوں اور پتنگوں کا تہوار تھا۔ ہزاروں نہیں لاکھوں گھروں کا کفیل ہوتا تھا۔ صرف لاہور ہی نہیں ملک کی مثبت معاشی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈالتا تھا۔ دنیا بھر سے لوگ اسے منانے ملک میں اتے تھے۔ اسے تو آپ نے کسی عظمی عالیہ کے کہنے پر کھڈے لائن لگا دیا، لیکن کراچی کی ثقافت ایک ہمہ گیر ثقافت ہے اور صدیوں سے رائج ہے۔ منھ میں گھلنے والا ذائقہ ہے، اردو کی لاج ہے۔ خواص اور عام کے دہن کا تاج ہے۔ ایسے میں اتنی نفرت سے “کرانچی” کو لاہور بنانے کا دعوی، اے صاحب مناسب بات نہیں۔ اتنی نخوت اور کروفر تو کراچی والوں کی شان نہیں اور نا ہی برداشت کرتے ہیں۔

اگر، بقول اپکے، کرانچی کو کچھ دینا ہے تو اسکا حق دلوائیں۔ اسکو وفاق میں سے جائز حصہ دلوائیں، سیاسی مخاصمت سے پرہیز اور یہاں کے باسیوں کو سیاست کرنے کی آزادی دلوائیں۔ یہاں کے جوان لاشوں کو انصاف دلوائیں۔ بیواؤں کی اجڑی مانگ کا دلاسہ بنیں۔ یوم شہدا منانے کی آزادی دلوائیں، رہبر قوم الطاف حسین کی تحریر، تقریر اور آواز سے غیر آئینی پابندی ہٹوائیں۔

بھیک نہیں مانگتے، حق مانگتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ کراچی والے آپ کو کس طرح دیدہ و دل فرش راہ ملینگے۔

چھوٹے میاں صاحب، آپ کی اطلاع کیلیئے، یہی پان کھانے والوں نے مچھیروں کی بستی کو کراچی بنایا ہے جسے آپ خواہ مخواہ چچا چھکن کیطرح لاہور بنانا چاہتے ہیں۔ اپنا بھاشن سنبھالیئے جناب! جنوبی پنجاب والوں کو اپکے بڑھکوں کی ذیادہ ضرورت ہے۔

!حضور، ہم کراچی والے پان کھاتے ہیں، کھوتا نہیں


جاوید اختر ○